مع الحديث الشريف - بيت المال
مع الحديث الشريف - بيت المال

حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جهضم بن عبد الله عن محمد بن إبراهيم عن محمد بن زيد عن شهر بن حوشب عن أبي سعيد قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن شراء الصدقات حتى تقبض.

0:00 0:00
Speed:
December 24, 2015

مع الحديث الشريف - بيت المال

مع الحديث الشريف

بيت المال

نحييكم جميعا أيها الأحبة المستمعون في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

روى ابن أبي شيبة في مصنفه قال:

حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جهضم بن عبد الله عن محمد بن إبراهيم عن محمد بن زيد عن شهر بن حوشب عن أبي سعيد قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن شراء الصدقات حتى تقبض.

قال:

حتى تقبض: حتى تجمع إلى القائم على بيت مال المسلمين ويدعو الناس إلى شرائها.

مستمعينا الكرام:

 بيت المال هو بمثابة خزينة الدولة .... فيطلق على المكان الذي تحفظ فيه الأموال المستحقة للمسلمين ... كما يطلق على الجهة التي تختص بكل دخل وخرج لما يستحقه المسلمون من مال .....

أما ما هي الأموال المستحقة للمسلمين والتي تحفظ في بيت المال أي واردات بيت المال فهي: 

1- أموال الزكاة وهذه الأموال وإن كانت توضع في بيت المال إلا أنها توضع في حرز خاص بها  ولا تنفق إلا على الأصناف الثمانية الذين ذكروا في القرآن الكريم, ولا يجوز أن ينفق منها على غير هذه الأصناف الثمانية سواء أكان من شؤون الدولة أو من شؤون الأمة

لكن يجوز للإمام (الخليفة) صرفها لمن يشاء من الأصناف الثمانية حسب رأيه واجتهاده ... فمثلاً له أن يعطيها لصنف واحد من الأصناف الثمانية وله أن يعطيها لبعض منهم كما يجوز أن يعطيها لهم جميعاً.

2- واردات الملكية العامة  بأنواعها وهذه الأموال توضع في مكان خاص ولا تخلط مع غيرها من الأموال لأنها ملك لجميع المسلمين .... ويصرفها الخليفة وَفْقَ ما يراه مصلحة للمسلمين حسب رأيه واجتهاده وَفْقَ أحكام الشرع

3-   أموال الدولة: وهي

أ - الفيء والغنائم والأنفال والخراج والجزية

ب - واردات أملاك الدولة

ج - العشور وخمس الركاز

د – مال من لا وارث له

وهذه الأموال أي - أموال الدولة - توضع في بيت المال مع بعضها بعضا وينفق منها على شؤون الدولة وشؤون الأمة وعلى الأصناف الثمانية وعلى كل شيء تراه الدولة فهي أموال ملكيتها للدولة ... تنفقها لرعاية مصالح الرعية وفق أحكام الشرع.

أما نفقات بيت المال:

1-   ما كان بيت المال له حرزاً وهو أموال الزكاة وتنفق على الأصناف الثمانية

2-   أن يكون بيت المال مستحقاً له على وجه الإعالة وعلى وجه القيام بفرض الجهاد والإعالة هي للفقراء والمساكين وابن السبيل

3- أن يكون بيت المال مستحقاً له على وجه البدل, أي أن يكون المال لأشخاص أدوا خدمة فأخذوا بدل هذه الخدمة  كالموظفين والجند والقضاة والمعلمين ....

4- أن يكون مصرفه مستحقاً على وجه المصلحة والإرفاق دون بدل أي أن يكون مصرفه على أشياء دون أن يكون مقابلها أموال تحصل لكن ينال الأمة الضرر من عدم وجودها .... كشق الطرق الضرورية وبناء المساجد والمستشفيات والمدارس وما شاكل ...

5- أن يكون مصرفه مستحقاً على وجه المصلحة والإرفاق دون بدل إلا أنه لا ينال الأمة ضرر من عدم وجوده كشق طرق أو بناء مساجد أو مدارس للتوسعة على المسلمين

6-   أن يكون مصرفه مستحقاً على وجه الضرورة: كحوادث الطوارئ من فيضانات ومجاعات وزلازل وهجوم عدو .....

ومن الجدير ذكره أنه إن لم تف أموال بيت المال بحاجات الرعية فإن الدولة تفرض الضرائب على المسلمين لتقوم بقضاء ما يطلب منها من رعاية....  

