مع الحديث الشريف - وجوب نصرة المسلمين
مع الحديث الشريف - وجوب نصرة المسلمين

قال الله تعالى:"وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ" الحمد لله رب العالمين، وأصلي وأسلمُ على نبينا محمدٍ وعلى آله وأصحابه الغرِّ الميامين، الذينَ كانوا إسلاماً يمشي على الأرضِ وأسلمُ تسليماً كثيرا. من صوت أمتكُم ونبضِ عزتكُم، أحييكُم مستمعينا الكرام من إذاعةِ المكتبِ الإعلاميِّ لحزبِ التحريرِ، أحييكُم بتحيةِ الإسلامِ العظيمِ، وأحمد الله العزيزَ الكريم ملهمَ الصابرين وناصرَ المستضعفين ..

0:00 0:00
Speed:
April 29, 2025

مع الحديث الشريف - وجوب نصرة المسلمين

مع الحديث الشريف

وجوب نصرة المسلمين

قال الله تعالى:"وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ" الحمد لله رب العالمين، وأصلي وأسلمُ على نبينا محمدٍ وعلى آله وأصحابه الغرِّ الميامين، الذينَ كانوا إسلاماً يمشي على الأرضِ وأسلمُ تسليماً كثيرا.

من صوت أمتكُم ونبضِ عزتكُم، أحييكُم مستمعينا الكرام من إذاعةِ المكتبِ الإعلاميِّ لحزبِ التحريرِ، أحييكُم بتحيةِ الإسلامِ العظيمِ، وأحمد الله العزيزَ الكريم ملهمَ الصابرين وناصرَ المستضعفين ..

ألتقي بكُم معَ حديثٍ جديد، في فقرةٍ متجددةٍ سائلةً المولى عز وجلَّ أن يكونَ فيما أقولُ الفائدةُ والخيرُ لأمةِ الإسلام ..

جاءَ في الحديثِ عن النبي-صلى الله عليه وسلم- أنه قال: (ما منِ امرئٍ يخذلُ امرأً مسلماً في موضعٍ تنتهكُ فيه حرمتُه وينتقصُ فيه من عرضِه إلا خذلهُ الله في موطنٍ يحبُّ فيه نصرتُه وما من امرئٍ ينصرُ مسلماً في موضعٍ ينتقصُ فيه من عرضِه وينتهكُ فيه من حرمتِه إلا نصرَه الله في موطنٍ يحبُّ نصرته) الحديث رواه أبو داود وهو حسن.

إن النصرةَ بمعناها الشاملِ تعني رفعَ الظلم، فالرسول -صلى الله عليه وسلم- جاءَ ليخرجَ الناسَ من ظلماتِ الظلمِ والجهلِ إلى نورِ العدلِ والعلم... لهذا جعلَ النصرةَ للمسلمِ على كلِّ حالٍ سواءً كان ظالماً بالأخذِ على يديهِ وإرجاعهِ إلى الحق، أو بمعاونتِه إذا كان مظلوماً وأخذِ الحقوقِ له من غيرِه.. جعلَ ذلك من الحقوقِ الواجبةِ..

نصرةُ المسلمينَ بعضُهم بعضاً من الحقوقِ التي أوجبَها الله تعالى عليهم، فعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (المسلمُ أخو المسلم لا يظلمُه ولا يسلمُه، ومن كان في حاجةِ أخيه كان الله في حاجته، ومن فرجَ عن مسلمٍ كربةً فرجَ الله عنه كربةً من كرباتِ يوم القيامة، ومن سترَ مسلماً سترَه الله يوم القيامة) رواه البخاري ومسلم والترمذي وأبو داود وأحمد.

