مع الحديث الشريف - عرض الفتن على القلوب
مع الحديث الشريف - عرض الفتن على القلوب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ أَيُّكُمْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْفِتَنَ؟ فَقَالَ قَوْمٌ: نَحْنُ سَمِعْنَاهُ، فَقَالَ: لَعَلَّكُمْ تَعْنُونَ فِتْنَةَ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَجَارِهِ، قَالُوا: أَجَلْ، قَالَ: تِلْكَ تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ وَلَكِنْ أَيُّكُمْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْفِتَنَ الَّتِي تَمُوجُ مَوْجَ الْبَحْرِ؟ قَالَ حُذَيْفَةُ: فَأَسْكَتَ الْقَوْمُ، فَقُلْتُ: أَنَا، قَالَ: أَنْتَ لِلَّهِ أَبُوكَ، قَالَ حُذَيْفَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوبِ كَالْحَصِيرِ عُودًا عُودًا، فَأَيُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ وَأَيُّ قَلْبٍ أَنْكَرَهَا نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ بَيْضَاءُ، حَتَّى تَصِيرَ عَلَى قَلْبَيْنِ عَلَى أَبْيَضَ مِثْلِ الصَّفَا فَلَا تَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتْ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، وَالْآخَرُ أَسْوَدُ مُرْبَادًّا كَالْكُوزِ مُجَخِّيًا لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا إِلَّا مَا أُشْرِبَ مِنْ هواه"

0:00 0:00
Speed:
March 11, 2015

مع الحديث الشريف - عرض الفتن على القلوب

 مع الحديث الشريف

عرض الفتن على القلوب

نحييكم جميعا أيها الأحبة المستمعون في كل مكان في حلقة جديدة من برنامجكم "معالحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ أَيُّكُمْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْفِتَنَ؟ فَقَالَ قَوْمٌ: نَحْنُ سَمِعْنَاهُ، فَقَالَ: لَعَلَّكُمْ تَعْنُونَ فِتْنَةَ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَجَارِهِ، قَالُوا: أَجَلْ، قَالَ: تِلْكَ تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ وَلَكِنْ أَيُّكُمْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْفِتَنَ الَّتِي تَمُوجُ مَوْجَ الْبَحْرِ؟ قَالَ حُذَيْفَةُ: فَأَسْكَتَ الْقَوْمُ، فَقُلْتُ: أَنَا، قَالَ: أَنْتَ لِلَّهِ أَبُوكَ، قَالَ حُذَيْفَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوبِ كَالْحَصِيرِ عُودًا عُودًا، فَأَيُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ وَأَيُّ قَلْبٍ أَنْكَرَهَا نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ بَيْضَاءُ، حَتَّى تَصِيرَ عَلَى قَلْبَيْنِ عَلَى أَبْيَضَ مِثْلِ الصَّفَا فَلَا تَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتْ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، وَالْآخَرُ أَسْوَدُ مُرْبَادًّا كَالْكُوزِ مُجَخِّيًا لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا إِلَّا مَا أُشْرِبَ مِنْ هواه"


رواه مسلم


قَالَ أَبُو خَالِدٍ: فَقُلْتُ لِسَعْدٍ: يَا أَبَا مَالِكٍ مَا أَسْوَدُ مُرْبَادًّا؟ قَالَ: شِدَّةُ الْبَيَاضِ فِي سَوَادٍ، قَالَ: قُلْتُ: فَمَا الْكُوزُ مُجَخِّيًا؟ قَالَ: مَنْكُوسًا


ومعنى تعرض الفتن: أنها تلصق بعرض القلوب، أي جانبها كما يلصق الحصير بجنب النائم ويؤثر فيه شدة التصاقها به، وقيل معنى عودا عودا: أي تعادوتكرر شيئا بعد شيء، وقوله كالحصير: أي كما ينسج الحصير عودا عودا وشظية بعد أخرى


وقال الخطابي معناه: تظهر على القلوب أي تظهر بها فتنة بعد أخرى، كما ينسج الحصير عودا عوداوشظية بعد أخرى.


وقال القاضي عياض: وذلك أن ناسج الحصير عند العرب كلما صنع عودا أخذ آخر ونسجه فشبه عرض الفتن على القلوب واحدة بعد أخرى بعرض قضبان

الحصير على صانعها واحدا بعدواحد وقوله صلى الله عليه وسلم: فأي قلب أشربها نكت فيه نكتة سوداء وأي قلب أنكرها نكت فيه نكتة بيضاء، معنى أشربها:

دخلت فيه دخولا تاما وألزمهاوحلت منه محل الشراب، ومعنى نكت نكتة: نقط نقطة


أما قوله صلى الله عليه وسلم:(حتى تصير على قلبين على أبيض مثل الصفا فلا تضره فتنة ما دامت السماوات والأرض والآخر أسود مربادا كالكوز مجخيا لا يعرف معروفا ولا ينكر منكرا إلا ما أشرب من هواه)

أي تصير قلوب أهل ذلك الزمان، أو يصير الإنسان باعتبار قلبه، أو يصير قلبه على قلبين أو صنفين أحدهما أبيض مثل (الصفا) أي : مثل الحجر المرمر الأملس من غاية البياض والصفا، والآخر (أسود مرباد) أي: صار كلون الر‌‌ماد، من الربدة لون بين السواد والغبرة شبهه ب (كوزا مجخيا) أي: مشبها من هو خال من العلوم والمعارف بكوز مائل لا يثبت فيه شيء ولا يستقر، فلم يبق فيه عرفان ما هو معروف ولا إنكار ما هو منكر إلا (ما أشرب) أي القلب(من هواه) أي: فيتبعه طبعا من غير ملاحظة كونه معروفا أو منكرا شرعا.


