مع الحديث الشريف - الوُلاة
مع الحديث الشريف - الوُلاة

نحييكم جميعا أيها الأحبة في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته ...

0:00 0:00
Speed:
June 26, 2024

مع الحديث الشريف - الوُلاة

مع الحديث الشريف

الوُلاة

نحييكم جميعا أيها الأحبة في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

روى أبو داوود في سننه قال: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ أَحْمَدُ قَالَ مَرَّةً يَعْنِي هُشَيْمًا عَنْ بَعْضِ وَلَدِ الْعَلَاءِ أَنَّ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ كَانَ عَامِلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْبَحْرَيْنِ فَكَانَ إِذَا كَتَبَ إِلَيْهِ بَدَأَ بِنَفْسِهِ

روى مسلم في صحيحه قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ ابْنِ حُجَيْرَةَ الْأَكْبَرِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي قَالَ فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى مَنْكِبِي ثُمَّ قَالَ: "يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّكَ ضَعِيفٌ وَإِنَّهَا أَمَانَةُ وَإِنَّهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ إِلَّا مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا"

جاء في شرح النووي على مسلم:

قَوْله صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (يَا أَبَا ذَرّ إِنَّك ضَعِيف، وَإِنَّهَا أَمَانَة، وَإِنَّهَا يَوْم الْقِيَامَة خِزْي وَنَدَامَة إِلَّا مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا)

وَفِي الرِّوَايَة الْأُخْرَى: (يَا أَبَا ذَرّ إِنِّي أَرَاك ضَعِيفاً، وَإِنِّي أُحِبّ لَك مَا أُحِبّ لِنَفْسِي، لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اِثْنَيْنِ، وَلَا تُوَلَّيَنَّ مَال يَتِيم)،

هَذَا الْحَدِيث أَصْل عَظِيم فِي اِجْتِنَاب الْوِلَايَات، لَا سِيَّمَا لِمَنْ كَانَ فِيهِ ضَعْف عَنْ الْقِيَام بِوَظَائِفِ تِلْكَ الْوِلَايَة، وَأَمَّا الْخِزْي وَالنَّدَامَة فَهُوَ حَقّ مَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلاً لَهَا، أَوْ كَانَ أَهْلاً وَلَمْ يَعْدِل فِيهَا فَيُخْزِيه اللَّه تَعَالَى يَوْم الْقِيَامَة وَيَفْضَحهُ، وَيَنْدَم عَلَى مَا فَرَّطَ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ أَهْلاً لِلْوِلَايَةِ، وَعَدَلَ فِيهَا، فَلَهُ فَضْل عَظِيم، تَظَاهَرَتْ بِهِ الْأَحَادِيث الصَّحِيحَة كَحَدِيثِ: "سَبْعَة يُظِلّهُمْ اللَّه" وَالْحَدِيث الْمَذْكُور هُنَا عَقِب هَذَا "أَنَّ الْمُقْسِطِينَ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُور" وَغَيْر ذَلِكَ، وَإِجْمَاع الْمُسْلِمِينَ مُنْعَقِد عَلَيْهِ، وَمَعَ هَذَا فَلِكَثْرَةِ الْخَطَر فِيهَا حَذَّرَهُ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا، وَكَذَا حَذَّرَ الْعُلَمَاء، وَامْتَنَعَ مِنْهَا خَلَائِق مِنْ السَّلَف، وَصَبَرُوا عَلَى الْأَذَى حِين اِمْتَنَعُوا.

أحبّتنا الكرام:

استعمل رسول الله صلى الله عليه وسلم الولاة على البلاد التي كان يفتحها الله عليهم، فعلى سبيل المثال لا الحصر: ولى عتاب بن أسيد على مكة، وولى عمرو بن حزم على اليمن، وولى زياد بن لبيد الأنصاري على حضرموت،  ...

