مع الحديث الشريف - لولا أن أشق على أمتي
مع الحديث الشريف - لولا أن أشق على أمتي

ورد عند البخاري في صحيحه رحمه الله 2810 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ وَلَكِنْ لَا أَجِدُ حَمُولَةً وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ وَيَشُقُّ عَلَيَّ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي وَلَوَدِدْتُ أَنِّي قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقُتِلْتُ ثُمَّ أُحْيِيتُ ثُمَّ قُتِلْتُ ثُمَّ أُحْيِيتُ"

0:00 0:00
Speed:
May 04, 2017

مع الحديث الشريف - لولا أن أشق على أمتي

مع الحديث الشريف

لولا أن أشق على أمتي

ورد عند البخاري في صحيحه رحمه الله


2810 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ وَلَكِنْ لَا أَجِدُ حَمُولَةً وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ وَيَشُقُّ عَلَيَّ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي وَلَوَدِدْتُ أَنِّي قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقُتِلْتُ ثُمَّ أُحْيِيتُ ثُمَّ قُتِلْتُ ثُمَّ أُحْيِيتُ"

من دلالات الحديث:-


أولا:- الرحمة (رحمة رسول الله صلى الله عليه وسلم بأمته):-


إن من أخصِّ أوصافه صلى الله عليه وسلم الرحمة، يخشى أن يشقَّ على أمته فلا يطيقونه، وعبَّر عنه صلى الله عليه وسلم صراحة في أكثر من حديث حين قال: (لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم بكذا !!!) وكان صلى الله عليه وسلم يحب اليُسْرَ على الناس ويأمر به، لقد كان يدعو الله تعالى لأمته كثيرا وكان عليه الصلاة وأزكى التسليم رحيماً شفيقاً بأمته أجمعين وكان يمنع أصحابه من الإكثار في المسألة لئلا يشدد الله عليهم، ومن مظاهر رحمته صلى الله عليه وسلم بأمته تذكيرهم برحمة الله تعالى بعباده وحثهم على حسن الظن به سبحانه، وأنه خَبَّأ دعوته المستجابة لتكون شفاعة لهم يوم القيامة، وأنه دعا بالرفق لمن ولي أمرهم فرفق بهم ودعا على من شقّ عليهم.


إنه الحبيب المصطفى صلوات ربي وسلامه عليهإنه من امتدحه ربه تبارك وتعالى بقوله: لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُوْلٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بِالـمُؤْمِنِيْنَ رَؤُوفٌ رَحِيْمٌ[1] (التوبة – 128)


ثانيا:- اتباع المنهج القويم بإرادة وعزيمة، بالتأسي برسول الله صلى الله عليه وسلم ومنها الجهاد، وإذن الإمام.


أما الجهاد:الجهاد فرض كفاية على الأمة، ولا يعني كونه فرض كفاية التقليل من أهميته، إذ أن الجهاد من أفضل القربات، قال الإمام أحمد - رحمه الله –(لا أعلم شيئا من العمل بعد الفرائض أفضل من الجهاد ولما ذُكِر له الجهاد جعل يبكي ويقول: ما من أعمال البر أفضل منه)

وقال شيخ الإسلام ابن تيمية - رحمه الله -


إذا أراد العدو الهجوم على المسلمين فإنه يصير دفعه واجبا على المقصودين كلهم، وعلى غير المقصودين لإعانتهم.


وقال المرداوي في الإنصاف:- فرض الكفاية واجب على الجميع. نص عليه في الجهاد. وإذا قام به من يكفي، سقط الوجوب عن الباقين.


وقد نص العلماء على أن الجهاد لا يتعين إلا في ثلاث حالات:-


1 – إذا التقى الزحفان وتقابل الصفان. لقوله تعالى: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُواْ زَحْفاً فَلاَ تُوَلُّوهُمُ الأَدْبَارَ) الأنفال: 15


2 – إذا نزل الكفار ببلد، تعيّن على أهله قتالهم ودفعهم. لقوله تعالى: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ قَاتِلُواْ الَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ الْكُفَّارِ وَلِيَجِدُواْ فِيكُمْ غِلْظَةً) التوبة:123


3 – إذا استنفر الإمام قوما لزمهم النفير. لقوله صلى الله عليه وسلم: وإذا استنفرتم فانفروا. متفق عليه


وأما إذن الإمام: قال ابن قدامة في الشرح الكبير: وأمر الجهاد موكول إلى الإمام واجتهاده، ويلزم الرعية طاعته فيما يراه من ذلك.


