مع الحديث الشريف - إنما الأعمال بالنيات
مع الحديث الشريف - إنما الأعمال بالنيات

نحييكم جميعا أيها الأحبة في كل مكان, ونلتقي بكم في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث النبوي الشريف" ونبدأ بخير تحية وأزكى سلام, فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته وبعد: ...

0:00 0:00
Speed:
May 19, 2024

مع الحديث الشريف - إنما الأعمال بالنيات

مع الحديث الشريف

إنما الأعمال بالنيات

نحييكم جميعا أيها الأحبة في كل مكان, ونلتقي بكم في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث النبوي الشريف" ونبدأ بخير تحية وأزكى سلام, فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته وبعد:

عن أمير المؤمنين أبي حفص عمر بن الخطاب رضي الله عنه، قال: «سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إنما الأعمال بالنيّات، وإنما لكل امرئ ما نوى، فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله، فهجرته إلى الله ورسوله، ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها، أو امرأة ينكحها، فهجرته إلى ما هاجر إليه». (رواه البخاري ومسلم في صحيحهما)

لقد نال هذا الحديث النصيب الأوفر من اهتمام علماء الحديث؛ وذلك لاشتماله على قواعد عظيمةٍ من قواعد الدين، حتى إن بعض العلماء جعل مدار الدين على حديثين: هذا الحديث، بالإضافة إلى حديث عائشة رضي الله عنها: «من عمل عملاً ليس عليه أمرنا فهو رد». ووجه ذلك: أن الحديث السابق ميزان للأعمال الظاهرة، وحديث الباب ميزان للأعمال الباطنة.

والنيّة في اللغة: هي القصد والإرادة، فيتبيّن من ذلك أن النيّة من أعمال القلوب، فلا يُشرع النطق بها؛ فإن النبي صلى الله عليه وسلم لم يكن يتلفظ بالنية في العبادة، أما قول الحاج: "لبيك اللهم حجًّا" فليس نطقاً بالنية، لكنه إشعارٌ بالدخول في النسك، بمعنى أن التلبية في الحج بمنـزلة التكبير في الصلاة، ومما يدل على ذلك أنه لو حج ولم يتلفّظ بذلك صح حجه عند جمهور أهل العلم. وللنية فائدتان:

أولاً: تمييز العبادات عن بعضها، وذلك كتمييز الصدقة عن قضاء الدين، وصيام النافلة عن صيام الفريضة.

ثانياً: تمييز العبادات عن العادات، فمثلاً: قد يغتسل الرجل ويقصد به غسل الجنابة، فيكون هذا الغسل عبادةً يُثاب عليها العبد، أما إذا اغتسل وأراد به التبرد من الحرّ، فهنا يكون الغسل عادة، فلا يُثاب عليه، ولذلك استنبط العلماء من هذا الحديث قاعدة مهمة وهي قولهم: "الأمور بمقاصدها" وهذه القاعدة تدخل في جميع أبواب الفقه.

وفي صدر هذا الحديث ابتدأ النبي صلى الله عليه وسلم بقوله: «إنما الأعمال بالنيات». أي: أنه ما من عمل إلا وله نية، فالإنسان المكلف لا يمكنه أن يعمل عملاً باختياره، ويكون هذا العمل من غير نيّة، ومن خلال ما سبق يمكننا أن نرد على أولئك الذين ابتلاهم الله بالوسواس فيكررون العمل عدة مرات ويوهمهم الشيطان أنهم لم ينووا شيئا، فنطمئنهم أنه لا يمكن أن يقع منهم عمل باختيارهم من غير نيّة، ما داموا مكلفين غير مجبرين على فعلهم .

