مع الحديث الشريف- توبة العبد المؤمن
مع الحديث الشريف- توبة العبد المؤمن

نحييكم جميعا أيها الأحبة المستمعون في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

0:00 0:00
Speed:
January 25, 2025

مع الحديث الشريف- توبة العبد المؤمن

مع الحديث الشريف- توبة العبد المؤمن


نحييكم جميعا أيها الأحبة المستمعون في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

ورد عند الإمام مسلم رحمه الله في صحيحه:


حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ، قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا، وَقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ أَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ فَحَدَّثَنَا بِحَدِيثَيْنِ، حَدِيثاً عَنْ نَفْسِهِ وَحَدِيثاً عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحاً بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ مِنْ رَجُلٍ فِي أَرْضٍ دَوِّيَّةٍ مَهْلِكَةٍ مَعَهُ رَاحِلَتُهُ عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَنَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَتْ فَطَلَبَهَا حَتَّى أَدْرَكَهُ الْعَطَشُ ثُمَّ قَالَ أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِيَ الَّذِي كُنْتُ فِيهِ فَأَنَامُ حَتَّى أَمُوتَ فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى سَاعِدِهِ لِيَمُوتَ فَاسْتَيْقَظَ وَعِنْدَهُ رَاحِلَتُهُ وَعَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَاللَّهُ أَشَدُّ فَرَحاً بِتَوْبَةِ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ مِنْ هَذَا بِرَاحِلَتِهِ وَزَادِهِ".  رواه مسلم

 
قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (فِي أَرْضِ دَوِّيَّةٍ مَهْلِكَةٍ) أَمَّا (دَوِّيَّةٍ) قَالَ أَهْلُ اللُّغَةِ: الدَّوِّيَّةُ الْأَرْضُ الْقَفْرُ، وَالْفَلَاةُ.

 
وَأَمَّا (الْمَهْلَكَةُ): هِيَ مَوْضِعُ خَوْفِ الْهَلَاكِ.

 
أما قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحاً بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ): قَالَ الْعُلَمَاءُ: فَرَحُ اللَّهِ تَعَالَى هُوَ رِضَاهُ.

 
وَقَالَ الْمَازِرِيُّ:- الْفَرَحُ يَنْقَسِمُ عَلَى وُجُوهٍ مِنْهَا: السُّرُورُ، وَالسُّرُورُ يُقَارِبُهُ الرِّضَا بِالْمَسْرُورِ بِهِ؟

أَصْلُ التَّوْبَةِ فِي اللُّغَةِ: الرُّجُوعُ، وَالْمُرَادُ بِالتَّوْبَةِ هُنَا: الرُّجُوعُ عَنِ الذَّنْبِ


ولَهَا ثَلَاثَةَ أَرْكَانٍ: الْإِقْلَاعُ، وَالنَّدَمُ عَلَى فِعْلِ تِلْكَ الْمَعْصِيَةِ، وَالْعَزْمُ عَلَى أَلَّا يَعُودَ إِلَيْهَا أَبَداً، فَإِنْ كَانَتِ الْمَعْصِيَةُ لِحَقِّ آدَمِيٍّ فَلَهَا رُكْنٌ رَابِعٌ، وَهُوَ التَّحَلُّلُ مِنْ صَاحِبِ ذَلِكَ الْحَقِّ، وَأَصْلُهَا النَّدَمُ وَهُوَ رُكْنُهَا الْأَعْظَمُ، وَاتَّفَقُوا عَلَى أَنَّ التَّوْبَةَ مِنْ جَمِيعِ الْمَعَاصِي وَاجِبَةٌ، وَأَنَّهَا وَاجِبَةٌ عَلَى الْفَوْرِ، لَا يَجُوزُ تَأْخِيرُهَا، سَوَاءٌ كَانَتِ الْمَعْصِيَةُ صَغِيرَةً أَوْ كَبِيرَةً، وَالتَّوْبَةُ مِنْ مُهِمَّاتِ الْإِسْلَامِ وَقَوَاعِدِهِ الْمُتَأَكِّدَةِ


وقد ساق ابن القيم رحمه الله في هذا وهو يشرح هذا الحديث في مدارج السالكين حيث قال:-