قال القاضي عياض رحمه الله: ليس تشبيهه بالصفا بيانا لبياضه لكن صفة أخرى لشدته على عقد الإيمان وسلامته من الخلل، وأن الفتن لم تلصق به ولم تؤثر فيه كالصفا وهو الحجر الأملس الذي لا يعلق به شيء، قال القاضي - رحمه الله -شبه القلب الذي لا يعي خيرا بالكوز المنحرف الذي لا يثبت الماء فيه، وقال صاحب التحرير معنى الحديث: أن الرجل إذا تبع هواه وارتكب المعاصي دخل قلبه بكل معصية يتعاطاها ظلمة وإذا صار كذلك افتتن وزال عنه نور الإسلام والقلب، مثل الكوز فإذا انكب انصب ما فيه ولم يدخله شيء بعد ذلك

ومما ر واه الترمذي


(إِنَّ الْمُؤمِنَ إِذَا أَذْنَبَ ذَنْبًا كَانَتْ نُكْتَةً سَوْدَاءَ فِي قَلْبِهِ، فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَعْتَبَ صَقِلَ قَلْبُهُ وَإِنْ زَادَ زَادَتْ حَتَّى تَعْلُوَ قَلْبَهُ، فَذلِكَ الرَّانُ الَّذِي قَالَ اللهُ تَعَالى: }كَلاَّ بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَّا كَانُواْ يَكْسِبُون{)


ومعنى الران:-


قال مجاهد: هو الرجل يذنب الذنب، فيحيط الذنب بقلبه، ثم يذنب الذنب فيحيط الذنب بقلبه، حتى تغشي الذنوب قلبه .. ونحوه عن الفراء; قال: يقول كثرت المعاصي منهم والذنوب، فأحاطت بقلوبهم، فذلك الرين عليها. وروي عن مجاهد أيضا قال: القلب مثل الكف ورفع كفه، فإذا أذنب العبد الذنب انقبض، وضم إصبعه، فإذا أذنب الذنب انقبض، وضم أخرى، حتى ضم أصابعه كلها، حتى يطبع على قلبه.


يا خير أمة أخرجت للناس: كونوا صابرين محتسبين راضين بأمر الله مروا بالمعروف وانهوا عن المنكر، اجعلوا قلوبكم متعلقة بما عند الله وبلقاء الأحبة محمد وصحبه وغير متعلق بهذه الفانية الزائلة فلسوف يعطيكم ربكم فترضون والعاقبة للتقوى،اشحذوا هممكم وشمروا عن سواعدكم لتقفوا في وجه النظم الظالمة الباغية، فقد تكفل الله بحفظكم ومؤازرتكم، إن جند الله امتطوا ظهور الخيل لنصرة أتباع الحق، لا تحزنوا لما أصابكم ولا تحزنوا لما فاتكم، آن الأوان أن نتطلعإلى الفردوس الأعلى


اللهم عمِّر قلوبنا بالإيمان وثبت قلبنا على دينك وحسبنا الله ونعم الوكيل


والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

More from فقہ

مع الحديث الشريف - أتدرون من المفلس

حدیث شریف کے ساتھ

کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے معزز سامعین، اللہ آپ پر رحمت فرمائے، آپ کے ساتھ ہماری ملاقات اور ہمارا پروگرام "حدیث شریف کے ساتھ" تجدید ہوتا ہے، اور ہم اپنی قسط کا آغاز بہترین انداز میں اسلام کے سلام سے کرتے ہیں، تو السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

مسند احمد - بَاقِي مُسْنَدِ الْمُكْثِرِينَ میں آیا ہے - میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکوٰة لے کر آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا۔

  ہمیں عبدالرحمن نے زہیر سے، انہوں نے العلاء سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟" انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں اور نہ سامان۔ آپ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا تو اسے بٹھایا جائے گا، پس یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا اور یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا، پھر اگر اس کی نیکیاں اس پر واجب خطاؤں کو ادا کرنے سے پہلے ختم ہو گئیں تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔"

یہ حدیث دوسری اہم احادیث کی طرح ہے جس کا معنی سمجھنا اور ادراک کرنا ضروری ہے، تو لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنی نماز، روزے اور زکوٰة کے باوجود مفلس ہے، کیونکہ اس نے کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا اور کسی کو مارا۔

اور اس کا افلاس یہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں جو اس کا سرمایہ ہیں لے لی جائیں گی اور اس کو دی جائیں گی اور اس کی گالی گلوچ، تہمت اور مار پیٹ کی قیمت اس سے ادا کی جائے گی، اور جب اس کی نیکیاں اس پر واجب حقوق ادا کرنے سے پہلے ختم ہو جائیں گی تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔

اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے پوچھا کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ کیا تم جانتے ہو یعنی کیا تم امور کے باطن کا علم رکھتے ہو، کیا تم جانتے ہو کہ حقیقی مفلس کون ہے؟ یہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: "غنا اور فقر اللہ کے سامنے پیش ہونے کے بعد ہے" جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر جواب دیا کہ ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہے اور نہ سامان، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی نظر میں مفلس ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، .... آپ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا...