ويستفاد من قوله صلى الله عليه وسلم: «وإنما لكل امرئ ما نوى». وجوب الإخلاص لله تعالى في جميع الأعمال؛ لأنه أخبر أنه لا يخلُصُ للعبد من عمله إلا ما نوى، فإن نوى في عمله اللهَ والدار الآخرة، كتب الله له ثواب عمله، وأجزل له العطاء، وإن أراد به السمعة والرياء، فقد حبط عمله، وكتب عليه وزره، كما يقول الله عز وجل في محكم كتابه: (فمن كان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا ولا يشرك بعبادة ربه أحدا). (الكهف 110)

وبذلك يتبين أنه يجب على الإنسان العاقل أن يجعل همّه الآخرةَ في الأمور كلها، ويتعهّد قلبه ويحذر من الرياء أو الشرك الأصغر، يقول النبي صلى الله عليه وسلم مشيراً إلى ذلك: «من كانت الدنيا همّه، فرّق الله عليه أمره، وجعل فقره بين عينيه، ولم يأته من الدنيا إلا ما كُتب له، ومن كانت الآخرة نيّته، جمع الله له أمره، وجعل غناه في قلبه، وأتته الدنيا وهي راغمة». (رواه ابن ماجه).

ومن عظيم أمر النيّة أنه قد يبلغ العبد منازل الأبرار، ويكتب له ثواب أعمال عظيمة لم يعملها، وذلك بالنيّة، كما ثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال لما رجع من غزوة تبوك: «إن بالمدينة أقواما ما سرتم مسيرًا، ولا قطعتم واديًا، إلا كانوا معكم، قالوا يا رسول الله: وهم بالمدينة؟ قال: وهم بالمدينة، حبسهم العذر». (رواه البخاري)

ولما كان قبول الأعمال مرتبطاً بقضية الإخلاص، ساق النبي صلى الله عليه وسلم مثلاً ليوضح الصورة أكثر، فقال: «فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله، فهجرته إلى الله ورسوله، ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها، أو امرأة ينكحها، فهجرته إلى ما هاجر إليه».

وأصل الهجرة: الانتقال من دار الكفر إلى دار الإسلام، أو من دار المعصية إلى دار الصلاح، وهذه الهجرة لا تنقطع أبدًا ما بقيت التوبة؛ فقد ورد عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «لا تنقطع الهجرة حتى تنقطع التوبة, ولا تنقطع التوبة حتى تطلع الشمس من مغربها». (رواه الإمام أحمد في مسنده وأبو داود والنسائي في السنن)

وقد يستشكل البعض ما ورد في الحديث السابق؛ حيث يظنّ أن هناك تعارضاً بين هذا الحديث وقوله صلى الله عليه وسلم: «لا هجرة بعد الفتح» "كما في الصحيحين"

والجواب عن ذلك: أن المراد بالهجرة في الحديث الأخير معنىً مخصوص؛ وهو: انقطاع الهجرة من مكة، فقد أصبحت دار الإسلام، فلا هجرة منها .

على أن إطلاق الهجرة في الشرع يراد به أحد أمور ثلاثة: هجر المكان، وهجر العمل، وهجر العامل، أما هجر المكان: فهو الانتقال من دار الكفر إلى دار الإيمان، وأما هجر العمل: فمعناه أن يهجر المسلم كل أنواع الشرك والمعاصي، والمقصود من هجر العامل: هجران أهل المعاصي والبدع. كما جاء في الحديث النبوي: «المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه». (متفق عليه)

ومما يُلاحظ في الحديث أن النبي صلى الله عليه وسلم قد خصّ المرأة بالذكر من بين متاع الدنيا في قوله: «أو امرأة ينكحها». بالرغم من أنها داخلة في عموم الدنيا؛ وذلك زيادة في التحذير من فتنة النساء؛ لأن الافتتان بهنّ أشد، مِصداقاً للحديث النبوي: «ما تركت بعدي فتنة أضر على الرجال من النساء». (متفق عليه) 

وفي قوله: «فهجرته إلى ما هاجر إليه». لم يذكر ما أراده من الدنيا أو المرأة، وعبّر عنه بالضمير "ما" في قوله: «ما هاجر إليه» وذلك تحقيراً لما أراده من أمر الدنيا واستهانةً به واستصغاراً لشأنه، حيث لم يذكره بلفظه.