والوالي هو: الشخص الذي يقلده الخليفة حاكماً على ولاية من ولايات دولة الخلافة وأميراً عليها

ويشترط في الوالي ما يشترط في الحاكم: أن يكون رجلاً مسلماً عدلاً حراً بالغاً عاقلاً من أهل الكفاية ..... إذ الولاية هنا تعني الحكم، قال في القاموس المحيط: وَوَلِيَ الشيءَ وَعَلْيِه وِلَايَةً وَوَلَايَةً، أو هي المصدر، وبالكسر: الخُطَّةُ والإمارة والسلطان.

كما يجب أن يتخير الوالي من أهل الصلاح للحكم وأولي العلم المعروفين بالتقوى، وممن يحسنون العمل فيما يُوَلَّوْن، ويشربون قلوب الرعية بالإيمان، ومهابة الدولة، فهكذا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتخير ولاته.

عزل الوالي:

يعزل الوالي إن رأى الخليفة عزله، فقد عزل صلى الله عليه وسلم معاذ بن جبل عن اليمن من غير سبب.

أو إذا أظهر جمهرة أهل الولاية أو من ينوبون عنهم عدم الرضا منه، والسخط عليه فقد عزل رسول الله صلى الله عليه وسلم العلاء بن الحضرمي عامله على البحرين لأن وفد عبد قيس شكاه.

... لذا فإن حزب التحرير في دستوره الذي أعده ليطبق في دولة الخلافة القادمة قريباً بإذن الله، يتبنى أن يُنتخب من أهل الولاية مجلسُ ولاية، لغرضين:

1- مساعدة الوالي في تبصيره بواقع ولايتهم ... فهم أهلها وأعرف بها،

2- أخذ رأي المجلس في حكم الوالي إذا لزم الأمر ... فإذا شكاه المجلس بغالبيته عزله الخليفة ....

أحبّتنا الكرام:

كانت الولاية في العصور الأولى قسمين:

1- ولاية على الصلاة    2- ولاية على الخراج

فإما أن يولى الوالي ولاية عامة: على الصلاة والخراج أو ولاية خاصة: على الصلاة فحسب، أو على الخراج فحسب .... فقد ولى الرسول صلى الله عليه وسلم زياد بن لبيد الأنصاري على حضرموت، وعلى صدقاتها فكانت ولايته ولاية عامة، كما ولى فروة بن مسيك على قبائل مراد ومزبيد ومذبج وبعث معه خالد بن سعيد بن العاص على الصدقة، فكانت ولاية كل منهما ولاية خاصة .... ومن الجدير ذكره أن ولاية الصلاة لا تعني إمامة الناس في صلاتهم فقط بل معناها الولاية عليهم في جميع الأمور ما عدا المال، فكلمة الصلاة كانت تعني الحكم باستثناء جباية الأموال.  

وإنه وإن كان يجوز للخليفة أن يُعّيِّنَ والياً ولاية عامة، وأن يعيِّن والياً ولاية خاصة، إلا أن الحزب تبنى في دستوره تولية الوالي ولاية خاصة فيما عدا الأمور التي تُمَكِّنُ الوالي (إن ضعفت تقواه) من الاستقلال عن الخليفة ... وهذه الأمور هي الجيش والقضاء والمال، فتجعل كل من هذه الأمور الثلاثة أجهزة منفصلة تتبع الخليفة كأي جهاز آخر من أجهزة الدولة، أي مستقلة عن الوالي، ذلك لما ثبت أيام ضعف الخلافة العباسية أن الولاية العامة مكنت الولاة من الاستقلال بولاياتهم حتى لم يبق للخليفة عليها سوى الدعاء باسمه، وسك النقود باسمه، فكانت الولاية العامة سبباً في الحاق الضرر بالدولة الإسلامية.

انتقال الوالي من ولاية إلى أخرى:

لا ينقل الوالي من ولاية إلى أخرى لكن يعفى ويولى ثانية، وذلك لأن الرسول r كان يعزل الولاة، ولم يُروَ عنه أنه نقل والياً من مكان إلى مكان.

