مع الحديث الشريف - كنز الذهب والفضة
مع الحديث الشريف - كنز الذهب والفضة

  نحييكم جميعا أيها الأحبة المستمعون في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

0:00 0:00
Speed:
April 16, 2025

مع الحديث الشريف - كنز الذهب والفضة

مع الحديث الشريف 

كنز الذهب والفضة

نحييكم جميعا أيها الأحبة المستمعون في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

توفي رجل من أهل الصفة

روى الطبراني في المعجم الكبير قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بن الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بن أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بن الْوَلِيدِ، قَالا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بن زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بن حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ، فَوُجِدَ فِي مِئْزَرِهِ دِينَارٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: "كَيَّةٌ"، ثُمَّ تُوُفِّيَ آخَرُ، فَوُجِدَ فِي مِئْزَرِهِ دِينَارَانِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: "كَيَّتَانِ".

مستمعينا الكرام:

قال القاضي عياض: الصفة ظلة في مؤخر مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم يأوي إليها المساكين، وإليها ينسب أهل الصفة.

وقال ابن حجر: الصفة مكان في مؤخر المسجد النبوي مظلل أعد لنزول الغرباء فيه ممن لا مأوى له ولا أهل.

وأهْلُ الصُّفَّة هم فقراء المسلمين من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم الذين لم تكن لهم منازل يسكنونها، فكانوا يأوون إلى هذا المكان المظلّل في المسجد النبوي بالمدينة المنورة، وعُرفوا بأضياف الإسلام.

ففي صحيح البخاري قال أبو هريرة رضي الله عنه: ( .. وأهل الصفة أضياف الإسلام، لا يأوون على أهل ولا مال ولا على أحد).

مستمعينا الكرام:

لقد توعد الرسول صلى الله عليه وسلم من احتفظ بالذهب من أهل الصفة وظل يعيش على الصدقة ... توعده بكيات على عدد الدنانير التي كنزها وذلك إشارةً  لقوله تعالى: (( يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ)) ( 35) سورة التوبة

وهذا الوعيد من النبي لمن يكنز الذهب ويعيش على الصدقة توكيد لحكم تحريم كنز المال والامتناع عن انفاقه ..... فالمتوفى كان من أهل الصفة الذين يعيشون على الصدقة رغم امتلاكه الذهب, وقدرته على النفقة على نفسه وهذا هو الكنز

فالكنز في اللغة هو جمع المال بعضه على بعض وحفظه .... ومال مكنوز: أي مجموع

والكنز كل شيء مجموع بعضه على بعض, سواء أكان في بطن الأرض أو على ظهرها.

وقد حرم الشارع كنز المال في قوله تعالى: ((وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ))

فالوعيد بالعذاب الأليم لمن يكنزون الذهب والفضة دليل ظاهر على أن الشرع طلب ترك كنز المال طلباً جازماً فكان كنز الذهب والفضة حراماً .... ولما كان الذهب والفضة حين نزلت الآية هما أداة التبادل ومقياس الجهد في العمل والمنفعة في المال سواء أكانت مسكوكة كالدراهم والدنانير أم لم تكن مسكوكة كالسبائك والتبر فيكون النهي عن كنزهما بوصفهما أداة التبادل ويكون المحرم هو كنز النقد بشكل عام سواء أكان ذهبا أو فضة أو أي نقد آخر.

وقد يظن بعض المسلمين أن تحريم كنز النقود يكون إن لم ينفق منه في سبيل الله أي أن من ينفق في سبيل الله فله أن يكنز ولا شيء عليه .... وهذا خطأ لأن النهي في الآية منصب على الحالتين .... فمن كنز ماله من الذهب والفضة شمله التهديد حتى لو أنفق في سبيل الله ... وكذلك من امتنع عن الانفاق في سبيل الله ولم يكنز النقود شمله التهديد .... فكنز النقود محرم حتى لو أخرجت زكاته وأنفق منه في سبيل الله

أيها المستمعون الكرام:

وأن حكم تحريم كنز النقد كان هو حل ضمن مجموعة من الحلول الشرعية لإنجاح الحياة الاقتصادية والقضاء على البطالة والتضخم والكساد ومن ثم حدوث الأزمات الاقتصادية