ومما يستفاد من هذا الحديث - علاوة على ما تقدم- أن على الداعية الناجح أن يضرب الأمثال لبيان وإيضاح الحق الذي يحمله للناس؛ وذلك لأن النفس البشرية جبلت على محبة سماع القصص والأمثال، فالفكرة مع المثل تطرق السمع، وتدخل إلى القلب من غير استئذان، وبالتالي تترك أثرها فيه، لذلك كثر استعمالها في الكتاب والسنة، نسأل الله تعالى أن يرزقنا الإخلاص في القول والعمل، والحمد لله رب العالمين.

أحبّتنا الكرام: نَشكُرُكُم, مَوعِدُنَا مَعَكُمْ في الحَلْقةِ القادِمَةِ إنْ شَاءَ اللهُ, فَإِلَى ذَلِكَ الحِينِ وَإِلَى أَنْ نَلْقَاكُمْ وَدَائِماً, نَترُكُكُم في عنايةِ اللهِ وحفظِهِ وأمنِهِ, والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الأستاذ محمد أحمد النادي - ولاية الأردن

More from فقہ

مع الحديث الشريف - أتدرون من المفلس

حدیث شریف کے ساتھ

کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے معزز سامعین، اللہ آپ پر رحمت فرمائے، آپ کے ساتھ ہماری ملاقات اور ہمارا پروگرام "حدیث شریف کے ساتھ" تجدید ہوتا ہے، اور ہم اپنی قسط کا آغاز بہترین انداز میں اسلام کے سلام سے کرتے ہیں، تو السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

مسند احمد - بَاقِي مُسْنَدِ الْمُكْثِرِينَ میں آیا ہے - میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکوٰة لے کر آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا۔

  ہمیں عبدالرحمن نے زہیر سے، انہوں نے العلاء سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟" انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں اور نہ سامان۔ آپ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا تو اسے بٹھایا جائے گا، پس یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا اور یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا، پھر اگر اس کی نیکیاں اس پر واجب خطاؤں کو ادا کرنے سے پہلے ختم ہو گئیں تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔"

یہ حدیث دوسری اہم احادیث کی طرح ہے جس کا معنی سمجھنا اور ادراک کرنا ضروری ہے، تو لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنی نماز، روزے اور زکوٰة کے باوجود مفلس ہے، کیونکہ اس نے کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا اور کسی کو مارا۔

اور اس کا افلاس یہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں جو اس کا سرمایہ ہیں لے لی جائیں گی اور اس کو دی جائیں گی اور اس کی گالی گلوچ، تہمت اور مار پیٹ کی قیمت اس سے ادا کی جائے گی، اور جب اس کی نیکیاں اس پر واجب حقوق ادا کرنے سے پہلے ختم ہو جائیں گی تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔

اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے پوچھا کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ کیا تم جانتے ہو یعنی کیا تم امور کے باطن کا علم رکھتے ہو، کیا تم جانتے ہو کہ حقیقی مفلس کون ہے؟ یہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: "غنا اور فقر اللہ کے سامنے پیش ہونے کے بعد ہے" جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر جواب دیا کہ ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہے اور نہ سامان، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی نظر میں مفلس ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، .... آپ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا...