ولأن الدولة في الإسلام راعية وليست جابية ... فإن الضرائب تفرض وفق ما فرضه الشرع على المسلمين وليس وفق اجتهاد الدولة .. فكل مصلحة فُرضت نفقتها على المسلمين ولم تف أموال بيت المال لإقامتها فإنه تفرض ضريبة من أجلها كالنفقة على الفقراء والمساكين وابن السبيل وعلى فرض الجهاد والنفقة على الموظفين وأرزاق الجند والإنفاق على المصالح والمرافق التي لا غنى للرعية عنها كشق الطرق واستخراج المياه وبناء المساجد والمدارس والمستشفيات والإدارات والإنفاق على الطوارئ من فيضانات وزلازل ومجاعات وهجوم مفاجئ للأعداء ... وأخيرا لسداد ديون اقترضتها الدولة للقيام بما هو فرض على المسلمين

.... أما المصالح التي ليست فرضاً على المسلمين كسداد دين الميت أو شق طرق إضافية  للتوسعة على الناس مثلاً فإنه لا تفرض من أجلها الضرائب, بل تقوم الدولة به إن كان لديها المال وإلا سقط عنها .

وتكون الضريبة على الأغنياء دون الفقراء . ... وعيارها أن تؤخذ من المسلم الذي لديه مال زائد عن حاجاته الأساسية وحاجاته الكمالية وفق ما هو معروف لمثله ...

هذا هو بيت المال في دولة الإسلام وهذه هي وظيفته باختصار ومنه نرى أن واردات بيت المال ونفقاته إنما عينها الشرع وليس السلطة التنفيذية ولا التشريعية كما في النظام الرأسمالي ... وهي تمكن المسلمين من العيش الرغيد والحياة الكريمة فوق ما يمكن للدولة من القوة التي تعطيها الهيبة والعزة ما يرهب الأعداء ويغري الأفراد بالرغبة في العيش في ظل هذا النظام الفريد ودولته الراعية الحانية التي ترعى الجميع وتحفظ حقوق الجميع فقراء وأغنياء مسلمين وغير مسلمين ما داموا رعايا في دولة الإسلام

مستمعينا الكرام، وإلى حين أن نلقاكم مع حديث نبوي آخر، نترككم في رعاية الله، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

More from فقہ

مع الحديث الشريف - أتدرون من المفلس

حدیث شریف کے ساتھ

کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے معزز سامعین، اللہ آپ پر رحمت فرمائے، آپ کے ساتھ ہماری ملاقات اور ہمارا پروگرام "حدیث شریف کے ساتھ" تجدید ہوتا ہے، اور ہم اپنی قسط کا آغاز بہترین انداز میں اسلام کے سلام سے کرتے ہیں، تو السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

مسند احمد - بَاقِي مُسْنَدِ الْمُكْثِرِينَ میں آیا ہے - میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکوٰة لے کر آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا۔

  ہمیں عبدالرحمن نے زہیر سے، انہوں نے العلاء سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟" انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں اور نہ سامان۔ آپ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا تو اسے بٹھایا جائے گا، پس یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا اور یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا، پھر اگر اس کی نیکیاں اس پر واجب خطاؤں کو ادا کرنے سے پہلے ختم ہو گئیں تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔"

یہ حدیث دوسری اہم احادیث کی طرح ہے جس کا معنی سمجھنا اور ادراک کرنا ضروری ہے، تو لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنی نماز، روزے اور زکوٰة کے باوجود مفلس ہے، کیونکہ اس نے کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا اور کسی کو مارا۔

اور اس کا افلاس یہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں جو اس کا سرمایہ ہیں لے لی جائیں گی اور اس کو دی جائیں گی اور اس کی گالی گلوچ، تہمت اور مار پیٹ کی قیمت اس سے ادا کی جائے گی، اور جب اس کی نیکیاں اس پر واجب حقوق ادا کرنے سے پہلے ختم ہو جائیں گی تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔

اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے پوچھا کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ کیا تم جانتے ہو یعنی کیا تم امور کے باطن کا علم رکھتے ہو، کیا تم جانتے ہو کہ حقیقی مفلس کون ہے؟ یہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: "غنا اور فقر اللہ کے سامنے پیش ہونے کے بعد ہے" جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر جواب دیا کہ ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہے اور نہ سامان، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی نظر میں مفلس ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، .... آپ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا...