تحري الخليفة لأعمال الولاة ومراقبتهم:

على الخليفة أن يتحرى أعمال الولاة وأن يكون شديد المراقبة لهم، سواء أكان ذلك منه مباشرة، أم بتعيين من ينوب عنه للكشف عن أحوالهم، والتفتيش عليهم، وكذلك فإن لمعاون التفويض مراقبة أعمال الولاة في الولايات التي هو معاون فيها وأن يطالع الخليفة بما يراه من أحوالهم، وبما أمضاه من تدبير اتجاههم .... كما أن على الخليفة أن يجمع ولاته جميعاً أو أشتاتا وأن يصغي إلى شكاوى الرعية منهم .... فقد كان الرسول صلى الله عليه وسلم يختبر الولاة حين يوليهم، ويبين لهم كيف يسيرون، وينبههم إلى بعض الأمور المهمة، كما كان يحاسب الولاة ويكشف عن أحوالهم، ويسمع ما ينقل إليه من أخبارهم، وكان يحاسب الولاة على المستخرج والمصرف ...  روى البخاري في صحيحه عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ:

"اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ يُدْعَى ابْنَ الْلَّتَبِيَّةِ فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ قَالَ هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَلَّا جَلَسْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ هَدِيَّتُكَ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا".

هؤلاء هم الولاة ... الجهاز الرابع من أجهزة دولة الخلافة ... وهذه هي الأحكام التي أحاطتهم وحمتهم من فتنة الحكم والسلطان ... نسأل الله تعالى العلي العظيم أن يعجل لنا بالنصر والتمكين ... فنرى دولة الخلافة قائمة .... بأجهزتها ورجالها الساهرين على مصالح المسلمين .... والحاملين لرسالة الإسلام إلى العالمين.

أحبّتنا الكرام، وإلى حين أن نلقاكم مع حديث نبوي آخر، نترككم في رعاية الله، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

More from فقہ

مع الحديث الشريف - أتدرون من المفلس

حدیث شریف کے ساتھ

کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے معزز سامعین، اللہ آپ پر رحمت فرمائے، آپ کے ساتھ ہماری ملاقات اور ہمارا پروگرام "حدیث شریف کے ساتھ" تجدید ہوتا ہے، اور ہم اپنی قسط کا آغاز بہترین انداز میں اسلام کے سلام سے کرتے ہیں، تو السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

مسند احمد - بَاقِي مُسْنَدِ الْمُكْثِرِينَ میں آیا ہے - میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکوٰة لے کر آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا۔

  ہمیں عبدالرحمن نے زہیر سے، انہوں نے العلاء سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟" انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں اور نہ سامان۔ آپ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا تو اسے بٹھایا جائے گا، پس یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا اور یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا، پھر اگر اس کی نیکیاں اس پر واجب خطاؤں کو ادا کرنے سے پہلے ختم ہو گئیں تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔"

یہ حدیث دوسری اہم احادیث کی طرح ہے جس کا معنی سمجھنا اور ادراک کرنا ضروری ہے، تو لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنی نماز، روزے اور زکوٰة کے باوجود مفلس ہے، کیونکہ اس نے کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا اور کسی کو مارا۔

اور اس کا افلاس یہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں جو اس کا سرمایہ ہیں لے لی جائیں گی اور اس کو دی جائیں گی اور اس کی گالی گلوچ، تہمت اور مار پیٹ کی قیمت اس سے ادا کی جائے گی، اور جب اس کی نیکیاں اس پر واجب حقوق ادا کرنے سے پہلے ختم ہو جائیں گی تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔

اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے پوچھا کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ کیا تم جانتے ہو یعنی کیا تم امور کے باطن کا علم رکھتے ہو، کیا تم جانتے ہو کہ حقیقی مفلس کون ہے؟ یہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: "غنا اور فقر اللہ کے سامنے پیش ہونے کے بعد ہے" جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر جواب دیا کہ ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہے اور نہ سامان، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی نظر میں مفلس ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، .... آپ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا...

