مع الحدیث الشریف
استوصوا بالنساء خیرا
نحییکم جمیعا ایھا الاحبة المستمعون فی کل مکان، فی حلقة جدیدة من برنامجکم "مع الحدیث الشریف" ونبدأ بخیر تحیة، فالسلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ۔
ورد فی سنن ابن ماجہ - کتاب النکاح - حدثنا أبو بکر بن أبی شیبة حدثنا الحسین بن علی عن زائدة عن شبیب بن غرقدة البارقی عن سلیمان بن عمرو بن الأحوص حدثنی أبی أنه شہد حجة الوداع مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فحمد اللہ وأثنى علیہ وذکر ووعظ ثم قال: "استوصوا بالنساء خیرا فإنہن عندکم عوان لیس تملکون منہن شیئا غیر ذلک إلا أن یأتین بفاحشة مبینة فإن فعلن فاہجروہن فی المضاجع واضربوہن ضربا غیر مبرح فإن أطعنکم فلا تبغوا علیہن سبیلا إن لکم من نسائکم حقا ولنسائکم علیکم حقا فأما حقکم على نسائکم فلا یوطئن فرشکم من تکرہون ولا یأذن فی بیوتکم لمن تکرہون ألا وحقہن علیکم أن تحسنوا إلیہن فی کسوتہن وطعامہن"
ورد فی شرح الحدیث فی کتاب سنن ابن ماجہ بشرح السندی - کتاب النکاح - استوصوا بالنساء خیرا
قولہ: (استوصوا بالنساء خیرا) قیل الاستیصاء قبول الوصیة أی أوصیکم بہن خیرا فاقبلوا وصیتی فیہن، وقال الطیبی: للطلب، أی اطلبوا الوصیة من أنفسکم فی أنفسہن بخیر، أو یطلب بعضکم من بعض بالإحسان فی حقہن والصبر على عوج أخلاقهن بلا سبب، وقیل الاستیصاء بمعنى: الإیصاء.
قولہ: (عوان) جمع عانیة بمعنى: الأسیرة
قولہ: (غیر ذلک) أی غیر الأمر المعهود الذی لأجلہ شرع نکاحہن
قولہ: (إلا أن یأتین إلخ) أی لا تملکون غیر ذلک فی وقت إلا وقت إتیانہن بفاحشة مبینة: أی ظاهرة فحشا وقبحا، والمراد النشوز وشکاسة الخلق وإیذاء الزوج وأہلہ باللسان والید، لا الزنا إذ لا یناسب.
قولہ: (ضربا غیر مبرح) وہذا ہو الملائم لقولہ تعالى: "واللاتی تخافون نشوزہن" الآیة، فالحدیث على ہذا کالتفسیر للآیة، فإن المراد بالضرب فیہا ہو الضرب المتوسط لا الشدید.
قولہ: (والمضاجع) المراقد، أی فلا تُدخلوہن تحت اللُحف ولا تباشروہن، فیکون کنایة عن الجماع.
قولہ: (غیر مُبَرِّح) بضم ففتح وتشدید راء وحاء مہملة ہو الشدید الشاق "فإن أطعنکم" فی ترک النشوز "فلا تبغوا" إلخ بالتوبیخ والأذیة أی فأزیلوا عنہن التعرض واجعلوا ما کان منہن کأن لم یکن فإن التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ.
قولہ: (فلا یوطئن) صفة جمع النساء من الإیطاء، قال ابن جریر فی تفسیرہ فی معناہ: أن لا یُمَکِّنَ مِن أنفسہن أحدا سواکم، ورد بأنہ لا معنى حینئذ لاشتراط الکراہة لأن الزنا حرام على الوجوہ کلہا، قلت: یمکن الجواب بأن الکراہة فی جماعهن یشمل عادة للکل سوى الزوج، ولذا قال ابن جریر: أحدا سواکم، فلا إشکال، وقال الخطابی معناه: أن لا یؤذن لأحد من الرجال یدخل فیحدث إلیہن، وکان الحدیث من الرجال إلى النساء من عادات العرب لا یرون ذلک عیبا ولا یعدونہ ریبة، فلما نزلت آیة الحجاب وصارت النساء مقصورات نہی عن محادثتہن والقعود إلیہن.