وهذا موضع الحكاية المشهورة عن بعض العارفين أنه رأى في بعض السكك باب قد فتح وخرج منه صبي يستغيث ويبكي، وأمه خلفه تطرده حتى خرج، فأغلقت الباب في وجهه ودخلت فذهب الصبي غير بعيد ثم وقف متفكرا، فلم يجد له مأوى غير البيت الذي أخرج منه، ولا من يؤويه غير والدته، فرجع مكسور القلب حزينا، فوجد الباب مرتجا فتوسده ووضع خده على عتبة الباب ونام، وخرجت أمه، فلما رأته على تلك الحال لم تملك أن رمت نفسها عليه، والتزمته تقبله وتبكي وتقول:- يا ولدي، أين تذهب عني؟ ومن يؤويك سواي؟ ألم أقل لك لا تخالفني، ولا تحملني بمعصيتك لي على خلاف ما جُبلتُ عليه من الرحمة بك والشفقة عليك. وإرادتي الخير لك؟ ثم أخذته ودخلت.

عباد الله:-

 
لقد بيّن الرسول صلى الله عليه وسلم شدة فرح العبد المؤمن التائب، فلا شك أن هذا الرجل سيفرح فرحا شديدا، وذلك لأنه قد أيس من الحياة، قد انقطع رجاؤه، حيث انفلتت راحلته التي يبلغ عليها في سفره، ويقطع عليها المسافات الطويلة، والتي تحمل متاعه وطعامه وشرابه، وتحمله هو بنفسه إلى أن يصل إلى البلد التي ليس بالغا له إلا بشق الأنفس .

 
ولكن بالمقابل فرح الله تعالى أشد فرحا بتوبة عبده، فإنه سبحانه وتعالى يفرح، لأنه يحب الخير للعبد، يحب لعباده أن يكونوا من أهل السعادة، يحب لهم أن يكونوا من أهل جنته وأهل قربه، فيحب أن يكونوا مؤمنين، وأن يكونوا تائبين، وأن يقبلوا إليه وينيبوا.

 
ومما قاله الإمام ابن القيم رحمه الله:- إذا أشرق القلب بنور الطاعة أقبلت سحائب وفود الخيرات إليه من كل ناحية، فينتقل صاحبه من طاعة إلى طاعة.

أخي المسلم:-


لا يشترط أن تكون في صحراء، ولا يشترط أن تفقد الماء والغذاء، لكن تمر عليك اللحظة بعد الخطيئة والذنب فتكون في صحراء الذنوب وفي قحط الخطايا ظمآن إلى رحمة الله وإلى مغفرته، تحت وطأة تأنيب الضمير، وزلزلة التوبة التي لا تجعلك تستقر حتى تلقي بنفسك بين يدي الله، كالميت يُغسَّل يُقلَّب يميناً وشمالاً في قمة الاستسلام لله رب العالمين.


أخي المسلم:-


إن الغاية من المثل الذي ضربه النبي – صلى الله عليه وسلم – في هذا الحديث هي دعوة المؤمنين إلى المبادرة بالتوبة، حتى يطهروا أنفسهم من أرجاس المعاصي والذنوب، كما قال الحق سبحانه وتعالى في محكم التنزيل: {وتوبوا إلى الله جميعا أيها المؤمنون لعلكم تفلحون} (النور: 31)


وعدم القنوت من رحمة الله سبحانه إذ نهانا عن القنوط واليأس من المغفرة، وأخبر أنه يغفر الذنوب كلَّها لمن تاب، كبيرَها وصغيرها، دقيقَها وجليلها، وإن الله الرحيم غفّار الذنوب علّام الغيوب ومُقَلب القلوب ستّار العيوب، هو المَلجأ لكل من ضاقت به الحِيَل وتقطعت به السُبل،


وإن التوبة طريق المتقين، وزاد المؤمنين المخلصين، فإنهم يلازمون التوبة في كل حين،،،،،،،،،،


حتى أصبحت لهم شِعارا ودِثارا، وهذا دأب الصالحين والأولياء المقربين الذين شعشع الإيمان في صدورهم ويستشعرون الخوف من الله ويستحضرون خشيته ومراقبته وأنهم إليه صائرون.


