مع الحدیث الشریف
فی سبیل اللہ رباط کی فضیلت
ہم آپ سبھی سامعین کو ہر جگہ سے آپ کے پروگرام مع الحدیث الشریف کے ایک نئے سلسلے میں خوش آمدید کہتے ہیں اور بہترین سلام سے آغاز کرتے ہیں، تو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: مَرَّ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ بِشُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ وَهُوَ فِي مُرَابَطٍ لَهُ وَقَدْ شَقَّ عَلَيْهِ وَعَلَى أَصْحَابِهِ، قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكَ يَا ابْنَ السِّمْطِ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ، وَرُبَّمَا قَالَ: خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ، وَمَنْ مَاتَ فِيهِ وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَنُمِّيَ لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
تحفۃ الاحوذی بشرح جامع ترمذی میں آیا ہے
قوله: (وهو في مرابط له) اسم ظرف من الرباط
قوله: (وقد شق) أي صعب القيام فيه
قوله: (رباط يوم) وفي رواية مسلم: يوم وليلة
(وربما قال خير) أي مكان أفضل
(وقي فتنة القبر) أي مما يفتن المقبور به من ضغطة القبر والسؤال والتعذيب
(ونمي) قال في القاموس: نما ينمو نموا زاد، كـ"نما ينمي ونميا ونماء" انتهى
(له عمله إلى يوم القيامة)
يعني أن ثوابه يجري له دائما ولا ينقطع بموته, وفي رواية مسلم: "جرى عليه عمله الذي كان يعمله وأجرى عليه رزقه وأمن من الفتان". قال النووي: هذه فصيلة ظاهرة للمرابط، وجريان عمله عليه بعد موته فضيلة مختصة به, لا يشاركه فيها أحد, وقد جاء صريحا في غير مسلم. كل ميت يختم عليه عمله إلا المرابط، فإنه ينمى له عمله إلى يوم القيامة انتهى.
سامعین کرام:
جہاد کے توابع میں سے رباط ہے، اور وہ مسلمانوں کو مضبوط کرنے کے لیے سرحد میں قیام کرنا ہے۔ اور سرحد ہر وہ جگہ ہے جو دشمن کی حدود پر ہے جہاں کے لوگ دشمن کو ڈراتے ہیں اور وہ ان کو ڈراتے ہیں۔ اور دوسرے لفظوں میں وہ جگہ ہے جس کے پیچھے اسلام نہیں ہے۔ اور رباط سے مراد دین کو غالب کرنے اور مسلمانوں سے کفار کی شر کو دور کرنے کے لیے سرحدوں میں قیام کرنا ہے۔ اور کسی بھی ایسی جگہ پر قیام کرنا جہاں دشمن کے حملے کی توقع ہو اسے پسپا کرنے کے ارادے سے رباط سمجھا جاتا ہے، کیونکہ رباط کی اصل رباط الخیل سے ہے جو اللہ تعالی کے اس قول میں وارد ہے: (اور ان کے لیے اتنی قوت تیار کرو جتنی تم کر سکتے ہو اور بندھے ہوئے گھوڑوں سے تم اس سے اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو ڈراؤ)۔ اور رباط کم اور زیادہ ہو سکتا ہے، پس ہر وہ مدت جو اس نے رباط کی نیت سے گزاری وہ رباط ہے خواہ کم ہو یا زیادہ، اور اسی لیے صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ایک دن کا رباط) اور ایک روایت میں (ایک دن اور ایک رات)۔
اور اختتام میں صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: (اللہ کی راہ میں ایک رات پہرہ دینا ہزار راتوں سے افضل ہے جس میں قیام اللیل اور دن میں روزہ رکھنا ہو)
سامعین کرام اور جب تک ہم ایک اور نبوی حدیث کے ساتھ آپ سے ملاقات نہیں کرتے تب تک ہم آپ کو اللہ کی حفاظت میں چھوڑتے ہیں اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