وقد قال الإمام أحمد: أرأيتم لو أن الناس كلهم قعدوا عن الجهاد كما قعدتم، من كان يغزو؟ أليس كان قد ذهب الإسلام؟


وقد ذكر بعض العلماء أنه لا يجوز الغزو إلا بإذن الإمام وبين ذلك ابن قدامة في المغني: مسألة؛ قال: (وإذا غزا الأمير بالناس لم يَجز لأحد أن يتعلف ولا يحتطب ولا يبارز علجا ولا يخرج من العسكر ولا يحدث حدثا إلا بإذنه) يعني لا يخرج من العسكر لتعلف وهو تحصيل العلف للدواب ولا الاحتطاب ولا غيره إلا بإذن الأمير. كما ذكروا أيضا أن المبارزة لا تكون إلا بإذن الإمام.

كما نعلم انه لم يُنقل عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه سيّر سرية أو بعث بعثا أو أنفذ جيشاً دون أن يؤمّر عليه أميرا، وقد أمّـر النبي صلى الله عليه وسلم ثلاثة من الصحابة على جيش مؤتة، وهم زيد بن حارثة وجعفر بن أبي طالب وعبد الله بن رواحة رضي الله عنهم.


ثالثا:- الغاية من الجهاد والأخذ بالأسباب:


إن المسلم يقاتل من أجل هدف سام، وغاية عظيمة، وهي إعلاء كلمة الله، والمسلم يربأ بنفسه أن يقاتل حمية أو عصبية أو لغرض دنيوي زائل فلابد أن يكون المسلم على بينة في قتاله.


وإن إخلاص النية شرط في قبول العبادات ومن لم يخلص في جهاده لم يكن لـه من نصيب فيه، ولم يكن لـه إلا ما نوى، ولا بد من وضوح الغاية من الجهاد، مع الإعداد لأنه من قاتَل العدو بغير إعداد فإنه قد خالف ما أمر به ربه، ورام النصر من غير بابه على أن يكون القتال تحت راية واضحة وضوح الشمس ،،، أن يكون لإقامة شرع الله سبحانه وتعالى وأن لا يكون لتحصيل أرض أو وطن ثم نحكم بحكم الجاهلية فبئس القصد وبئست النية.

اللهم أعزنا بالإسلام ودولة الإسلام اللهم هيئ لنا خليفة رحيما ليسير السرايا ويعقد الألوية والرايات لجند الإسلام نأتمر بأمره اللهم عجل لنا بالخلافة الراشدة الثانية لتجمع شملنا.


وصلى الله على سيدنا محمد وسلم

More from فقہ

مع الحديث الشريف - أتدرون من المفلس

حدیث شریف کے ساتھ

کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے معزز سامعین، اللہ آپ پر رحمت فرمائے، آپ کے ساتھ ہماری ملاقات اور ہمارا پروگرام "حدیث شریف کے ساتھ" تجدید ہوتا ہے، اور ہم اپنی قسط کا آغاز بہترین انداز میں اسلام کے سلام سے کرتے ہیں، تو السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

مسند احمد - بَاقِي مُسْنَدِ الْمُكْثِرِينَ میں آیا ہے - میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکوٰة لے کر آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا۔

  ہمیں عبدالرحمن نے زہیر سے، انہوں نے العلاء سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟" انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں اور نہ سامان۔ آپ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا تو اسے بٹھایا جائے گا، پس یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا اور یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا، پھر اگر اس کی نیکیاں اس پر واجب خطاؤں کو ادا کرنے سے پہلے ختم ہو گئیں تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔"

یہ حدیث دوسری اہم احادیث کی طرح ہے جس کا معنی سمجھنا اور ادراک کرنا ضروری ہے، تو لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنی نماز، روزے اور زکوٰة کے باوجود مفلس ہے، کیونکہ اس نے کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا اور کسی کو مارا۔

اور اس کا افلاس یہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں جو اس کا سرمایہ ہیں لے لی جائیں گی اور اس کو دی جائیں گی اور اس کی گالی گلوچ، تہمت اور مار پیٹ کی قیمت اس سے ادا کی جائے گی، اور جب اس کی نیکیاں اس پر واجب حقوق ادا کرنے سے پہلے ختم ہو جائیں گی تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔

اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے پوچھا کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ کیا تم جانتے ہو یعنی کیا تم امور کے باطن کا علم رکھتے ہو، کیا تم جانتے ہو کہ حقیقی مفلس کون ہے؟ یہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: "غنا اور فقر اللہ کے سامنے پیش ہونے کے بعد ہے" جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر جواب دیا کہ ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہے اور نہ سامان، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی نظر میں مفلس ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، .... آپ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا...

