مع الحديث الشريف - صلاحيات الخليفة
مع الحديث الشريف - صلاحيات الخليفة

نحييكم جميعا أيها الأحبة في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته ...

0:00 0:00
Speed:
June 19, 2024

مع الحديث الشريف - صلاحيات الخليفة

مع الحديث الشريف

صلاحيات الخليفة

نحييكم جميعا أيها الأحبة في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

روى البخاري في صحيحه قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَطَعَنَ النَّاسُ فِي إِمَارَتِهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقاً لِلْإِمَارَةِ وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ".

أحبّتنا الكرام:

هذا رسول الله أول رئيس لدولة الإسلام يعين أمير الجيش بنفسه ... ما يدل على أن رئيس الدولة في الإسلام (الخليفة) هو قائد الجيش الفعلي وليس قائداً أعلى للجيش فحسب. فليست قيادته للجيش رمزية  

وقيادة الجيش هي إحدى صلاحيات الخليفة وإلا فصلاحيات الخليفة كثيرة وتتلخص فيما يلي:

1- هو الذي يتبنى الأحكام الشرعية اللازمة لرعاية شؤون الأمة المستنبطة باجتهاد صحيح من كتاب الله وسنة رسوله، فتصبح هذه الأحكام بتبنيه لها قوانين تجب طاعتها ولا تجوز مخالفتها ...ودليلها إجماع الصحابة ... فقد رأى أبو بكر حين ولي الخلافة أن يوزع المال بين المسلمين بالتساوي لأنه حقهم جميعاً بالتساوي، ورأى عمر أنه لا يصح أن يعطى من قاتل رسول الله كمن قاتل معه، وأن يعطى الفقير كالغني .... لكن أبا بكر كان هو الخليفة فأمر بالعمل برأيه أي تبنى توزيع المال بالتساوي فاتَّبعه المسلمون في ذلك، وسار عليه القضاة والولاة وخضع له عمر وعمل برأي أبي بكر ونفذه. ولما تولى عمر الخلافة تبنى رأياً يخالف رأي أبي بكر أي أمر بتوزيع المال بالتفاضل لا بالتساوي فيعطى حسب القِدم والحاجة, فاتَّبعه المسلمون، وعمل به الولاة والقضاة، فكان إجماعاً من الصحابة على أن للإمام أي الخليفة، أن يتبنى أحكاماً معينة مأخوذة من الشرع باجتهاد صحيح ويأمر بالعمل بها وعلى المسلمين طاعتها ولو خالفت اجتهادهم وترك العمل بآرائهم واجتهاداتهم.

2- هو المسؤول عن سياسة الدولة الداخلية والخارجية معاً، وهو الذي يتولى قيادة الجيش، وله حق إعلان الحرب، وعقد الصلح والهدنة وسائر المعاهدات :.... ودليلها عمل الرسول صلى الله عليه وسلم ... فهو كان يقوم بكل تلك الأعمال بنفسه أو يعين من يقوم بها نيابة عنه كما كان يوظف من يقوم بالأعمال الإدارية فقد كان يعين المعاونين والولاة والقضاة ويحاسبهم ويراقب البيع والشراء وتوزيع المال ومساعدة العاطلين عن العمل في إيجاد أعمال لهم ... وغيرها من الأمور الداخلية وكذلك كان يخاطب الملوك ويستقبل الوفود وسائر الأمور الخارجية، وقاد الغزوات بنفسه وبعث السرايا وعين قادتها مما يدل على أنه كان القائد الفعلي للجيش وليس القائد الأعلى فحسب ... فأعلن الحرب وعقد الهدن والمعاهدات .... مما يدل أن كل هذه الأعمال هي من صلاحيات الخليفة

3- هو الذي له قبول السفراء الأجانب ورفضهم وتعيين السفراء المسلمين وعزلهم: ودليلها عمل الرسول صلى الله عليه وسلم فقد تلقى صلى الله عليه وسلم رسولي مسيلمة، وأبا رافع رسولاً من قريش، وهو الذي أرسل الرسل إلى هرقل وكسرى والمقوقس والحارث الغساني والحارث الحميري ملك اليمن والنجاشي وغيرهم من الملوك ... كما أرسل عثمان بن عفان رسولا إلى قريش مما يدل على أن الخليفة هو الذي يعين السفراء ويستقبلهم أو يرفضهم.

4- هو الذي يعين ويعزل المعاونين والولاة، وهم جميعاً مسؤولون أمامه، كما أنهم مسؤولون أمام مجلس الأمة .... دليله فعل الرسول فقد عين أبا بكر وعمر معاونين له كما عين الولاة... وحاسبهم وعزل بعضهم فقد عزل العلاء بن الحضرمي عن ولاية البحرين وحاسب ابن اللتبية على قبوله الهدية حين بعثه عاملاً على الصدقة.

