مع الحديث الشريف - المحتسب
مع الحديث الشريف - المحتسب

نحييكم جميعا أيها الأحبة في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته ...

0:00 0:00
Speed:
June 25, 2024

مع الحديث الشريف - المحتسب

مع الحديث الشريف

المحتسب

نحييكم جميعا أيها الأحبة في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

روى مسلم في صحيحه قال:

"وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ:

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟ قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ كَيْ يَرَاهُ النَّاسُ، مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي"

جاء في كتاب شرح النووي على مسلم:

قَوْله: (صُبْرَةٌ مِنْ طَعَامٍ)

هِيَ بِضَمِّ الصَّاد وَإِسْكَان الْبَاء. قَالَ الْأَزْهَرِيُّ: الصُّبْرَةُ الْكَوْمَةُ الْمَجْمُوعَةُ مِنْ الطَّعَامِ. سُمِّيَتْ صُبْرَةً لِإِفْرَاغِ بَعْضهَا عَلَى بَعْض. وَمِنْهُ قِيلَ لِلسَّحَابِ فَوْق السَّحَاب (صَبِير).

وَقَوْله فِي الْحَدِيث (أَصَابَتْهُ السَّمَاء): أَيْ الْمَطَرُ.

أحبّتنا الكرام:

في هذا الحديث الشريف يتولى صلى الله عليه وسلم بنفسه حماية الحقوق العامة، ومنع الاعتداء عليها، فهو قد تفقد صبرة الطعام بوضع يده داخلها فلما وجد البلل أمر البائع بإظهار هذا البلل للناس وعدم إخفائه، لأن في إخفائه خداع للناس وإضرار بهم، وهذا الحديث دليل على مشروعية الحسبة، وبيان لعمل المحتسب. فالمحتسب هو القاضي الذي ينظر في كافة القضايا التي هي حقوق عامة ولا يوجد فيها مدع، على أن لا تكون هذه القضايا داخلة في الحدود أو الجنايات لأنها خصومات بين الناس في الأصل وليست حقوقا عامة .... أما أنه يشمل جميع الحقوق العامة وليس الغش فقط فعمله صلى الله عليه وسلم، فقد روى أبو داوود في سننه عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ قَالَ: "كُنَّا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْحَلْفُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ"

فهنا أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم التجار بالصدق في تجارتهم وبالصدقة.

وروى البخاري في صحيحه عن سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ عَنْ الصَّرْفِ يَداً بِيَدٍ فَقَالَ: اشْتَرَيْتُ أَنَا وَشَرِيكٌ لِي شَيْئاً يَداً بِيَدٍ وَنَسِيئَةً، فَجَاءَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ: فَعَلْتُ أَنَا وَشَرِيكِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ وَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: "مَا كَانَ يَداً بِيَدٍ فَخُذُوهُ وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَذَرُوهُ" وهنا منع الطرفين المتبايعين من ربا النسيئة.

هذه الأحاديث تبين أن الرسول صلى الله عليه وسلم فصل في الخصومات التي تضر حق الجماعة، أما تسمية هذا القضاء بالحسبة فهو تسمية اصطلاحية، وهو يعني مراقبة التجار وأرباب الحرف لمنعهم من الغش في تجارتهم وعملهم ومصنوعاتهم وأخذهم باستعمال المكاييل والموازين وغير ذلك مما يضر الجماعة.

وكما قام الرسول بنفسه بقضاء الحسبة فقد عين من يقوم به نيابة عنه .. فقد جاء في طبقات ابن سعد وفي الاستيعاب لابن عبد البر أنه صلى الله عليه وسلم استعمل سعيد بن العاص على سوق مكة بعد الفتح ... ونقل مالك في موطئه والشافعي في مسنده أن عمر بن الخطاب استعمل الشفاء وهي أم سليمان بن أبي حثمة قاضياً على السوق أي قاضي حسبة، كما عين عبد الله بن عتبة على سوق المدينة  ... كما كان رضي الله عنه يقوم بقضاء الحسبة بنفسه فيطوف في الأسواق كما كان يفعل رسول الله صلى الله عليه وسلم ... ولقد استمر الخلفاء يقومون بالحسبة إلى أن جاء المهدي فجعل للحسبة جهازاً خاصاً فصارت من أجهزة القضاء.

