مع الحديث الشريف - "باب شدة الزمان"-3
مع الحديث الشريف - "باب شدة الزمان"-3

  نحييكم جميعا أيها الأحبة في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.     

0:00 0:00
Speed:
October 15, 2017

مع الحديث الشريف - "باب شدة الزمان"-3

مع الحديث الشريف


"باب شدة الزمان"-3

نحييكم جميعا أيها الأحبة في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.    


جاء في حاشية السندي في شرح سنن ابن ماجه في "باب شدة الزمان"


حدثنا واصل بن عبد الأعلى حدثنا محمد بن فضيل عن أبي إسماعيل الأسلمي عن أبي حازم عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "والَّذي نفسي بيدِهِ لا تذهَبُ الدُّنيا حتَّى يمرَّ الرَّجلُ علَى القبرِ فيتمرَّغُ عليهِ ويقولُ يا ليتَني كنتُ مَكانَ صاحبِ هذا القبرِ . وليسَ بهِ الدِّينُ إلَّا البلاءُ".


لله دركم يا أهل القبور، أصبح الناس يغبطونكم على موتكم وعلى رقودكم في قبوركم، فقد لا يجدُ الأحياء اليوم من يقبرهم في الغد، لله دركم يا أهل القبور فأنتم أنقذتم أنفسكم من الفتن بعد أن تحكم وتمكن الباطل من الناس جميعا. لله دركم وقد أصبح أهل الحق يقفون على قبوركم متمنين أن لو كانوا مكانكم لما يرون من المعاصي والمنكرات المحيطة بالمسلمين إحاطة السوار بالمعصم.

هذه هي شدة الزمان، فبالرغم من أن الموت هو أعظم المصائب بالنسبة للإنسان، إلا أنه يتمناه، فهو يختار أهون المصيبتين. هذا حال أمة كانت في يوم أعرق الأمم وأعظمها. حالٌ غني عن الكلام بعد أن صرنا نرى بأعيننا ونسمع بآذاننا مشاهد القهر والظلم والتعذيب المفضي للموت، حتى أن بعضنا لا يستطيع متابعة مشاهد القتل لقسوتها، فبأي حق يتقدم مجرمو الأرض في كل مكان معلنين افتتحاح حفلات التعذيب لأناس أبرياء، لا تستغربوا هكذا يسمونها "حفلات التعذيب" مصورين هذه الفظاعات تصويرا على الآيفونات، فيفتتحونها بشتم الذات الإلهية – قاتلهم الله - مصرحين بكفرهم أمام الناس أجمعين، وتبدأ الركلات تصاحبها الشتائم اللاذعة القاهرة، وعندما يُسلم المسكينُ وتلَّهُ للجبين تخرج السكين من يد أحدهم لتبدأ بالتقطيع، ولتكن البداية بالأذن ولتنتهي بالرقبة...


أيها المسلمون:


وفي هذا المقطع من التصوير الذي ترونه كل يوم أمام ناظريكم ما يكفي ويغني، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم. لكن لسنا من الذين يقفون عند هذا الحديث للبكاء، وإن كنا نبكي كما سائر المسلمين، ولسنا هنا لنقف على قبور من ماتوا وحقّ للمسلم أن يفعل ذلك بنص الحديث.


ولكنا هنا لنقول لكم: هكذا حجم الألم فكيف يكون حجم العمل؟ وهل هكذا ألم يقابله من العمل تلاوة القرآن فقط أو زيادة في عدد الصلوات مثلا؟ هل يقابله أن يحافظ المسلمون على صلواتهم الخمس في النهار ومشاهدة التلفاز ومتابعة الأخبار وبكاء الشهداء والجرحى في الليل؟ هل هذه هي المعادلة التي يريدها منا رب العالمين؟ أهكذا طلب منا رب العزة والجلال؟ أم تُرى اكتفى المسلمون من العمل بالكلام والمتابعة؟!


