مع الحديث الشريف - من أحيا أرضاً ميتة
مع الحديث الشريف - من أحيا أرضاً ميتة

 نحييكم جميعا أيها الأحبة في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته. روى أبو داوود في سننه قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَحْيَا أرضا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ"

0:00 0:00
Speed:
August 27, 2015

مع الحديث الشريف - من أحيا أرضاً ميتة

مع الحديث الشريف

من أحيا أرضاً ميتة


نحييكم جميعا أيها الأحبة في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.



روى أبو داوود في سننه قال:


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَحْيَا أرضا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ"

قَالَ صَاحِبُ عَوْنِ الْمَعْبُودِ:

(مَنْ أَحْيَا أرضا مَيْتَة): الْأرض الْمَيْتَة هِيَ الَّتِي لَمْ تُعَمَّر، شُبِّهَتْ عِمَارَتهَا بِالْحَيَاةِ وَتَعْطِيلهَا بِالْمَوْتِ. قَالَ الزُّرْقَانِيُّ: مَيِّتَة بِالتَّشْدِيدِ, قَالَ الْعِرَاقِيّ: وَلَا يُقَال بِالتَّخْفِيفِ لِأَنَّهُ إِذَا خُفِّفَ تُحْذَف مِنْهُ تَاء التَّأْنِيث. وَالْمَيْتَة وَالْمَوَات وَالْمَوَتَان بِفَتْحِ الْمِيم وَالْوَاو الَّتِي لَمْ تُعَمَّر سُمِّيَتْ بِذَلِكَ تَشْبِيهًا لَهَا بِالْمَيِّتَةِ الَّتِي لَا يُنْتَفَع بِهَا لِعَدَمِ الِانْتِفَاع بِهَا بِزَرْعٍ أَوْ غَرْس أَوْ بِنَاء أَوْ نَحْوهَا. اِنْتَهَى


قَالَ الْخَطَّابِيُّ: إحياء الْمَوَات إِنَّمَا يَكُون مَحْفَرُهُ وَتَحْجِيره وَإِجْرَاء الْمَاء إِلَيْهِ وَنَحْوهَا مِنْ وُجُوه الْعِمَارَة فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ مَلَكَ بِهِ الْأرض سَوَاء كَانَ ذَلِكَ بِإِذْنِ السُّلْطَان أَوْ بِغَيْرِ إِذْنه، وَذَلِكَ أَنَّ هَذِهِ كَلِمَة شَرْط وَجَزَاء، فَهُوَ غَيْر مَقْصُور عَلَى عَيْن دُون عَيْن وَلَا عَلَى زَمَان دُون زَمَان، وَإِلَى هَذَا ذَهَبَ أَكْثَر الْعُلَمَاء.


وَقَالَ أَبُو حَنِيفَة: لَا يَمْلِكهَا بِالْإحياء حَتَّى يَأْذَن لَهُ السُّلْطَان فِي ذَلِكَ، وَخَالَفَهُ صَاحِبَاهُ فَقَالَا بِقَوْلِ عَامَّة الْعُلَمَاء. اِنْتَهَى.


(لَيْسَ لِعِرْقِ ظَالِمٍ): قَالَ الْخَطَّابِيُّ: هُوَ أَنْ يَغْرِس الرَّجُل فِي غَيْر أرضه بِغَيْرِ إِذْن صَاحِبهَا أَوْ يَبْنِي فِي أرض غَيْره بِغَيْرِ إِذْنه فَإِنَّهُ يُؤْمَر بِقَلْعِهِ إِلَّا أَنْ يَرْضَى صَاحِب الْأرض بِتَرْكِهِ. اِنْتَهَى.


وَفِي النِّهَايَة: هُوَ أَنْ يَجِيء الرَّجُل إِلَى أرض قَدْ أَحْيَاهَا رَجُل قَبْله فَيَغْرِس فِيهَا غَرْسًا غَصْبًا لِيَسْتَوْجِب بِهِ الْأرض .. وَفِي شَرْح الْمُوَطَّأ فَالظَّالِم صَاحِب الْعِرْق وَهُوَ الْغَارِس لِأَنَّهُ تَصَرُّف فِي مِلْكِ الْغَيْر. اِنْتَهَى


(حَقّ): أَيْ فِي الْإِبْقَاء فِيهَا.

أيها الكرام الكرام:


يدلُّ هذا الْحديثُ الشَّريفُ على ثلاثة أحكام شرعية تتعلق بحقوق الفرد والجماعة


الأول: إباحة الملكية الفردية فقوله: "فهي له" أي فهي ملك له.