أحبتي في الله:-


ما أحوج الأمة الإسلامية إلى التوبة إلى الله وأن تنظر إلى قضيتها وأن لا تقنط من رحمة الله وأن تتوكل عليه وأن تعي وتدرك مهمتها التي أوكلها الله إليها إذ إن من أخص خصائص هذه الأمة الخيرية التي وصفها الله بها وخيرية هذه الأمة مشروطة بالأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، وما صراعنا مع الكفار إلا قضية وأي قضية:-

 
قضية الحق ضد الباطل (قضية تحكيم شرع الله ونبذ نظم الطاغوت مهما تنوعت ألفاظها من دولة مدنية أو ديموقراطية وما شاكلها من ألفاظ لنظم الطاغوت)، قضية الإيمان ضد الكفر (قضية حمل الإسلام نورا وهدى للعالم كافة ودحر الكفر)، قضية العلو في الأرض والتجبر بغير الحق مثل نظم الكفر وأعوانهم وعلى رأسهم أمريكا الكافرة ومن شايعها.


عباد الله:-

 
إن بأس المهتدين الطائعين ونصر الله إياهم قريب بإذن الله فمن يروم الجنة يسعى لها والجنة لها مهرها وسلعة الرحمن غالية والطريق إليها --- بالطاعات للواحد القهار.
اللهم اجعلنا ممن دعاك فأجبته، واستهداك فهديته، واستنصرك فنصرته، وتوكل عليك فكفيته، وتاب إليك فقبلته. اللهم طهر قلوبنا من النفاق، وأعمالنا من الرياء.


وصل اللهم على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه وسلم

مستمعينا الكرام، وإلى حين أن نلقاكم مع حديث نبوي آخر، نترككم في رعاية الله، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

More from فقہ

مع الحديث الشريف - أتدرون من المفلس

حدیث شریف کے ساتھ

کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے معزز سامعین، اللہ آپ پر رحمت فرمائے، آپ کے ساتھ ہماری ملاقات اور ہمارا پروگرام "حدیث شریف کے ساتھ" تجدید ہوتا ہے، اور ہم اپنی قسط کا آغاز بہترین انداز میں اسلام کے سلام سے کرتے ہیں، تو السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

مسند احمد - بَاقِي مُسْنَدِ الْمُكْثِرِينَ میں آیا ہے - میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکوٰة لے کر آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا۔

  ہمیں عبدالرحمن نے زہیر سے، انہوں نے العلاء سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟" انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں اور نہ سامان۔ آپ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا تو اسے بٹھایا جائے گا، پس یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا اور یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا، پھر اگر اس کی نیکیاں اس پر واجب خطاؤں کو ادا کرنے سے پہلے ختم ہو گئیں تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔"

یہ حدیث دوسری اہم احادیث کی طرح ہے جس کا معنی سمجھنا اور ادراک کرنا ضروری ہے، تو لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنی نماز، روزے اور زکوٰة کے باوجود مفلس ہے، کیونکہ اس نے کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا اور کسی کو مارا۔

اور اس کا افلاس یہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں جو اس کا سرمایہ ہیں لے لی جائیں گی اور اس کو دی جائیں گی اور اس کی گالی گلوچ، تہمت اور مار پیٹ کی قیمت اس سے ادا کی جائے گی، اور جب اس کی نیکیاں اس پر واجب حقوق ادا کرنے سے پہلے ختم ہو جائیں گی تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔

اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے پوچھا کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ کیا تم جانتے ہو یعنی کیا تم امور کے باطن کا علم رکھتے ہو، کیا تم جانتے ہو کہ حقیقی مفلس کون ہے؟ یہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: "غنا اور فقر اللہ کے سامنے پیش ہونے کے بعد ہے" جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر جواب دیا کہ ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہے اور نہ سامان، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی نظر میں مفلس ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، .... آپ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا...

