مع الحديث الشريف- نظام الحكم في الإسلام
مع الحديث الشريف- نظام الحكم في الإسلام

نحييكم جميعا أيها الأحبة في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته ...

0:00 0:00
Speed:
June 15, 2024

مع الحديث الشريف- نظام الحكم في الإسلام

مع الحديث الشريف

نظام الحكم في الإسلام

نحييكم جميعا أيها الأحبة في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

كانت بنو إسرائيل تسوسهم الأنبياء

روى البخاري في صحيحه قال: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ قَالَ: "قَاعَدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ خَمْسَ سِنِينَ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمْ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ، قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ: فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ أَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ

جاء في كتاب فتح الباري لابن حجر:

قَوْله: (تَسُوسهُمْ الْأَنْبِيَاء)

أَيْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا ظَهَرَ فِيهِمْ فَسَاد بَعَثَ اللَّه لَهُمْ نَبِيًّا لَهُمْ يُقِيم أَمْرهمْ وَيُزِيل مَا غَيَّرُوا مِنْ أَحْكَام التَّوْرَاة، وَفِيهِ إِشَارَة إِلَى أَنَّهُ لَا بُدّ لِلرَّعِيَّةِ مِنْ قَائِم بِأُمُورِهَا يَحْمِلهَا عَلَى الطَّرِيق الْحَسَنَة وَيُنْصِف الْمَظْلُوم مِنْ الظَّالِم.

قَوْله: (وَإِنَّهُ لَا نَبِيّ بَعْدِي): أَيْ فَيَفْعَل مَا كَانَ أُولَئِكَ يَفْعَلُونَ.

قَوْله: (وَسَيَكُونُ خُلَفَاء): أَيْ بَعْدِي، وَقَوْله: (فَيَكْثُرُونَ): بِالْمُثَلَّثَةِ وَحَكَى عِيَاض أَنَّ مِنْهُمْ مَنْ ضَبَطَهُ بِالْمُوَحَّدَةِ وَهُوَ تَصْحِيف، وَوُجِّهَ بِأَنَّ الْمُرَاد إِكْبَار قَبِيح فِعْلهمْ.

قَوْله: (فُوا): فِعْل أَمْر بِالْوَفَاءِ، وَالْمَعْنَى أَنَّهُ إِذَا بُويِعَ الْخَلِيفَة بَعْد خَلِيفَة فَبَيْعَة الْأَوَّل صَحِيحَة يَجِب الْوَفَاء بِهَا وَبَيْعَة الثَّانِي بَاطِلَة، قَالَ النَّوَوِيّ: سَوَاء عَقَدُوا لِلثَّانِي عَالِمِينَ بِعَقْدِ الْأَوَّل أَمْ لَا، سَوَاء كَانُوا فِي بَلَد وَاحِد أَوْ أَكْثَر. سَوَاء كَانُوا فِي بَلَد الْإِمَام الْمُنْفَصِل أَمْ لَا. هَذَا هُوَ الصَّوَاب الَّذِي عَلَيْهِ الْجُمْهُور، وَقِيلَ: تَكُون لِمَنْ عُقِدَتْ لَهُ فِي بَلَد الْإِمَام دُون غَيْره، وَقِيلَ: يُقْرَع بَيْنهمَا قَالَ: وَهُمَا قَوْلَانِ فَاسِدَانِ، وَقَالَ الْقُرْطُبِيّ: فِي هَذَا الْحَدِيث حُكْم بَيْعَة الْأَوَّل وَأَنَّهُ يَجِب الْوَفَاء بِهَا، وَسَكَتَ عَنْ بَيْعَة الثَّانِي. وَقَدْ نَصَّ عَلَيْهِ فِي حَدِيث عَرْفَجَة فِي صَحِيح مُسْلِم حَيْثُ قَالَ: "فَاضْرِبُوا عُنُق الْآخَر".