وبالنظر في واقع المعاملات المالية يرى أنها تبادل بين مال ومال أو مال وجهد أو مال ومنفعة وحتى بين جهد وجهد أو منفعة ومنفعة لكن تقدير المنافع والجهود يتم بواسطة النقود ....وما دامت النقود تنتقل بين أيدي الناس من المستهلك إلى المنتج ومن المنتج إلى العمال والفنيين والموظفين والمتخصصين ثم يعود من أيديهم جميعاً إلى أيدي المنتجين على اختلافهم وتنوعهم فإن العجلة الاقتصادية تبقى دائرة والإنتاج يستمر ويزداد ما دامت الناس تستهلك ما ينتج ... والعمال بمختلف تخصصاتهم يجدون مصادر للدخل ..... لكن لو كنزت النقود ومنعت من التداول فامتنع المنفقون أو بعضهم عن الإنفاق لكسد الإنتاج وما لبث أن ضعف وتوقف ما ينتج عنه تسريح العمال وانتشار البطالة وهبوط الاقتصاد ... فكان منع كنز النقود حلاً باهراً لمشكلة الكساد والبطالة ومن ثم فقر الدولة والأفراد ...

ومن الجدير ذكره أن كنز النقود غير ادخاره, فالكنز هو جمع المال بعضه فوق بعض لغير حاجة .... أما الادخار فهو جمع النقد من أجل غاية معينة والى حين التمكن من إقامة ما جمع النقد لأجله وهذا لا يضر الاقتصاد بشيء... فمن يدخر النقود من أجل إقامة مشروع تجاري أو حتى مشروع استهلاكي أو من أجل بناء بيت أو للزواج أو لجمع تكاليف دراسته أو لأي غرض آخر هو لم يمنع نقوده عن السوق للأبد بل منعاً مؤقتاً ولا يلبث أن يعيد نقوده للتداول حال بدئه بمشروعه الذي ادخر لأجله ... فالادخار ليس محرما بل مباحا ... ولا شيء عليه سوى أن يدفع زكاته إن بلغ نصاب الزكاة وحال عليه الحول ...

فهل يخطر مثل هذا الحل أو شبيهه للرأسمالية العفنة أو الاشتراكية الحمقاء أو الشيوعية الغاشمة..... الرأسمالية التي ترى ما يصيب المجتمع من سوء في توزيع الثروة ومن ثم فقر يعم الغالبية العظمى من الشعب ما يؤدي إلى  فقر الدولة فتكتفي بالمراقبة دون محاولة جادة للخروج من الأزمة  وأما الاشتراكية  فقد رأت الحل بتحديد الملكية الفردية بالكم وأما الشيوعية فكان حلها بمنع الملكية الفردية مطلقاً ... فكانت معالجاتهم جميعاً هروباً من الدلف إلى تحت المزراب .... فبئست المعالجات وبئس المعالجون .... ونعمت معالجات تأتي من لدن عليم حكيم ...

مستمعينا الكرام، وإلى حين أن نلقاكم مع حديث نبوي آخر، نترككم في رعاية الله، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

More from فقہ

مع الحديث الشريف - أتدرون من المفلس

حدیث شریف کے ساتھ

کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے معزز سامعین، اللہ آپ پر رحمت فرمائے، آپ کے ساتھ ہماری ملاقات اور ہمارا پروگرام "حدیث شریف کے ساتھ" تجدید ہوتا ہے، اور ہم اپنی قسط کا آغاز بہترین انداز میں اسلام کے سلام سے کرتے ہیں، تو السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

مسند احمد - بَاقِي مُسْنَدِ الْمُكْثِرِينَ میں آیا ہے - میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکوٰة لے کر آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا۔

  ہمیں عبدالرحمن نے زہیر سے، انہوں نے العلاء سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟" انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں اور نہ سامان۔ آپ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا تو اسے بٹھایا جائے گا، پس یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا اور یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا، پھر اگر اس کی نیکیاں اس پر واجب خطاؤں کو ادا کرنے سے پہلے ختم ہو گئیں تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔"

یہ حدیث دوسری اہم احادیث کی طرح ہے جس کا معنی سمجھنا اور ادراک کرنا ضروری ہے، تو لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنی نماز، روزے اور زکوٰة کے باوجود مفلس ہے، کیونکہ اس نے کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا اور کسی کو مارا۔

اور اس کا افلاس یہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں جو اس کا سرمایہ ہیں لے لی جائیں گی اور اس کو دی جائیں گی اور اس کی گالی گلوچ، تہمت اور مار پیٹ کی قیمت اس سے ادا کی جائے گی، اور جب اس کی نیکیاں اس پر واجب حقوق ادا کرنے سے پہلے ختم ہو جائیں گی تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔

اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے پوچھا کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ کیا تم جانتے ہو یعنی کیا تم امور کے باطن کا علم رکھتے ہو، کیا تم جانتے ہو کہ حقیقی مفلس کون ہے؟ یہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: "غنا اور فقر اللہ کے سامنے پیش ہونے کے بعد ہے" جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر جواب دیا کہ ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہے اور نہ سامان، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی نظر میں مفلس ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، .... آپ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا...