صلاحيات المحتسب:

1- لا يحتاج المحتسب إلى مجلس قضاء حتى ينظر في الدعوى، بل يحكم في المخالفة بمجرد حدوثها، وله أن يحكم في أي مكان أو زمان: في البيت أو السوق أو السيارة، في الليل أو النهار، ودليله فعل الرسول صلى الله عليه وسلم ... فقد كان يتجول في السوق ويقضي في المخالفة حال علمه بها .... فلم يستدع صاحب الصبرة إلى مجلس قضاء، بل أمره بإظهار البلل حال رؤيته له.

2- لا يحتاج المحتسب إلى مدع أو مدعى عليه، بل يتصدى لأي حق عام اعتدي عليه أو أي مخالفة شرعية، دون انتظار مدع يرفع الأمر له ... فهذا ما كان يفعله صلى الله عليه وسلم ...  وهو التصدي للمخالفات والاعتداء على الحقوق العامة، وإزالتها حالاً في نفس الزمان والمكان، دون انتظار مدع أو استدعاء المخالف أو المعتدي إلى مجلس قضاء.

3- يصطحب المحتسب أفرادا من الشرطة لتنفيذ أحكامه حال إصدارها.

فقضية المحتسب هي حق عام اعتدي عليه أو مخالفة شرعية وقعت وعمله هو رفع الاعتداء ومنع المخالفات ووسيلته في ذلك هم الشرطة.

4- إن اشتمل تعيين المحتسب على أن له حق تعيين نواب عنه فله أن يختار نوابا عنه تتوفر فيهم شروط المحتسب يوزعهم في الجهات المختلفة وتكون لهؤلاء النواب صلاحية القيام بوظيفة الحسبة في المنطقة أو المحلة التي عينت لهم أو القضايا التي فوضوا فيها ....لكن إن لم يشتمل تعيينه على هذا الحق فإنه لا يملك صلاحية تعيين نواب له.

أحبّتنا الكرام، وإلى حين أن نلقاكم مع حديث نبوي آخر، نترككم في رعاية الله، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

More from فقہ

مع الحديث الشريف - أتدرون من المفلس

حدیث شریف کے ساتھ

کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے معزز سامعین، اللہ آپ پر رحمت فرمائے، آپ کے ساتھ ہماری ملاقات اور ہمارا پروگرام "حدیث شریف کے ساتھ" تجدید ہوتا ہے، اور ہم اپنی قسط کا آغاز بہترین انداز میں اسلام کے سلام سے کرتے ہیں، تو السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

مسند احمد - بَاقِي مُسْنَدِ الْمُكْثِرِينَ میں آیا ہے - میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکوٰة لے کر آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا۔

  ہمیں عبدالرحمن نے زہیر سے، انہوں نے العلاء سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟" انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں اور نہ سامان۔ آپ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا تو اسے بٹھایا جائے گا، پس یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا اور یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا، پھر اگر اس کی نیکیاں اس پر واجب خطاؤں کو ادا کرنے سے پہلے ختم ہو گئیں تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔"

یہ حدیث دوسری اہم احادیث کی طرح ہے جس کا معنی سمجھنا اور ادراک کرنا ضروری ہے، تو لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنی نماز، روزے اور زکوٰة کے باوجود مفلس ہے، کیونکہ اس نے کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا اور کسی کو مارا۔

اور اس کا افلاس یہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں جو اس کا سرمایہ ہیں لے لی جائیں گی اور اس کو دی جائیں گی اور اس کی گالی گلوچ، تہمت اور مار پیٹ کی قیمت اس سے ادا کی جائے گی، اور جب اس کی نیکیاں اس پر واجب حقوق ادا کرنے سے پہلے ختم ہو جائیں گی تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔

اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے پوچھا کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ کیا تم جانتے ہو یعنی کیا تم امور کے باطن کا علم رکھتے ہو، کیا تم جانتے ہو کہ حقیقی مفلس کون ہے؟ یہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: "غنا اور فقر اللہ کے سامنے پیش ہونے کے بعد ہے" جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر جواب دیا کہ ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہے اور نہ سامان، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی نظر میں مفلس ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، .... آپ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا...