والثاني: حرمة الاعتداء على أملاك الآخرين. من قوله: "...وليس لعرق ظالم حق"


والثالث: أن إحياء الْموات هو من أسباب التملك المشروعة, فهو عمل من الأعمال التي جعلها الشرع سببا للتملك بدلالة الحديث الذي بين أيدينا.


الإخوة الكرام: إن في تشريع هذه الأحكام حلولاً لكثير من المشاكل التي تواجه المجتمعات الإنسانية


فإباحة الملكية الفردية فيه إشباع لمظهر حب التملك الذي فطر عليه الإنسان, والذي في إباحته تشجيع للإنسان على العمل والإنتاج والإبداع مما يسهم في خدمة الأُمة ورفعتها وتقدمها


كما يصون الحكمُ الثاني ملكيات الأفراد ويبين الحقوق فيرفع الخلاف ويمنع الشقاق والخصومات


أما الحكم الثالث فأَثَرُهُ يظهر حين نعرف مكانة الأرض في حياة الإنسان, فالأرض مصدر عميم للخيرات فهي مصدر الإنتاج الزراعي الذي تقوم عليه حياة الإنسان والحيوان والطير ....كما أنها مصدر المعادن الهامة لحياة الإنسان من بترول وماء وملح وذهب وحديد وغيرها ....وعليها تقام المباني للأغراض المختلفة الاجتماعية والاقتصادية والخدمية: للسكن والاستراحة وتقديم الخدمات وبناء المصانع والأسواق والمخازن وغيرها ....


فالأرض إنما سخرها الله للإنسان ليستعملها في شؤونه المختلفة, وإن تشريع تمليكها لمن يحييها لهو أبلغ رد على من يقولون بالندرة النسبية .....فكم هي شاسعة تلك المساحات من الأراضي غير المستغلة أي الميتة في طول العالم وعرضه, وما هي إلا أن يوضع حكم إحياء الموات موضع التطبيق حتى نرى اندفاع الأفراد لاستغلال هذه المساحات وإحيائها بشتى وسائل الإحياء, استجابة لفطرة حب التملك, ولن نلبث إلا قليلا حتى نرى الأرض الزراعية قد اخضرت وأن الأرض الميتة أو المعطلة قد عمرت, فزاد الإنتاج الزراعي والحيواني ودارت العجلة الاقتصادية, وحلت مشكلة البطالة, لكن هذا يحتاج إلى حكم رشيد ذي دستور قويم وحاكم مخلص رحيم, وبعبارة أوضح, فإن هذا يحتاج إلى إقامة دولة الإسلام التي ستطبق أحكام الشرع, فتحيي الأرض وتحيي الإنسان.


أحبتنا الكرام، وإلى حين أن نلقاكم مع حديث نبوي آخر، نترككم في رعاية الله، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

More from فقہ

مع الحديث الشريف - أتدرون من المفلس

حدیث شریف کے ساتھ

کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے معزز سامعین، اللہ آپ پر رحمت فرمائے، آپ کے ساتھ ہماری ملاقات اور ہمارا پروگرام "حدیث شریف کے ساتھ" تجدید ہوتا ہے، اور ہم اپنی قسط کا آغاز بہترین انداز میں اسلام کے سلام سے کرتے ہیں، تو السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

مسند احمد - بَاقِي مُسْنَدِ الْمُكْثِرِينَ میں آیا ہے - میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکوٰة لے کر آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا۔

  ہمیں عبدالرحمن نے زہیر سے، انہوں نے العلاء سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟" انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں اور نہ سامان۔ آپ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا تو اسے بٹھایا جائے گا، پس یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا اور یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا، پھر اگر اس کی نیکیاں اس پر واجب خطاؤں کو ادا کرنے سے پہلے ختم ہو گئیں تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔"

یہ حدیث دوسری اہم احادیث کی طرح ہے جس کا معنی سمجھنا اور ادراک کرنا ضروری ہے، تو لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنی نماز، روزے اور زکوٰة کے باوجود مفلس ہے، کیونکہ اس نے کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا اور کسی کو مارا۔

اور اس کا افلاس یہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں جو اس کا سرمایہ ہیں لے لی جائیں گی اور اس کو دی جائیں گی اور اس کی گالی گلوچ، تہمت اور مار پیٹ کی قیمت اس سے ادا کی جائے گی، اور جب اس کی نیکیاں اس پر واجب حقوق ادا کرنے سے پہلے ختم ہو جائیں گی تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔

اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے پوچھا کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ کیا تم جانتے ہو یعنی کیا تم امور کے باطن کا علم رکھتے ہو، کیا تم جانتے ہو کہ حقیقی مفلس کون ہے؟ یہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: "غنا اور فقر اللہ کے سامنے پیش ہونے کے بعد ہے" جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر جواب دیا کہ ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہے اور نہ سامان، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی نظر میں مفلس ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، .... آپ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا...