اور یہ سیدنا عمر کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نماز پڑھے لیکن اہم چیز استقامت ہے، کیونکہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰة یہ عبادات ہیں جنہیں انسان خلوص نیت سے بھی کر سکتا ہے اور دکھاوے کے لیے بھی، لیکن مرکز ثقل یہ ہے کہ اللہ کے حکم پر قائم رہا جائے۔

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے، اور ہمیں اپنے متقی بندوں میں سے بنائے، اور ہماری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے، اور ہمیں پیشی کے دن رسوا نہ کرے، اے اللہ آمین

معزز سامعین، اور آپ سے ایک اور نبوی حدیث کے ساتھ ملاقات ہونے تک، ہم آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ ریڈیو کے لیے لکھا گیا ہے

عفراء تراب

مع الحديث الشريف - المنافقون وأعمالهم الشريرة

مع الحديث الشريف

منافقین اور ان کے بُرے اعمال

ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں، اے پیارے لوگو ہر جگہ، آپ کے پروگرام "مع الحديث الشريف" کی ایک نئی قسط میں اور ہم بہترین سلام کے ساتھ آغاز کرتے ہیں، پس السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کو سردار نہ کہو، کیونکہ اگر وہ سردار ہوا تو تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کر دیا۔“ اسے ابو داؤد نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔

اے معزز سامعین

یقینا بہترین کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اور بہترین رہنمائی اس کے نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہے، اس کے بعد،

یہ حدیث شریف ہمیں ان منافقوں سے نمٹنے کے طریقے کی طرف رہنمائی کرتی ہے جنہیں ہم جانتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ واحد شخص تھے جو تمام منافقوں کو ان کے ناموں سے جانتے تھے، لیکن ہم ان میں سے کچھ کو ان کی صفات سے جان سکتے ہیں، جیسے وہ جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا کہ وہ فرائض کو سستی سے اور بادل ناخواستہ انجام دیتے ہیں، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کرتے ہیں، فتنوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور برائی کو پھیلانا پسند کرتے ہیں، اس کی دعوت دے کر، اس کی حفاظت کرکے اور اس کی نگہداشت کرکے، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں پر جھوٹ بولتے ہیں... اور ان کے علاوہ دیگر جنہوں نے نفاق سے اپنا تعلق جوڑا۔

لہذا ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے جسے شریعت نے اچھا قرار دیا ہے اور جسے برا قرار دیا ہے، تاکہ ہم منافق کو مخلص سے پہچان سکیں، اور اس کے مطابق اس کے خلاف مناسب کارروائی کریں۔ ہمیں اس شخص کی جانب سے محفوظ نہیں ہونا چاہیے جو شریعت کی مخالفت کرتا ہے اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی خاطر یہ سب کچھ کر رہا ہے، اور ہمیں اس کے پیچھے نہیں چلنا چاہیے اور نہ ہی اس کی تائید کرنی چاہیے، اور نہ ہی اس سے کم یہ کہ ہم اسے سردار کہیں، بصورت دیگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سے ناراض ہو جائے گا۔

ہم مسلمانوں کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ فکر مند ہونا چاہیے، اور کسی منافق کو اپنے دین اور اپنے اہل و عیال پر داخل ہونے کا موقع نہیں دینا چاہیے، کیونکہ وہ ان خطرناک چیزوں میں سے ہیں جن کا ہمیں ان دنوں ان کی کثرت اور ان کے متعدد چہروں کی وجہ سے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمیں اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کے اعمال کی پیمائش کرنے کے لیے شرعی میزان کو حاضر رکھنا چاہیے، کیونکہ اسلام ہمارے لیے ان جیسے شریروں سے حفاظت ہے۔

ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری امت کو ان جیسے مجرموں سے محفوظ رکھے، اور ہمیں سیدھے راستے اور صحیح میزان کی طرف رہنمائی فرمائے جس کے ذریعے ہم لوگوں کے رویے کی پیمائش کریں اور ان سے دور رہیں جنہیں اللہ پسند نہیں کرتا، آمین۔

اے ہمارے پیارے، اور جب تک ہم کسی اور نبوی حدیث کے ساتھ آپ سے ملتے ہیں، ہم آپ کو اللہ کی حفاظت میں چھوڑتے ہیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

اسے ریڈیو کے لیے لکھا: ڈاکٹر ماہر صالح