اور یہ سیدنا عمر کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نماز پڑھے لیکن اہم چیز استقامت ہے، کیونکہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰة یہ عبادات ہیں جنہیں انسان خلوص نیت سے بھی کر سکتا ہے اور دکھاوے کے لیے بھی، لیکن مرکز ثقل یہ ہے کہ اللہ کے حکم پر قائم رہا جائے۔

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے، اور ہمیں اپنے متقی بندوں میں سے بنائے، اور ہماری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے، اور ہمیں پیشی کے دن رسوا نہ کرے، اے اللہ آمین

معزز سامعین، اور آپ سے ایک اور نبوی حدیث کے ساتھ ملاقات ہونے تک، ہم آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ ریڈیو کے لیے لکھا گیا ہے

عفراء تراب

مع الحديث الشريف - المنافقون وأعمالهم الشريرة

مع الحديث الشريف

منافقین اور ان کے بُرے اعمال

ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں، اے پیارے لوگو ہر جگہ، آپ کے پروگرام "مع الحديث الشريف" کی ایک نئی قسط میں اور ہم بہترین سلام کے ساتھ آغاز کرتے ہیں، پس السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کو سردار نہ کہو، کیونکہ اگر وہ سردار ہوا تو تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کر دیا۔“ اسے ابو داؤد نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔

اے معزز سامعین

یقینا بہترین کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اور بہترین رہنمائی اس کے نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہے، اس کے بعد،

یہ حدیث شریف ہمیں ان منافقوں سے نمٹنے کے طریقے کی طرف رہنمائی کرتی ہے جنہیں ہم جانتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ واحد شخص تھے جو تمام منافقوں کو ان کے ناموں سے جانتے تھے، لیکن ہم ان میں سے کچھ کو ان کی صفات سے جان سکتے ہیں، جیسے وہ جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا کہ وہ فرائض کو سستی سے اور بادل ناخواستہ انجام دیتے ہیں، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کرتے ہیں، فتنوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور برائی کو پھیلانا پسند کرتے ہیں، اس کی دعوت دے کر، اس کی حفاظت کرکے اور اس کی نگہداشت کرکے، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں پر جھوٹ بولتے ہیں... اور ان کے علاوہ دیگر جنہوں نے نفاق سے اپنا تعلق جوڑا۔

لہذا ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے جسے شریعت نے اچھا قرار دیا ہے اور جسے برا قرار دیا ہے، تاکہ ہم منافق کو مخلص سے پہچان سکیں، اور اس کے مطابق اس کے خلاف مناسب کارروائی کریں۔ ہمیں اس شخص کی جانب سے محفوظ نہیں ہونا چاہیے جو شریعت کی مخالفت کرتا ہے اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی خاطر یہ سب کچھ کر رہا ہے، اور ہمیں اس کے پیچھے نہیں چلنا چاہیے اور نہ ہی اس کی تائید کرنی چاہیے، اور نہ ہی اس سے کم یہ کہ ہم اسے سردار کہیں، بصورت دیگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سے ناراض ہو جائے گا۔

ہم مسلمانوں کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ فکر مند ہونا چاہیے، اور کسی منافق کو اپنے دین اور اپنے اہل و عیال پر داخل ہونے کا موقع نہیں دینا چاہیے، کیونکہ وہ ان خطرناک چیزوں میں سے ہیں جن کا ہمیں ان دنوں ان کی کثرت اور ان کے متعدد چہروں کی وجہ سے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمیں اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کے اعمال کی پیمائش کرنے کے لیے شرعی میزان کو حاضر رکھنا چاہیے، کیونکہ اسلام ہمارے لیے ان جیسے شریروں سے حفاظت ہے۔

ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری امت کو ان جیسے مجرموں سے محفوظ رکھے، اور ہمیں سیدھے راستے اور صحیح میزان کی طرف رہنمائی فرمائے جس کے ذریعے ہم لوگوں کے رویے کی پیمائش کریں اور ان سے دور رہیں جنہیں اللہ پسند نہیں کرتا، آمین۔

اے ہمارے پیارے، اور جب تک ہم کسی اور نبوی حدیث کے ساتھ آپ سے ملتے ہیں، ہم آپ کو اللہ کی حفاظت میں چھوڑتے ہیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

اسے ریڈیو کے لیے لکھا: ڈاکٹر ماہر صالح