اور یہ سیدنا عمر کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نماز پڑھے لیکن اہم چیز استقامت ہے، کیونکہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰة یہ عبادات ہیں جنہیں انسان خلوص نیت سے بھی کر سکتا ہے اور دکھاوے کے لیے بھی، لیکن مرکز ثقل یہ ہے کہ اللہ کے حکم پر قائم رہا جائے۔

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے، اور ہمیں اپنے متقی بندوں میں سے بنائے، اور ہماری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے، اور ہمیں پیشی کے دن رسوا نہ کرے، اے اللہ آمین

معزز سامعین، اور آپ سے ایک اور نبوی حدیث کے ساتھ ملاقات ہونے تک، ہم آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ ریڈیو کے لیے لکھا گیا ہے

عفراء تراب

مع الحديث الشريف - المنافقون وأعمالهم الشريرة

مع الحديث الشريف

منافقین اور ان کے بُرے اعمال

ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں، اے پیارے لوگو ہر جگہ، آپ کے پروگرام "مع الحديث الشريف" کی ایک نئی قسط میں اور ہم بہترین سلام کے ساتھ آغاز کرتے ہیں، پس السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کو سردار نہ کہو، کیونکہ اگر وہ سردار ہوا تو تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کر دیا۔“ اسے ابو داؤد نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔

اے معزز سامعین

یقینا بہترین کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اور بہترین رہنمائی اس کے نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہے، اس کے بعد،

یہ حدیث شریف ہمیں ان منافقوں سے نمٹنے کے طریقے کی طرف رہنمائی کرتی ہے جنہیں ہم جانتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ واحد شخص تھے جو تمام منافقوں کو ان کے ناموں سے جانتے تھے، لیکن ہم ان میں سے کچھ کو ان کی صفات سے جان سکتے ہیں، جیسے وہ جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا کہ وہ فرائض کو سستی سے اور بادل ناخواستہ انجام دیتے ہیں، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کرتے ہیں، فتنوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور برائی کو پھیلانا پسند کرتے ہیں، اس کی دعوت دے کر، اس کی حفاظت کرکے اور اس کی نگہداشت کرکے، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں پر جھوٹ بولتے ہیں... اور ان کے علاوہ دیگر جنہوں نے نفاق سے اپنا تعلق جوڑا۔

لہذا ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے جسے شریعت نے اچھا قرار دیا ہے اور جسے برا قرار دیا ہے، تاکہ ہم منافق کو مخلص سے پہچان سکیں، اور اس کے مطابق اس کے خلاف مناسب کارروائی کریں۔ ہمیں اس شخص کی جانب سے محفوظ نہیں ہونا چاہیے جو شریعت کی مخالفت کرتا ہے اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی خاطر یہ سب کچھ کر رہا ہے، اور ہمیں اس کے پیچھے نہیں چلنا چاہیے اور نہ ہی اس کی تائید کرنی چاہیے، اور نہ ہی اس سے کم یہ کہ ہم اسے سردار کہیں، بصورت دیگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سے ناراض ہو جائے گا۔

ہم مسلمانوں کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ فکر مند ہونا چاہیے، اور کسی منافق کو اپنے دین اور اپنے اہل و عیال پر داخل ہونے کا موقع نہیں دینا چاہیے، کیونکہ وہ ان خطرناک چیزوں میں سے ہیں جن کا ہمیں ان دنوں ان کی کثرت اور ان کے متعدد چہروں کی وجہ سے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمیں اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کے اعمال کی پیمائش کرنے کے لیے شرعی میزان کو حاضر رکھنا چاہیے، کیونکہ اسلام ہمارے لیے ان جیسے شریروں سے حفاظت ہے۔

ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری امت کو ان جیسے مجرموں سے محفوظ رکھے، اور ہمیں سیدھے راستے اور صحیح میزان کی طرف رہنمائی فرمائے جس کے ذریعے ہم لوگوں کے رویے کی پیمائش کریں اور ان سے دور رہیں جنہیں اللہ پسند نہیں کرتا، آمین۔

اے ہمارے پیارے، اور جب تک ہم کسی اور نبوی حدیث کے ساتھ آپ سے ملتے ہیں، ہم آپ کو اللہ کی حفاظت میں چھوڑتے ہیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

اسے ریڈیو کے لیے لکھا: ڈاکٹر ماہر صالح