اور یہ سیدنا عمر کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نماز پڑھے لیکن اہم چیز استقامت ہے، کیونکہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰة یہ عبادات ہیں جنہیں انسان خلوص نیت سے بھی کر سکتا ہے اور دکھاوے کے لیے بھی، لیکن مرکز ثقل یہ ہے کہ اللہ کے حکم پر قائم رہا جائے۔

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے، اور ہمیں اپنے متقی بندوں میں سے بنائے، اور ہماری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے، اور ہمیں پیشی کے دن رسوا نہ کرے، اے اللہ آمین

معزز سامعین، اور آپ سے ایک اور نبوی حدیث کے ساتھ ملاقات ہونے تک، ہم آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ ریڈیو کے لیے لکھا گیا ہے

عفراء تراب

مع الحديث الشريف - المنافقون وأعمالهم الشريرة

مع الحديث الشريف

منافقین اور ان کے بُرے اعمال

ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں، اے پیارے لوگو ہر جگہ، آپ کے پروگرام "مع الحديث الشريف" کی ایک نئی قسط میں اور ہم بہترین سلام کے ساتھ آغاز کرتے ہیں، پس السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کو سردار نہ کہو، کیونکہ اگر وہ سردار ہوا تو تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کر دیا۔“ اسے ابو داؤد نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔

اے معزز سامعین

یقینا بہترین کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اور بہترین رہنمائی اس کے نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہے، اس کے بعد،

یہ حدیث شریف ہمیں ان منافقوں سے نمٹنے کے طریقے کی طرف رہنمائی کرتی ہے جنہیں ہم جانتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ واحد شخص تھے جو تمام منافقوں کو ان کے ناموں سے جانتے تھے، لیکن ہم ان میں سے کچھ کو ان کی صفات سے جان سکتے ہیں، جیسے وہ جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا کہ وہ فرائض کو سستی سے اور بادل ناخواستہ انجام دیتے ہیں، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کرتے ہیں، فتنوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور برائی کو پھیلانا پسند کرتے ہیں، اس کی دعوت دے کر، اس کی حفاظت کرکے اور اس کی نگہداشت کرکے، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں پر جھوٹ بولتے ہیں... اور ان کے علاوہ دیگر جنہوں نے نفاق سے اپنا تعلق جوڑا۔

لہذا ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے جسے شریعت نے اچھا قرار دیا ہے اور جسے برا قرار دیا ہے، تاکہ ہم منافق کو مخلص سے پہچان سکیں، اور اس کے مطابق اس کے خلاف مناسب کارروائی کریں۔ ہمیں اس شخص کی جانب سے محفوظ نہیں ہونا چاہیے جو شریعت کی مخالفت کرتا ہے اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی خاطر یہ سب کچھ کر رہا ہے، اور ہمیں اس کے پیچھے نہیں چلنا چاہیے اور نہ ہی اس کی تائید کرنی چاہیے، اور نہ ہی اس سے کم یہ کہ ہم اسے سردار کہیں، بصورت دیگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سے ناراض ہو جائے گا۔

ہم مسلمانوں کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ فکر مند ہونا چاہیے، اور کسی منافق کو اپنے دین اور اپنے اہل و عیال پر داخل ہونے کا موقع نہیں دینا چاہیے، کیونکہ وہ ان خطرناک چیزوں میں سے ہیں جن کا ہمیں ان دنوں ان کی کثرت اور ان کے متعدد چہروں کی وجہ سے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمیں اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کے اعمال کی پیمائش کرنے کے لیے شرعی میزان کو حاضر رکھنا چاہیے، کیونکہ اسلام ہمارے لیے ان جیسے شریروں سے حفاظت ہے۔

ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری امت کو ان جیسے مجرموں سے محفوظ رکھے، اور ہمیں سیدھے راستے اور صحیح میزان کی طرف رہنمائی فرمائے جس کے ذریعے ہم لوگوں کے رویے کی پیمائش کریں اور ان سے دور رہیں جنہیں اللہ پسند نہیں کرتا، آمین۔

اے ہمارے پیارے، اور جب تک ہم کسی اور نبوی حدیث کے ساتھ آپ سے ملتے ہیں، ہم آپ کو اللہ کی حفاظت میں چھوڑتے ہیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

اسے ریڈیو کے لیے لکھا: ڈاکٹر ماہر صالح