اور یہ سیدنا عمر کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نماز پڑھے لیکن اہم چیز استقامت ہے، کیونکہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰة یہ عبادات ہیں جنہیں انسان خلوص نیت سے بھی کر سکتا ہے اور دکھاوے کے لیے بھی، لیکن مرکز ثقل یہ ہے کہ اللہ کے حکم پر قائم رہا جائے۔

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے، اور ہمیں اپنے متقی بندوں میں سے بنائے، اور ہماری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے، اور ہمیں پیشی کے دن رسوا نہ کرے، اے اللہ آمین

معزز سامعین، اور آپ سے ایک اور نبوی حدیث کے ساتھ ملاقات ہونے تک، ہم آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ ریڈیو کے لیے لکھا گیا ہے

عفراء تراب

مع الحديث الشريف - المنافقون وأعمالهم الشريرة

مع الحديث الشريف

منافقین اور ان کے بُرے اعمال

ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں، اے پیارے لوگو ہر جگہ، آپ کے پروگرام "مع الحديث الشريف" کی ایک نئی قسط میں اور ہم بہترین سلام کے ساتھ آغاز کرتے ہیں، پس السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کو سردار نہ کہو، کیونکہ اگر وہ سردار ہوا تو تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کر دیا۔“ اسے ابو داؤد نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔

اے معزز سامعین

یقینا بہترین کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اور بہترین رہنمائی اس کے نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہے، اس کے بعد،

یہ حدیث شریف ہمیں ان منافقوں سے نمٹنے کے طریقے کی طرف رہنمائی کرتی ہے جنہیں ہم جانتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ واحد شخص تھے جو تمام منافقوں کو ان کے ناموں سے جانتے تھے، لیکن ہم ان میں سے کچھ کو ان کی صفات سے جان سکتے ہیں، جیسے وہ جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا کہ وہ فرائض کو سستی سے اور بادل ناخواستہ انجام دیتے ہیں، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کرتے ہیں، فتنوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور برائی کو پھیلانا پسند کرتے ہیں، اس کی دعوت دے کر، اس کی حفاظت کرکے اور اس کی نگہداشت کرکے، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں پر جھوٹ بولتے ہیں... اور ان کے علاوہ دیگر جنہوں نے نفاق سے اپنا تعلق جوڑا۔

لہذا ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے جسے شریعت نے اچھا قرار دیا ہے اور جسے برا قرار دیا ہے، تاکہ ہم منافق کو مخلص سے پہچان سکیں، اور اس کے مطابق اس کے خلاف مناسب کارروائی کریں۔ ہمیں اس شخص کی جانب سے محفوظ نہیں ہونا چاہیے جو شریعت کی مخالفت کرتا ہے اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی خاطر یہ سب کچھ کر رہا ہے، اور ہمیں اس کے پیچھے نہیں چلنا چاہیے اور نہ ہی اس کی تائید کرنی چاہیے، اور نہ ہی اس سے کم یہ کہ ہم اسے سردار کہیں، بصورت دیگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سے ناراض ہو جائے گا۔

ہم مسلمانوں کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ فکر مند ہونا چاہیے، اور کسی منافق کو اپنے دین اور اپنے اہل و عیال پر داخل ہونے کا موقع نہیں دینا چاہیے، کیونکہ وہ ان خطرناک چیزوں میں سے ہیں جن کا ہمیں ان دنوں ان کی کثرت اور ان کے متعدد چہروں کی وجہ سے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمیں اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کے اعمال کی پیمائش کرنے کے لیے شرعی میزان کو حاضر رکھنا چاہیے، کیونکہ اسلام ہمارے لیے ان جیسے شریروں سے حفاظت ہے۔

ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری امت کو ان جیسے مجرموں سے محفوظ رکھے، اور ہمیں سیدھے راستے اور صحیح میزان کی طرف رہنمائی فرمائے جس کے ذریعے ہم لوگوں کے رویے کی پیمائش کریں اور ان سے دور رہیں جنہیں اللہ پسند نہیں کرتا، آمین۔

اے ہمارے پیارے، اور جب تک ہم کسی اور نبوی حدیث کے ساتھ آپ سے ملتے ہیں، ہم آپ کو اللہ کی حفاظت میں چھوڑتے ہیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

اسے ریڈیو کے لیے لکھا: ڈاکٹر ماہر صالح