قولہ: (من تکرہون) أی تکرہون دخولہ سواء کرہتموہ فی نفسہ أم لا، قیل: المختار منعہن عن إذن أحد فی الدخول والجلوس فی المنازل سواء کان مَحْرَماً أو امرأة إلا برضاہ واللہ أعلم۔
اے سامعین کرام:
اللہ نے ازدواجی زندگی کو باہمی رفاقت اور مصاحبت کی زندگی بنایا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ ہر طرح سے مکمل رفاقت رکھیں، ایسی رفاقت جس میں ایک دوسرے پر مکمل اعتماد ہو، کیونکہ اللہ نے اس ازدواجی زندگی کو جائے اطمینان بنایا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے درمیان حسن معاشرت کی وصیت کی ہے۔
اور شوہروں پر لازم ہے کہ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کریں، کیونکہ اللہ نے گھر کی قیادت بیوی پر شوہر کے سپرد کی ہے، اور اسے اس پر سربراہ بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "مرد عورتوں پر حاکم ہیں"
اور عورت پر شوہر کی سربراہی اور گھر کی قیادت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اس میں مطلق العنان ہو، حاکم ہو کہ اس کے حکم کو رد نہ کیا جائے، بلکہ گھر کی قیادت کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کے معاملات کی دیکھ بھال کرے اور اس کا انتظام کرے، نہ کہ اس میں اختیار یا حکومت ہو، کیونکہ وہ دونوں ساتھی ہیں امیر اور مامور نہیں، یا حاکم اور محکوم نہیں، بلکہ وہ دونوں ساتھی ہیں جن میں سے ایک کو ان کے گھر کے انتظام اور اس گھر کے امور کی دیکھ بھال کے حوالے سے قیادت سونپی گئی ہے۔ اور رسول اللہ e اپنے گھر میں اسی طرح اپنی بیویوں کے ساتھی تھے، ان پر کوئی مطلق العنان امیر نہیں تھے، اس کے باوجود کہ وہ ریاست کے سربراہ تھے، اور اس کے باوجود کہ وہ نبی تھے، مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے: کہ ابوبکر نے نبی سے اجازت طلب کی، اور اجازت ملنے کے بعد داخل ہوئے، پھر عمر نے اجازت طلب کی اور اجازت کے بعد داخل ہوئے، تو انہوں نے نبی کو بیٹھا ہوا پایا اور ان کے اردگرد ان کی بیویاں غمگین اور خاموش تھیں، تو عمر نے کہا: میں کوئی ایسی بات کہوں گا جس سے نبی e ہنس پڑیں، پھر انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول، اگر آپ خارجہ کی بیٹی کو دیکھتے کہ وہ مجھ سے خرچہ مانگ رہی ہے تو میں اس کی گردن پر مکا مارتا، تو رسول اللہ e ہنس پڑے اور فرمایا: "یہ سب میرے اردگرد ہیں اور مجھ سے خرچہ مانگ رہی ہیں"۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مرد کی عورت پر سربراہی کا مطلب یہ ہے کہ حکم اس کا ہو، لیکن رفاقت کا حکم نہ کہ تسلط اور کنٹرول کا، تو وہ اس سے رجوع کرے اور اس سے بحث کرے۔
وصل اللهم على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه وسلم
ہمارے معزز سامعین، اور جب تک ہم کسی اور نبوی حدیث کے ساتھ آپ سے ملتے ہیں، ہم آپ کو اللہ کی حفظ و امان میں چھوڑتے ہیں، اور السلام علیکم ورحمة اللہ وبركاته۔