مع الحديث الشريف - إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالاً
ہم آپ سب سامعین کو ہر جگہ سے آپ کے پروگرام مع الحدیث الشریف کی ایک نئی قسط میں خوش آمدید کہتے ہیں اور ہم بہترین سلام کے ساتھ آغاز کرتے ہیں، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالاً يَرْفَعُهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَاتٍ وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالاً يَهْوِي بِهَا فِي جَهَنَّمَ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک بندہ اللہ کی رضا کے لیے کوئی بات کہتا ہے جس پر وہ دھیان نہیں دیتا، اللہ اس کے ذریعے اس کے درجات بلند کرتا ہے اور بے شک بندہ اللہ کی ناراضی کی کوئی بات کہتا ہے جس پر وہ دھیان نہیں دیتا، وہ اس کے ذریعے جہنم میں گرتا ہے۔
فتح الباری بشرح صحیح البخاری میں آیا ہے
قَوْله (لَا يُلْقِي لَهَا بَالاً) أَيْ لَا يَتَأَمَّلُهَا بِخَاطِرِهِ وَلَا يَتَفَكَّر فِي عَاقِبَتهَا وَلَا يَظُنّ أَنَّهَا تُؤَثِّر شَيْئاً , وَهُوَ مِنْ نَحْو قَوْله تَعَالَى: (وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِنْد اللَّه عَظِيم)
آپ کا قول (اس پر دھیان نہیں دیتا) یعنی نہ تو وہ اپنے دل میں اس پر غور کرتا ہے اور نہ ہی اس کے انجام کے بارے میں سوچتا ہے اور نہ ہی یہ گمان کرتا ہے کہ یہ کوئی اثر ڈالے گی، اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرح ہے: (اور تم اسے آسان سمجھتے ہو حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات ہے)۔
قَوْله (يَهْوِي) قَالَ عِيَاض: الْمَعْنَى يَنْزِل فِيهَا سَاقِطاً.
آپ کا قول (گرتا ہے) عیاض نے کہا: اس کا معنی ہے کہ اس میں گرتا ہوا اترتا ہے۔
ہمارے معزز سامعین:
اس حدیثِ شریف سے حاصل ہونے والے اسباق میں سے یہ ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے کلام کو تولنے سے پہلے اسے تولے، پس وہ صرف وہی کہے جو اچھا اور پاکیزہ ہو۔ اور اس باب میں آیاتِ کریمہ اور احادیثِ شریفہ بکثرت وارد ہوئی ہیں:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ((اور انہیں پاکیزہ بات کی طرف ہدایت کی گئی))
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:- ((اور لوگوں سے اچھی بات کہو))
اور اس نے فرمایا:- ((اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ بہتر بات کہیں))
اور اس نے فرمایا:- ((اسی کی طرف پاکیزہ بات چڑھتی ہے اور نیک عمل اسے بلند کرتا ہے))
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((آگ سے بچو اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے سے ہو، اگر وہ نہ ملے تو اچھی بات سے))
اور فرمایا: ((جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے))
اور فرمایا: ((اپنی زبان کو قابو میں رکھو))
اور فرمایا: ((کیا لوگوں کو ان کے چہروں کے بل یا فرمایا ان کی ناکوں کے بل جہنم میں نہیں گرایا جائے گا سوائے ان کی زبانوں کی کمائی کے))
اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((جنت میں ایک ایسا کمرہ ہے جس کا باہر کا حصہ اندر سے اور اندر کا حصہ باہر سے نظر آتا ہے)) تو ابو مالک اشعری نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کس کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: "اس کے لیے جو اچھی بات کرے، کھانا کھلائے اور اس وقت سوئے جب لوگ سو رہے ہوں))
اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا (اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی چیز میری زبان سے زیادہ لمبی قید کی محتاج نہیں ہے)
اور وہ کہتے تھے (اے زبان! اچھی بات کہہ تاکہ تو غنیمت حاصل کرے اور شر سے خاموش رہ اس سے پہلے کہ تو پچھتائے)
تو تعجب ہے، اے ہمارے معزز سامعین، اس شخص پر جو بری باتیں کہتا ہے اور ان پر دھیان نہیں دیتا
اور تعجب ہے اس مسلمان پر جو اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہتا ہے اور اپنی باتوں پر دھیان نہیں دیتا
اور تعجب ہے اس شخص پر جو اسلامی جماعتوں پر جھوٹ بولتا ہے اور ان سے وہ کہلواتا ہے جو انہوں نے نہیں کہا اور اس پر دھیان نہیں دیتا جو وہ پھیلاتا ہے
اور تعجب ہے اس شخص پر جو لوگوں کے درمیان فساد کرتا ہے
اور تعجب ہے ہر غیبت کرنے والے اور چغل خور پر
پس بچو، بچو اے ہمارے معزز سامعین، عزیز و جبار کی ناراضگی سے، اور وہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے (وہ کوئی بات نہیں کہتا مگر اس کے پاس ایک نگران تیار رہتا ہے)
ہمارے معزز سامعین اور ایک اور نبوی حدیث کے ساتھ آپ سے ملاقات تک ہم آپ کو اللہ کی حفاظت میں چھوڑتے ہیں اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