5- هو الذي يعين ويعزل قاضي القضاة، والقضاة، باستثناء قاضي المظالم فهو يعينه، ولكن عزله عليه قيود، وهو الذي يعين ويعزل مديري الدوائر، وقواد الجيش، ورؤساء أركانه وأمراء ألويته... وهم جميعاً مسؤولون أمامه، وليسوا مسؤولين أمام مجلس الأمة. دليله فعل الرسول فقد عين قضاة.. ومنهم علي بن أبي طالب وأبو موسى الأشعري وقادة للجيوش والسرايا منهم أسامة بن زيد وحمزة بن عبد المطلب

6- هو الذي يتبنى الأحكام الشرعية التي توضع بموجبها ميزانية الدولة، وهو الذي يقرر فصول الميزانية، والمبالغ التي تلزم لكل جهة، سواء أكان ذلك متعلقاً بالواردات أم بالنفقات... ودليلها إجماع الصحابة... فقد فعل ذلك الخليفة الراشد أبو بكر كما فعله الخليفة عمر بن الخطاب ولم ينكر عليه أحد من الصحابة مع أنه مما ينكر مثله، فكان إجماعاً. 

أحبّتنا الكرام:

مما تقدم من عمل الرسول صلى الله عليه وسلم باعتباره حاكماً ومن إجماع الصحابة على أعمال الخلفاء الراشدين من بعده يتبين أن الخليفة هو صاحب جميع الصلاحيات في الحكم... فهو ولي أمر المسلمين وراعي مصالحهم.... وله كل الصلاحيات التي تمكنه من القيام بمسؤوليته في الولاية والرعاية ...

وهذا حكم الله وليس لأحد أن يعترض عليه أو ينتقده... فمن أدرى من الله تعالى بما يصلح الأمة ويصلح لها من خالقها وبارئها.... ومع هذا فإن فوائد تلك الصلاحيات الواسعة للخليفة ستظهر للعيان حين تعود الخلافة قريباً بإذن الله.... ويباشر الخليفة رعايته لشؤون الأمة..... فيكون المسؤول عن كل كبيرة وصغيرة فيها معروف بعينه... فتسائله الأمة وتحاسبه... ولا تضيع حقوق الناس بين مسؤولين كثر يلقي كل منهم اللوم على غيره فتضيع الحقوق ولا يحاسب المقصر فينتشر الظلم والفساد كما هو حاصل اليوم في الأنظمة الديمقراطية المطبقة في العالم ومنه عالمنا الإسلامي....

فعجل اللهم لنا بخليفة يرعى شؤوننا ويصغي لنصائحنا ويتقبل محاسبتنا ومساءلاتنا... فلا يعود هناك مجال للظلم أو الفساد.... ويعم الأمن والطمأنينة والأمان في أمة طال ظلمها وإرهابها وقهرها..... وهي تتطلع إلى يوم خلاصها بعيون ملؤها الرجاء برب رؤوف رحيم..... اللهم آمين 

أحبّتنا الكرام، وإلى حين أن نلقاكم مع حديث نبوي آخر، نترككم في رعاية الله، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

More from فقہ

مع الحديث الشريف - أتدرون من المفلس

حدیث شریف کے ساتھ

کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے معزز سامعین، اللہ آپ پر رحمت فرمائے، آپ کے ساتھ ہماری ملاقات اور ہمارا پروگرام "حدیث شریف کے ساتھ" تجدید ہوتا ہے، اور ہم اپنی قسط کا آغاز بہترین انداز میں اسلام کے سلام سے کرتے ہیں، تو السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

مسند احمد - بَاقِي مُسْنَدِ الْمُكْثِرِينَ میں آیا ہے - میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکوٰة لے کر آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا۔

  ہمیں عبدالرحمن نے زہیر سے، انہوں نے العلاء سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟" انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں اور نہ سامان۔ آپ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا تو اسے بٹھایا جائے گا، پس یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا اور یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا، پھر اگر اس کی نیکیاں اس پر واجب خطاؤں کو ادا کرنے سے پہلے ختم ہو گئیں تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔"

یہ حدیث دوسری اہم احادیث کی طرح ہے جس کا معنی سمجھنا اور ادراک کرنا ضروری ہے، تو لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنی نماز، روزے اور زکوٰة کے باوجود مفلس ہے، کیونکہ اس نے کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا اور کسی کو مارا۔

اور اس کا افلاس یہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں جو اس کا سرمایہ ہیں لے لی جائیں گی اور اس کو دی جائیں گی اور اس کی گالی گلوچ، تہمت اور مار پیٹ کی قیمت اس سے ادا کی جائے گی، اور جب اس کی نیکیاں اس پر واجب حقوق ادا کرنے سے پہلے ختم ہو جائیں گی تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔

اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے پوچھا کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ کیا تم جانتے ہو یعنی کیا تم امور کے باطن کا علم رکھتے ہو، کیا تم جانتے ہو کہ حقیقی مفلس کون ہے؟ یہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: "غنا اور فقر اللہ کے سامنے پیش ہونے کے بعد ہے" جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر جواب دیا کہ ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہے اور نہ سامان، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی نظر میں مفلس ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، .... آپ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا...