قَوْله: (أَعْطُوهُمْ حَقّهمْ): أَيْ أَطِيعُوهُمْ وَعَاشِرُوهُمْ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَة، فَإِنَّ اللَّه يُحَاسِبهُمْ عَلَى مَا يَفْعَلُونَهُ بِكُمْ، وَسَتَأْتِي تَتِمَّة الْقَوْل فِي ذَلِكَ فِي أَوَائِل كِتَاب الْفِتَن.

قَوْله: (فَإِنَّ اللَّه سَائِلهمْ عَمَّا اِسْتَرْعَاهُمْ): هُوَ كَحَدِيثِ اِبْن عُمَر الْمُتَقَدِّم "كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّته" وَسَيَأْتِي شَرْحه فِي كِتَاب الْأَحْكَام إِنْ شَاءَ اللَّه تَعَالَى. وَفِي الْحَدِيث تَقْدِيم أَمْر الدِّين عَلَى أَمْر الدُّنْيَا لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْر بِتَوْفِيَةِ حَقّ السُّلْطَان لِمَا فِيهِ مِنْ إِعْلَاء كَلِمَة الدِّين وَكَفّ الْفِتْنَة وَالشَّرّ؛ وَتَأْخِير أَمْر الْمُطَالَبَة بِحَقِّهِ لَا يُسْقِطهُ، وَقَدْ وَعَدَهُ اللَّه أَنَّهُ يُخْلِصهُ وَيُوَفِّيه إِيَّاهُ وَلَوْ فِي الدَّار الْآخِرَة.

أحبّتنا الكرام:

هذا الحديث الشريف يؤكد على أن الله تعالى العليم الخبير بحاجات الناس وما يُصلح شأنهم قد هيأ لهم كل أسباب السعادة والطمأنينة, فهو سبحانه العالم بحقيقة أن الإنسان لا يستطيع العيش إلا في جماعة وأن الجماعات الإنسانية لا يستقيم حالها إلا بحاكم يرعى الناس بنظام يرتضونه فيما بينهم .... وأن خير نظام يوفر السعادة والطمأنينة للناس هو النظام الذي مصدره الخالق المدبر جل وعلا .... لذا فقد رأينا الرسول في هذا الحديث يشير إلى أن الناس تحتاج إلى النظام الرباني ... وأنه في بني إسرائيل كان تنفيذ هذا النظام يتم من قبل الأنبياء فقد تعاقب على حكم بني إسرائيل الأنبياء الواحد تلو الآخر .... لكن الإسلام الذي كان نبيه خاتم الأنبياء فقد جعل الحكم بعد الرسول للمسلمين يخلفون الرسول في تطبيق شرع الله .....  فالخليفة هو الحاكم الذي يتولى أمر المسلمين بعد الرسول صلى الله عليه وسلم ويسير على نهجه ويكمل مسيرته ...في رعاية شؤون الأمة بكتاب الله وسنة رسوله ......

يقول تعالى: "وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَنْ يَفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكَ" . .. ولما كان خطاب الرسول خطابا لأمته فإن المسلمين مأمورون باختيار خليفة يحكمهم بما أنزل الله على رسوله من أحكام تنظم شؤون العباد وترعى مصالحهم .....

ولعظم أمر الخلافة وضرورتها فقد جاءت الأدلة من الكتاب والسنة وإجماع الصحابة تؤكد عليها وأنها هي نظام الحكم في الإسلام .... أما الأدلة من الكتاب فمنها قوله تعالى: "فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنَ الْحَقِّ"