اور یہ سیدنا عمر کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نماز پڑھے لیکن اہم چیز استقامت ہے، کیونکہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰة یہ عبادات ہیں جنہیں انسان خلوص نیت سے بھی کر سکتا ہے اور دکھاوے کے لیے بھی، لیکن مرکز ثقل یہ ہے کہ اللہ کے حکم پر قائم رہا جائے۔

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے، اور ہمیں اپنے متقی بندوں میں سے بنائے، اور ہماری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے، اور ہمیں پیشی کے دن رسوا نہ کرے، اے اللہ آمین

معزز سامعین، اور آپ سے ایک اور نبوی حدیث کے ساتھ ملاقات ہونے تک، ہم آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ ریڈیو کے لیے لکھا گیا ہے

عفراء تراب

مع الحديث الشريف - المنافقون وأعمالهم الشريرة

مع الحديث الشريف

منافقین اور ان کے بُرے اعمال

ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں، اے پیارے لوگو ہر جگہ، آپ کے پروگرام "مع الحديث الشريف" کی ایک نئی قسط میں اور ہم بہترین سلام کے ساتھ آغاز کرتے ہیں، پس السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کو سردار نہ کہو، کیونکہ اگر وہ سردار ہوا تو تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کر دیا۔“ اسے ابو داؤد نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔

اے معزز سامعین

یقینا بہترین کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اور بہترین رہنمائی اس کے نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہے، اس کے بعد،

یہ حدیث شریف ہمیں ان منافقوں سے نمٹنے کے طریقے کی طرف رہنمائی کرتی ہے جنہیں ہم جانتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ واحد شخص تھے جو تمام منافقوں کو ان کے ناموں سے جانتے تھے، لیکن ہم ان میں سے کچھ کو ان کی صفات سے جان سکتے ہیں، جیسے وہ جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا کہ وہ فرائض کو سستی سے اور بادل ناخواستہ انجام دیتے ہیں، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کرتے ہیں، فتنوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور برائی کو پھیلانا پسند کرتے ہیں، اس کی دعوت دے کر، اس کی حفاظت کرکے اور اس کی نگہداشت کرکے، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں پر جھوٹ بولتے ہیں... اور ان کے علاوہ دیگر جنہوں نے نفاق سے اپنا تعلق جوڑا۔

لہذا ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے جسے شریعت نے اچھا قرار دیا ہے اور جسے برا قرار دیا ہے، تاکہ ہم منافق کو مخلص سے پہچان سکیں، اور اس کے مطابق اس کے خلاف مناسب کارروائی کریں۔ ہمیں اس شخص کی جانب سے محفوظ نہیں ہونا چاہیے جو شریعت کی مخالفت کرتا ہے اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی خاطر یہ سب کچھ کر رہا ہے، اور ہمیں اس کے پیچھے نہیں چلنا چاہیے اور نہ ہی اس کی تائید کرنی چاہیے، اور نہ ہی اس سے کم یہ کہ ہم اسے سردار کہیں، بصورت دیگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سے ناراض ہو جائے گا۔

ہم مسلمانوں کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ فکر مند ہونا چاہیے، اور کسی منافق کو اپنے دین اور اپنے اہل و عیال پر داخل ہونے کا موقع نہیں دینا چاہیے، کیونکہ وہ ان خطرناک چیزوں میں سے ہیں جن کا ہمیں ان دنوں ان کی کثرت اور ان کے متعدد چہروں کی وجہ سے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمیں اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کے اعمال کی پیمائش کرنے کے لیے شرعی میزان کو حاضر رکھنا چاہیے، کیونکہ اسلام ہمارے لیے ان جیسے شریروں سے حفاظت ہے۔

ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری امت کو ان جیسے مجرموں سے محفوظ رکھے، اور ہمیں سیدھے راستے اور صحیح میزان کی طرف رہنمائی فرمائے جس کے ذریعے ہم لوگوں کے رویے کی پیمائش کریں اور ان سے دور رہیں جنہیں اللہ پسند نہیں کرتا، آمین۔

اے ہمارے پیارے، اور جب تک ہم کسی اور نبوی حدیث کے ساتھ آپ سے ملتے ہیں، ہم آپ کو اللہ کی حفاظت میں چھوڑتے ہیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

اسے ریڈیو کے لیے لکھا: ڈاکٹر ماہر صالح