اور یہ سیدنا عمر کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نماز پڑھے لیکن اہم چیز استقامت ہے، کیونکہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰة یہ عبادات ہیں جنہیں انسان خلوص نیت سے بھی کر سکتا ہے اور دکھاوے کے لیے بھی، لیکن مرکز ثقل یہ ہے کہ اللہ کے حکم پر قائم رہا جائے۔

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے، اور ہمیں اپنے متقی بندوں میں سے بنائے، اور ہماری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے، اور ہمیں پیشی کے دن رسوا نہ کرے، اے اللہ آمین

معزز سامعین، اور آپ سے ایک اور نبوی حدیث کے ساتھ ملاقات ہونے تک، ہم آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ ریڈیو کے لیے لکھا گیا ہے

عفراء تراب

مع الحديث الشريف - المنافقون وأعمالهم الشريرة

مع الحديث الشريف

منافقین اور ان کے بُرے اعمال

ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں، اے پیارے لوگو ہر جگہ، آپ کے پروگرام "مع الحديث الشريف" کی ایک نئی قسط میں اور ہم بہترین سلام کے ساتھ آغاز کرتے ہیں، پس السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کو سردار نہ کہو، کیونکہ اگر وہ سردار ہوا تو تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کر دیا۔“ اسے ابو داؤد نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔

اے معزز سامعین

یقینا بہترین کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اور بہترین رہنمائی اس کے نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہے، اس کے بعد،

یہ حدیث شریف ہمیں ان منافقوں سے نمٹنے کے طریقے کی طرف رہنمائی کرتی ہے جنہیں ہم جانتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ واحد شخص تھے جو تمام منافقوں کو ان کے ناموں سے جانتے تھے، لیکن ہم ان میں سے کچھ کو ان کی صفات سے جان سکتے ہیں، جیسے وہ جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا کہ وہ فرائض کو سستی سے اور بادل ناخواستہ انجام دیتے ہیں، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کرتے ہیں، فتنوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور برائی کو پھیلانا پسند کرتے ہیں، اس کی دعوت دے کر، اس کی حفاظت کرکے اور اس کی نگہداشت کرکے، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں پر جھوٹ بولتے ہیں... اور ان کے علاوہ دیگر جنہوں نے نفاق سے اپنا تعلق جوڑا۔

لہذا ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے جسے شریعت نے اچھا قرار دیا ہے اور جسے برا قرار دیا ہے، تاکہ ہم منافق کو مخلص سے پہچان سکیں، اور اس کے مطابق اس کے خلاف مناسب کارروائی کریں۔ ہمیں اس شخص کی جانب سے محفوظ نہیں ہونا چاہیے جو شریعت کی مخالفت کرتا ہے اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی خاطر یہ سب کچھ کر رہا ہے، اور ہمیں اس کے پیچھے نہیں چلنا چاہیے اور نہ ہی اس کی تائید کرنی چاہیے، اور نہ ہی اس سے کم یہ کہ ہم اسے سردار کہیں، بصورت دیگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سے ناراض ہو جائے گا۔

ہم مسلمانوں کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ فکر مند ہونا چاہیے، اور کسی منافق کو اپنے دین اور اپنے اہل و عیال پر داخل ہونے کا موقع نہیں دینا چاہیے، کیونکہ وہ ان خطرناک چیزوں میں سے ہیں جن کا ہمیں ان دنوں ان کی کثرت اور ان کے متعدد چہروں کی وجہ سے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمیں اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کے اعمال کی پیمائش کرنے کے لیے شرعی میزان کو حاضر رکھنا چاہیے، کیونکہ اسلام ہمارے لیے ان جیسے شریروں سے حفاظت ہے۔

ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری امت کو ان جیسے مجرموں سے محفوظ رکھے، اور ہمیں سیدھے راستے اور صحیح میزان کی طرف رہنمائی فرمائے جس کے ذریعے ہم لوگوں کے رویے کی پیمائش کریں اور ان سے دور رہیں جنہیں اللہ پسند نہیں کرتا، آمین۔

اے ہمارے پیارے، اور جب تک ہم کسی اور نبوی حدیث کے ساتھ آپ سے ملتے ہیں، ہم آپ کو اللہ کی حفاظت میں چھوڑتے ہیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

اسے ریڈیو کے لیے لکھا: ڈاکٹر ماہر صالح