وأما السنة: فمنها حديثنا لهذا اليوم

وأما اجماع الصحابة: فانشغالهم بأمر اختيار خليفة للرسول صلى الله عليه وسلم بعد وفاته ولما يتم دفنه بعد مع أن الإسلام قد حث على الإسراع في دفن الميت فكيف إذا كان الميت هو رسول الله... فكان انشغالهم بأي عمل قبل دفنه دلالة على عظم أهمية ذلك العمل خاصة وأن أحدا منهم لم ينكر على من انشغل بأمر تولية خليفة للرسول بدل الانشغال بدفن جثمانه الطاهر مع أن هذا الأمر مما ينكر مثله لو كان مخالفاً للشرع ....فكان إجماعا من الصحابة على بالغ أهمية ذلك الأمر ألا وهو بيعة ولي للأمر خلفاً للرسول الكريم .... فإن قال قائل أن هناك من الصحابة من اعترض على أمر الانشغال بتولية خليفة عن دفن الرسول نقول أن اعتراضهم كان على شخص الخليفة لا على منصب الخلافة ....

فالخلافة إذن هي نظام الحكم في الإسلام الذي فرضه رب العالمين والذي ينصب فيه المسلمون خليفةً بالبيعة على الحكم بكتاب الله وسنة رسوله.... فهي رئاسة عامة للمسلمين جميعاً في الدنيا لإقامة أحكام الشرع الإسلامي، وحمل الدعوة الإسلامية وهي على هذا نظام فريد في الحكم مميز عن سائر الأنظمة السابقة والحالية في العالم ولا تمت لأي منها بِصِلَة. 

أحبّتنا الكرام، وإلى حين أن نلقاكم مع حديث نبوي آخر، نترككم في رعاية الله، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

More from فقہ

مع الحديث الشريف - أتدرون من المفلس

حدیث شریف کے ساتھ

کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے معزز سامعین، اللہ آپ پر رحمت فرمائے، آپ کے ساتھ ہماری ملاقات اور ہمارا پروگرام "حدیث شریف کے ساتھ" تجدید ہوتا ہے، اور ہم اپنی قسط کا آغاز بہترین انداز میں اسلام کے سلام سے کرتے ہیں، تو السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

مسند احمد - بَاقِي مُسْنَدِ الْمُكْثِرِينَ میں آیا ہے - میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکوٰة لے کر آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا۔

  ہمیں عبدالرحمن نے زہیر سے، انہوں نے العلاء سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟" انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں اور نہ سامان۔ آپ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا تو اسے بٹھایا جائے گا، پس یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا اور یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا، پھر اگر اس کی نیکیاں اس پر واجب خطاؤں کو ادا کرنے سے پہلے ختم ہو گئیں تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔"

یہ حدیث دوسری اہم احادیث کی طرح ہے جس کا معنی سمجھنا اور ادراک کرنا ضروری ہے، تو لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنی نماز، روزے اور زکوٰة کے باوجود مفلس ہے، کیونکہ اس نے کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا اور کسی کو مارا۔

اور اس کا افلاس یہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں جو اس کا سرمایہ ہیں لے لی جائیں گی اور اس کو دی جائیں گی اور اس کی گالی گلوچ، تہمت اور مار پیٹ کی قیمت اس سے ادا کی جائے گی، اور جب اس کی نیکیاں اس پر واجب حقوق ادا کرنے سے پہلے ختم ہو جائیں گی تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔

اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے پوچھا کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ کیا تم جانتے ہو یعنی کیا تم امور کے باطن کا علم رکھتے ہو، کیا تم جانتے ہو کہ حقیقی مفلس کون ہے؟ یہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: "غنا اور فقر اللہ کے سامنے پیش ہونے کے بعد ہے" جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر جواب دیا کہ ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہے اور نہ سامان، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی نظر میں مفلس ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، .... آپ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا...

