مع الحديث الشريف
اسلام میں اجارہ کا حکم
آپ سبھی سامعین کو ہر جگہ "الحدیث الشریف" کے آپ کے پروگرام کی ایک نئی قسط میں خوش آمدید کہتے ہیں اور بہترین سلام سے آغاز کرتے ہیں، پس السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَعْطُوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ"
ابن ماجہ کی سنن کی شرح میں السندی نے کہا:
قَوْلُه: (أَعْطُوا الْأَجِيرَ) یعنی کام سے فارغ ہونے کے بعد اس کا حق ادا کرنے میں جلدی کرنی چاہیے۔
قَوْلُه: (قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ) یعنی کام کرنے کی وجہ سے۔
ہمارے معزز سامعین:
اجارہ معاوضے کے بدلے میں منفعت کا عقد ہے، اور اس کے تحت تین قسمیں آتی ہیں:
پہلی قسم - وہ ہے جس میں عقد اعیان کے منافع پر وارد ہوتا ہے، جیسے گھروں، جانوروں، گاڑیوں اور اس طرح کی چیزوں کو کرائے پر لینا۔
دوسری قسم - وہ ہے جس میں عقد عمل کے منافع پر وارد ہوتا ہے، جیسے پیشہ وروں اور کاریگروں کو مخصوص کاموں کے لیے کرائے پر لینا۔ پس جس چیز پر عقد کیا جاتا ہے وہ وہ منفعت ہے جو کام سے حاصل ہوتی ہے، جیسے رنگ ساز، لوہار، بڑھئی اور اس طرح کے لوگوں کو کرائے پر لینا۔
تیسری قسم - وہ ہے جس میں عقد شخص کے منافع پر وارد ہوتا ہے، جیسے ملازمین اور مزدوروں کو کرائے پر لینا۔
اور اجارہ اپنی تمام اقسام کے ساتھ شرعاً جائز ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [اور ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر درجات میں فوقیت دی تاکہ ان میں سے بعض بعض سے کام لیں۔] اور فرمایا: [پھر اگر وہ تمہارے لیے دودھ پلائیں تو ان کو ان کی اجرتیں ادا کرو] اور بخاری نے روایت کیا: «کہ نبی کریم r اور صدیق نے بنو دیل کے ایک ماہر رہبر کو کرائے پر لیا»۔
ہمارے معزز سامعین اور جب تک ہم ایک اور نبوی حدیث کے ساتھ آپ سے نہ ملیں ہم آپ کو اللہ کی حفاظت میں چھوڑتے ہیں اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