اور یہ سیدنا عمر کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نماز پڑھے لیکن اہم چیز استقامت ہے، کیونکہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰة یہ عبادات ہیں جنہیں انسان خلوص نیت سے بھی کر سکتا ہے اور دکھاوے کے لیے بھی، لیکن مرکز ثقل یہ ہے کہ اللہ کے حکم پر قائم رہا جائے۔

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے، اور ہمیں اپنے متقی بندوں میں سے بنائے، اور ہماری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے، اور ہمیں پیشی کے دن رسوا نہ کرے، اے اللہ آمین

معزز سامعین، اور آپ سے ایک اور نبوی حدیث کے ساتھ ملاقات ہونے تک، ہم آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ ریڈیو کے لیے لکھا گیا ہے

عفراء تراب

مع الحديث الشريف - المنافقون وأعمالهم الشريرة

مع الحديث الشريف

منافقین اور ان کے بُرے اعمال

ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں، اے پیارے لوگو ہر جگہ، آپ کے پروگرام "مع الحديث الشريف" کی ایک نئی قسط میں اور ہم بہترین سلام کے ساتھ آغاز کرتے ہیں، پس السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کو سردار نہ کہو، کیونکہ اگر وہ سردار ہوا تو تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کر دیا۔“ اسے ابو داؤد نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔

اے معزز سامعین

یقینا بہترین کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اور بہترین رہنمائی اس کے نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہے، اس کے بعد،

یہ حدیث شریف ہمیں ان منافقوں سے نمٹنے کے طریقے کی طرف رہنمائی کرتی ہے جنہیں ہم جانتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ واحد شخص تھے جو تمام منافقوں کو ان کے ناموں سے جانتے تھے، لیکن ہم ان میں سے کچھ کو ان کی صفات سے جان سکتے ہیں، جیسے وہ جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا کہ وہ فرائض کو سستی سے اور بادل ناخواستہ انجام دیتے ہیں، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کرتے ہیں، فتنوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور برائی کو پھیلانا پسند کرتے ہیں، اس کی دعوت دے کر، اس کی حفاظت کرکے اور اس کی نگہداشت کرکے، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں پر جھوٹ بولتے ہیں... اور ان کے علاوہ دیگر جنہوں نے نفاق سے اپنا تعلق جوڑا۔

لہذا ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے جسے شریعت نے اچھا قرار دیا ہے اور جسے برا قرار دیا ہے، تاکہ ہم منافق کو مخلص سے پہچان سکیں، اور اس کے مطابق اس کے خلاف مناسب کارروائی کریں۔ ہمیں اس شخص کی جانب سے محفوظ نہیں ہونا چاہیے جو شریعت کی مخالفت کرتا ہے اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی خاطر یہ سب کچھ کر رہا ہے، اور ہمیں اس کے پیچھے نہیں چلنا چاہیے اور نہ ہی اس کی تائید کرنی چاہیے، اور نہ ہی اس سے کم یہ کہ ہم اسے سردار کہیں، بصورت دیگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سے ناراض ہو جائے گا۔

ہم مسلمانوں کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ فکر مند ہونا چاہیے، اور کسی منافق کو اپنے دین اور اپنے اہل و عیال پر داخل ہونے کا موقع نہیں دینا چاہیے، کیونکہ وہ ان خطرناک چیزوں میں سے ہیں جن کا ہمیں ان دنوں ان کی کثرت اور ان کے متعدد چہروں کی وجہ سے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمیں اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کے اعمال کی پیمائش کرنے کے لیے شرعی میزان کو حاضر رکھنا چاہیے، کیونکہ اسلام ہمارے لیے ان جیسے شریروں سے حفاظت ہے۔

ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری امت کو ان جیسے مجرموں سے محفوظ رکھے، اور ہمیں سیدھے راستے اور صحیح میزان کی طرف رہنمائی فرمائے جس کے ذریعے ہم لوگوں کے رویے کی پیمائش کریں اور ان سے دور رہیں جنہیں اللہ پسند نہیں کرتا، آمین۔

اے ہمارے پیارے، اور جب تک ہم کسی اور نبوی حدیث کے ساتھ آپ سے ملتے ہیں، ہم آپ کو اللہ کی حفاظت میں چھوڑتے ہیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

اسے ریڈیو کے لیے لکھا: ڈاکٹر ماہر صالح