أيها المسلمون:


إن الجواب- لعمري- واضح وضوح الشمس، فلا دين لمن يقبل ولمن يسكت عمّا يحدث لهذه الأمة الكريمة، ألا فليعلم كل مسلم على وجه هذه البسيطة أنه واقف بين يدي الله وسيسأله رب العزة: ماذا فعلت للمسلمين وقد رأيتهم يقتلون ويذبحون أمام عينيك؟ ألم تسمع ب " وَإِنِ اسْتَنصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ"؟


فعن واثلة بن الأسقع - رضي الله عنه - عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "يؤتى يوم القيامة بعبد محسن في نفسه لا يرى أن له سيئة فيقال له: هل كنت توالي أوليائي؟ قال: يا رب كنت من الناس سلما، قال: فهل كنت تعادي أعدائي قال: يا رب إني لم أكن أحب أن يكون بيني وبين أحد شيء فيقول: وعزتي لا ينال رحمتي من لم يوالِ أوليائي ولم يعادِ أعدائي"


إن عدم مناصرة المسلمين وخاصة أهل الشام لهو من أعظم المنكرات بعد أن بان سبيل المجرمين وتكالب عالم الكفر عليهم وأتوهم من كل حدب وصوب. فيجب على الجيوش أن تتحرك من فورها لإيقاف الظالم المعتدي بالقوة وكفه عن القتل والتشريد والظلم والاعتداء قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم: "المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يخذله ولا يحقره". أولستم أيها الجنود مسلمين وتشملكم هذه الأحاديث والآيات؟ إن أجبتم بنعم أو بلا فإنكم مسؤولون.


فلا يجوز أن يقف أحدكم موقف المتفرج على ما يدور من حوله، فالمسلم كيس فطن. قال رسولكم - صلى الله عليه وسلم: "أنت على ثغرة من ثغر الإسلام فلا يؤتين من قبلك".


وفي الختام أسأل الله أن يشرح صدوركم للحق والخير فنسمع في القريب الخبر العاجل الذي يشفي صدور المسلمين. اللهم يا الله بلغنا الخلافة، فبها وحدها تعود فرحة المسلمين، فتُكفكف دموعُهم وتُشفى صدورهم.


اللهمَّ عاجلنا بخلافة تلم فيها شعث المسلمين، ترفع عنهم ما هم فيه من البلاء، اللهمَّ أنرِ الأرض بنور وجهك الكريم. اللهمَّ آمين آمين.


أحبتنا الكرام، وإلى حين أن نلقاكم مع حديث نبوي آخر، نترككم في رعاية الله، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

كتبه للإذاعة: أبو مريم

More from فقہ

مع الحديث الشريف - أتدرون من المفلس

حدیث شریف کے ساتھ

کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے معزز سامعین، اللہ آپ پر رحمت فرمائے، آپ کے ساتھ ہماری ملاقات اور ہمارا پروگرام "حدیث شریف کے ساتھ" تجدید ہوتا ہے، اور ہم اپنی قسط کا آغاز بہترین انداز میں اسلام کے سلام سے کرتے ہیں، تو السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

مسند احمد - بَاقِي مُسْنَدِ الْمُكْثِرِينَ میں آیا ہے - میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکوٰة لے کر آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا۔

  ہمیں عبدالرحمن نے زہیر سے، انہوں نے العلاء سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟" انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں اور نہ سامان۔ آپ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا تو اسے بٹھایا جائے گا، پس یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا اور یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا، پھر اگر اس کی نیکیاں اس پر واجب خطاؤں کو ادا کرنے سے پہلے ختم ہو گئیں تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔"

یہ حدیث دوسری اہم احادیث کی طرح ہے جس کا معنی سمجھنا اور ادراک کرنا ضروری ہے، تو لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنی نماز، روزے اور زکوٰة کے باوجود مفلس ہے، کیونکہ اس نے کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا اور کسی کو مارا۔

اور اس کا افلاس یہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں جو اس کا سرمایہ ہیں لے لی جائیں گی اور اس کو دی جائیں گی اور اس کی گالی گلوچ، تہمت اور مار پیٹ کی قیمت اس سے ادا کی جائے گی، اور جب اس کی نیکیاں اس پر واجب حقوق ادا کرنے سے پہلے ختم ہو جائیں گی تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔

اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے پوچھا کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ کیا تم جانتے ہو یعنی کیا تم امور کے باطن کا علم رکھتے ہو، کیا تم جانتے ہو کہ حقیقی مفلس کون ہے؟ یہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: "غنا اور فقر اللہ کے سامنے پیش ہونے کے بعد ہے" جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر جواب دیا کہ ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہے اور نہ سامان، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی نظر میں مفلس ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، .... آپ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا...