اور یہ سیدنا عمر کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نماز پڑھے لیکن اہم چیز استقامت ہے، کیونکہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰة یہ عبادات ہیں جنہیں انسان خلوص نیت سے بھی کر سکتا ہے اور دکھاوے کے لیے بھی، لیکن مرکز ثقل یہ ہے کہ اللہ کے حکم پر قائم رہا جائے۔

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے، اور ہمیں اپنے متقی بندوں میں سے بنائے، اور ہماری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے، اور ہمیں پیشی کے دن رسوا نہ کرے، اے اللہ آمین

معزز سامعین، اور آپ سے ایک اور نبوی حدیث کے ساتھ ملاقات ہونے تک، ہم آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ ریڈیو کے لیے لکھا گیا ہے

عفراء تراب

مع الحديث الشريف - المنافقون وأعمالهم الشريرة

مع الحديث الشريف

منافقین اور ان کے بُرے اعمال

ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں، اے پیارے لوگو ہر جگہ، آپ کے پروگرام "مع الحديث الشريف" کی ایک نئی قسط میں اور ہم بہترین سلام کے ساتھ آغاز کرتے ہیں، پس السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کو سردار نہ کہو، کیونکہ اگر وہ سردار ہوا تو تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کر دیا۔“ اسے ابو داؤد نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔

اے معزز سامعین

یقینا بہترین کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اور بہترین رہنمائی اس کے نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہے، اس کے بعد،

یہ حدیث شریف ہمیں ان منافقوں سے نمٹنے کے طریقے کی طرف رہنمائی کرتی ہے جنہیں ہم جانتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ واحد شخص تھے جو تمام منافقوں کو ان کے ناموں سے جانتے تھے، لیکن ہم ان میں سے کچھ کو ان کی صفات سے جان سکتے ہیں، جیسے وہ جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا کہ وہ فرائض کو سستی سے اور بادل ناخواستہ انجام دیتے ہیں، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کرتے ہیں، فتنوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور برائی کو پھیلانا پسند کرتے ہیں، اس کی دعوت دے کر، اس کی حفاظت کرکے اور اس کی نگہداشت کرکے، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں پر جھوٹ بولتے ہیں... اور ان کے علاوہ دیگر جنہوں نے نفاق سے اپنا تعلق جوڑا۔

لہذا ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے جسے شریعت نے اچھا قرار دیا ہے اور جسے برا قرار دیا ہے، تاکہ ہم منافق کو مخلص سے پہچان سکیں، اور اس کے مطابق اس کے خلاف مناسب کارروائی کریں۔ ہمیں اس شخص کی جانب سے محفوظ نہیں ہونا چاہیے جو شریعت کی مخالفت کرتا ہے اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی خاطر یہ سب کچھ کر رہا ہے، اور ہمیں اس کے پیچھے نہیں چلنا چاہیے اور نہ ہی اس کی تائید کرنی چاہیے، اور نہ ہی اس سے کم یہ کہ ہم اسے سردار کہیں، بصورت دیگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سے ناراض ہو جائے گا۔

ہم مسلمانوں کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ فکر مند ہونا چاہیے، اور کسی منافق کو اپنے دین اور اپنے اہل و عیال پر داخل ہونے کا موقع نہیں دینا چاہیے، کیونکہ وہ ان خطرناک چیزوں میں سے ہیں جن کا ہمیں ان دنوں ان کی کثرت اور ان کے متعدد چہروں کی وجہ سے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمیں اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کے اعمال کی پیمائش کرنے کے لیے شرعی میزان کو حاضر رکھنا چاہیے، کیونکہ اسلام ہمارے لیے ان جیسے شریروں سے حفاظت ہے۔

ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری امت کو ان جیسے مجرموں سے محفوظ رکھے، اور ہمیں سیدھے راستے اور صحیح میزان کی طرف رہنمائی فرمائے جس کے ذریعے ہم لوگوں کے رویے کی پیمائش کریں اور ان سے دور رہیں جنہیں اللہ پسند نہیں کرتا، آمین۔

اے ہمارے پیارے، اور جب تک ہم کسی اور نبوی حدیث کے ساتھ آپ سے ملتے ہیں، ہم آپ کو اللہ کی حفاظت میں چھوڑتے ہیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

اسے ریڈیو کے لیے لکھا: ڈاکٹر ماہر صالح