اور یہ سیدنا عمر کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نماز پڑھے لیکن اہم چیز استقامت ہے، کیونکہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰة یہ عبادات ہیں جنہیں انسان خلوص نیت سے بھی کر سکتا ہے اور دکھاوے کے لیے بھی، لیکن مرکز ثقل یہ ہے کہ اللہ کے حکم پر قائم رہا جائے۔

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے، اور ہمیں اپنے متقی بندوں میں سے بنائے، اور ہماری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے، اور ہمیں پیشی کے دن رسوا نہ کرے، اے اللہ آمین

معزز سامعین، اور آپ سے ایک اور نبوی حدیث کے ساتھ ملاقات ہونے تک، ہم آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ ریڈیو کے لیے لکھا گیا ہے

عفراء تراب

مع الحديث الشريف - المنافقون وأعمالهم الشريرة

مع الحديث الشريف

منافقین اور ان کے بُرے اعمال

ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں، اے پیارے لوگو ہر جگہ، آپ کے پروگرام "مع الحديث الشريف" کی ایک نئی قسط میں اور ہم بہترین سلام کے ساتھ آغاز کرتے ہیں، پس السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کو سردار نہ کہو، کیونکہ اگر وہ سردار ہوا تو تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کر دیا۔“ اسے ابو داؤد نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔

اے معزز سامعین

یقینا بہترین کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اور بہترین رہنمائی اس کے نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہے، اس کے بعد،

یہ حدیث شریف ہمیں ان منافقوں سے نمٹنے کے طریقے کی طرف رہنمائی کرتی ہے جنہیں ہم جانتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ واحد شخص تھے جو تمام منافقوں کو ان کے ناموں سے جانتے تھے، لیکن ہم ان میں سے کچھ کو ان کی صفات سے جان سکتے ہیں، جیسے وہ جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا کہ وہ فرائض کو سستی سے اور بادل ناخواستہ انجام دیتے ہیں، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کرتے ہیں، فتنوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور برائی کو پھیلانا پسند کرتے ہیں، اس کی دعوت دے کر، اس کی حفاظت کرکے اور اس کی نگہداشت کرکے، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں پر جھوٹ بولتے ہیں... اور ان کے علاوہ دیگر جنہوں نے نفاق سے اپنا تعلق جوڑا۔

لہذا ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے جسے شریعت نے اچھا قرار دیا ہے اور جسے برا قرار دیا ہے، تاکہ ہم منافق کو مخلص سے پہچان سکیں، اور اس کے مطابق اس کے خلاف مناسب کارروائی کریں۔ ہمیں اس شخص کی جانب سے محفوظ نہیں ہونا چاہیے جو شریعت کی مخالفت کرتا ہے اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی خاطر یہ سب کچھ کر رہا ہے، اور ہمیں اس کے پیچھے نہیں چلنا چاہیے اور نہ ہی اس کی تائید کرنی چاہیے، اور نہ ہی اس سے کم یہ کہ ہم اسے سردار کہیں، بصورت دیگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سے ناراض ہو جائے گا۔

ہم مسلمانوں کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ فکر مند ہونا چاہیے، اور کسی منافق کو اپنے دین اور اپنے اہل و عیال پر داخل ہونے کا موقع نہیں دینا چاہیے، کیونکہ وہ ان خطرناک چیزوں میں سے ہیں جن کا ہمیں ان دنوں ان کی کثرت اور ان کے متعدد چہروں کی وجہ سے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمیں اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کے اعمال کی پیمائش کرنے کے لیے شرعی میزان کو حاضر رکھنا چاہیے، کیونکہ اسلام ہمارے لیے ان جیسے شریروں سے حفاظت ہے۔

ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری امت کو ان جیسے مجرموں سے محفوظ رکھے، اور ہمیں سیدھے راستے اور صحیح میزان کی طرف رہنمائی فرمائے جس کے ذریعے ہم لوگوں کے رویے کی پیمائش کریں اور ان سے دور رہیں جنہیں اللہ پسند نہیں کرتا، آمین۔

اے ہمارے پیارے، اور جب تک ہم کسی اور نبوی حدیث کے ساتھ آپ سے ملتے ہیں، ہم آپ کو اللہ کی حفاظت میں چھوڑتے ہیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

اسے ریڈیو کے لیے لکھا: ڈاکٹر ماہر صالح