اور یہ سیدنا عمر کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نماز پڑھے لیکن اہم چیز استقامت ہے، کیونکہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰة یہ عبادات ہیں جنہیں انسان خلوص نیت سے بھی کر سکتا ہے اور دکھاوے کے لیے بھی، لیکن مرکز ثقل یہ ہے کہ اللہ کے حکم پر قائم رہا جائے۔

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے، اور ہمیں اپنے متقی بندوں میں سے بنائے، اور ہماری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے، اور ہمیں پیشی کے دن رسوا نہ کرے، اے اللہ آمین

معزز سامعین، اور آپ سے ایک اور نبوی حدیث کے ساتھ ملاقات ہونے تک، ہم آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ ریڈیو کے لیے لکھا گیا ہے

عفراء تراب

مع الحديث الشريف - المنافقون وأعمالهم الشريرة

مع الحديث الشريف

منافقین اور ان کے بُرے اعمال

ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں، اے پیارے لوگو ہر جگہ، آپ کے پروگرام "مع الحديث الشريف" کی ایک نئی قسط میں اور ہم بہترین سلام کے ساتھ آغاز کرتے ہیں، پس السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کو سردار نہ کہو، کیونکہ اگر وہ سردار ہوا تو تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کر دیا۔“ اسے ابو داؤد نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔

اے معزز سامعین

یقینا بہترین کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اور بہترین رہنمائی اس کے نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہے، اس کے بعد،

یہ حدیث شریف ہمیں ان منافقوں سے نمٹنے کے طریقے کی طرف رہنمائی کرتی ہے جنہیں ہم جانتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ واحد شخص تھے جو تمام منافقوں کو ان کے ناموں سے جانتے تھے، لیکن ہم ان میں سے کچھ کو ان کی صفات سے جان سکتے ہیں، جیسے وہ جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا کہ وہ فرائض کو سستی سے اور بادل ناخواستہ انجام دیتے ہیں، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کرتے ہیں، فتنوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور برائی کو پھیلانا پسند کرتے ہیں، اس کی دعوت دے کر، اس کی حفاظت کرکے اور اس کی نگہداشت کرکے، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں پر جھوٹ بولتے ہیں... اور ان کے علاوہ دیگر جنہوں نے نفاق سے اپنا تعلق جوڑا۔

لہذا ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے جسے شریعت نے اچھا قرار دیا ہے اور جسے برا قرار دیا ہے، تاکہ ہم منافق کو مخلص سے پہچان سکیں، اور اس کے مطابق اس کے خلاف مناسب کارروائی کریں۔ ہمیں اس شخص کی جانب سے محفوظ نہیں ہونا چاہیے جو شریعت کی مخالفت کرتا ہے اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی خاطر یہ سب کچھ کر رہا ہے، اور ہمیں اس کے پیچھے نہیں چلنا چاہیے اور نہ ہی اس کی تائید کرنی چاہیے، اور نہ ہی اس سے کم یہ کہ ہم اسے سردار کہیں، بصورت دیگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سے ناراض ہو جائے گا۔

ہم مسلمانوں کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ فکر مند ہونا چاہیے، اور کسی منافق کو اپنے دین اور اپنے اہل و عیال پر داخل ہونے کا موقع نہیں دینا چاہیے، کیونکہ وہ ان خطرناک چیزوں میں سے ہیں جن کا ہمیں ان دنوں ان کی کثرت اور ان کے متعدد چہروں کی وجہ سے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمیں اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کے اعمال کی پیمائش کرنے کے لیے شرعی میزان کو حاضر رکھنا چاہیے، کیونکہ اسلام ہمارے لیے ان جیسے شریروں سے حفاظت ہے۔

ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری امت کو ان جیسے مجرموں سے محفوظ رکھے، اور ہمیں سیدھے راستے اور صحیح میزان کی طرف رہنمائی فرمائے جس کے ذریعے ہم لوگوں کے رویے کی پیمائش کریں اور ان سے دور رہیں جنہیں اللہ پسند نہیں کرتا، آمین۔

اے ہمارے پیارے، اور جب تک ہم کسی اور نبوی حدیث کے ساتھ آپ سے ملتے ہیں، ہم آپ کو اللہ کی حفاظت میں چھوڑتے ہیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

اسے ریڈیو کے لیے لکھا: ڈاکٹر ماہر صالح