اور یہ سیدنا عمر کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نماز پڑھے لیکن اہم چیز استقامت ہے، کیونکہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰة یہ عبادات ہیں جنہیں انسان خلوص نیت سے بھی کر سکتا ہے اور دکھاوے کے لیے بھی، لیکن مرکز ثقل یہ ہے کہ اللہ کے حکم پر قائم رہا جائے۔

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے، اور ہمیں اپنے متقی بندوں میں سے بنائے، اور ہماری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے، اور ہمیں پیشی کے دن رسوا نہ کرے، اے اللہ آمین

معزز سامعین، اور آپ سے ایک اور نبوی حدیث کے ساتھ ملاقات ہونے تک، ہم آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ ریڈیو کے لیے لکھا گیا ہے

عفراء تراب

مع الحديث الشريف - المنافقون وأعمالهم الشريرة

مع الحديث الشريف

منافقین اور ان کے بُرے اعمال

ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں، اے پیارے لوگو ہر جگہ، آپ کے پروگرام "مع الحديث الشريف" کی ایک نئی قسط میں اور ہم بہترین سلام کے ساتھ آغاز کرتے ہیں، پس السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کو سردار نہ کہو، کیونکہ اگر وہ سردار ہوا تو تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کر دیا۔“ اسے ابو داؤد نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔

اے معزز سامعین

یقینا بہترین کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اور بہترین رہنمائی اس کے نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہے، اس کے بعد،

یہ حدیث شریف ہمیں ان منافقوں سے نمٹنے کے طریقے کی طرف رہنمائی کرتی ہے جنہیں ہم جانتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ واحد شخص تھے جو تمام منافقوں کو ان کے ناموں سے جانتے تھے، لیکن ہم ان میں سے کچھ کو ان کی صفات سے جان سکتے ہیں، جیسے وہ جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا کہ وہ فرائض کو سستی سے اور بادل ناخواستہ انجام دیتے ہیں، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کرتے ہیں، فتنوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور برائی کو پھیلانا پسند کرتے ہیں، اس کی دعوت دے کر، اس کی حفاظت کرکے اور اس کی نگہداشت کرکے، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں پر جھوٹ بولتے ہیں... اور ان کے علاوہ دیگر جنہوں نے نفاق سے اپنا تعلق جوڑا۔

لہذا ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے جسے شریعت نے اچھا قرار دیا ہے اور جسے برا قرار دیا ہے، تاکہ ہم منافق کو مخلص سے پہچان سکیں، اور اس کے مطابق اس کے خلاف مناسب کارروائی کریں۔ ہمیں اس شخص کی جانب سے محفوظ نہیں ہونا چاہیے جو شریعت کی مخالفت کرتا ہے اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی خاطر یہ سب کچھ کر رہا ہے، اور ہمیں اس کے پیچھے نہیں چلنا چاہیے اور نہ ہی اس کی تائید کرنی چاہیے، اور نہ ہی اس سے کم یہ کہ ہم اسے سردار کہیں، بصورت دیگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سے ناراض ہو جائے گا۔

ہم مسلمانوں کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ فکر مند ہونا چاہیے، اور کسی منافق کو اپنے دین اور اپنے اہل و عیال پر داخل ہونے کا موقع نہیں دینا چاہیے، کیونکہ وہ ان خطرناک چیزوں میں سے ہیں جن کا ہمیں ان دنوں ان کی کثرت اور ان کے متعدد چہروں کی وجہ سے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمیں اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کے اعمال کی پیمائش کرنے کے لیے شرعی میزان کو حاضر رکھنا چاہیے، کیونکہ اسلام ہمارے لیے ان جیسے شریروں سے حفاظت ہے۔

ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری امت کو ان جیسے مجرموں سے محفوظ رکھے، اور ہمیں سیدھے راستے اور صحیح میزان کی طرف رہنمائی فرمائے جس کے ذریعے ہم لوگوں کے رویے کی پیمائش کریں اور ان سے دور رہیں جنہیں اللہ پسند نہیں کرتا، آمین۔

اے ہمارے پیارے، اور جب تک ہم کسی اور نبوی حدیث کے ساتھ آپ سے ملتے ہیں، ہم آپ کو اللہ کی حفاظت میں چھوڑتے ہیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

اسے ریڈیو کے لیے لکھا: ڈاکٹر ماہر صالح