والله سبحانه وتعالى يقول في كتابه العزيز: "وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوْا وَنَصَرُوا أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ * وَالَّذِينَ آمَنُوا مِنْ بَعْدُ وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا مَعَكُمْ فَأُولَئِكَ مِنْكُمْ وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ"

وقد كانت سيرةُ المصطفى صلواتُ ربي وسلامُه عليه حافلةً بالمواقفِ الكثيرةِ في نصرةِ المسلمين, فعندما جاء الإذنُ للنبي صلى الله عليه وسلم بالهجرة "أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ * الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ * الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الأُمُورِ" هاجرَ النبي إلى المدينةِ المنورةِ فاستقبلهُ الأنصارُ بفرحٍ وسرورٍ ونصرُوه وآووهُ وأقامَ النبي صلى الله عليه وسلم دولةَ الإسلامِ في المدينةِ المنورةِ ومنها انطلقَت رسالةُ الإسلامِ إلى العالمِ أجمع.

 والمواقفُ في هذا كثيرة، والأحاديثُ في الحثِّ على التناصرِ كثيرةٌ أيضاً، والذي يهمُّنا من خلالِ هذا الموضوع: كيف نتناصرُ ونتعاونُ بيننا نحنُ المسلمين؟! خاصةً في وقتٍ ازدادتْ فيهِ غربةُ المسلم، وكثرَ الشرُ والفسادُ والظلم، وتكالبتِ الأممُ علينا.. والواجبُ علينا:

1. نصرةُ المسلمين المجاهدينَ في كلِّ مكانٍ بالمالِ والنفسِ ما استطعنَا إلى ذلك سبيلاً.. وكذلك ندعو لهم إذا لم نقدِر على ما سبق، فإنَّ الدعاءَ عبادةٌ عظيمة.

2. الذب عن المسلمِ والدفاع عنه إذا انتُهِكَ عرضُه، أو ذُكِرَ بسوءِ في غيبتِه، فيقال لمن يذكره بالسوء: اتق الله واسكتْ عن قولِ الشَّرِّ.. فإن سكت عنه وإلا قام من عنده وتركه، فهذا من النصرة التي يقدمها المسلم لأخيـه..

3.   إذا ظُلِمَ مسلم في مالٍ أو أرض أو غير ذلك وجبت مناصرتُه، والقيامُ معه حتى يأخذَ حقهُ وافياً..

4. إذا كان المسلم ظالماً وجبتْ نصرتُه برَدِّه إلى الحقِ ومنعِه مِنْ الظلم، ويُتخذ بذلك أساليبَ منها: دعوتُه بالتي هي أحسن فإن لم يفقْ من ظلمهِ زجرُه وأنبه، فإن لم يفعلْ هجرُه حتى يتركَ ظلمهُ ذلك.. وقد شُرِعَ هجر المسلم لغرضٍ ديني حتى يتوبَ إلى الله..

5. الوقوفُ مع المسلم أيامَ الحاجاتِ والمحنِ والنكباتِ كمن فاجأهُ مرضٌ أو موتٌ أو فقرٌ أو مصيبةٌ فإنه لا بدَّ من تسليته وإدخال السرورِ عليه..

فهذا هو الواجبُ وهذا هو الذي يجبُّ أن تفعلَه الأمةُ اليوم ولكن لا حياةَ لمن تنادي, فالمئاتُ كلَ يومٍ يسقطون في سوريا ومجازرُ بشعةٌ يرتكبُها النظام الحاقد ولا أحد يتحرك, فمن لحرائرِ الشام التي تُنْتَهُك أعراضُها ومحارمهُا اليوم ومن للمسلمين والمسلماتِ في بورما وميانمار الذين يموتون في مجازرَ كلَ يومٍ, يُدفنون وهم أحياء, فحسبنا الله ونعم الوكيل, إلى متى سيظلون يُغطون أعينَهم عن ما يجري أو بالأحرى هم "صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لاَ يَعْقِلُونَ" فقد بُلينا بأنظمةٍ عميلةٍ وحكامٍ خونة هم عملاء الغرب الكافر وأذنابُه هم أداة من أدواتِه لنهب خيرات البلاد وإبادة العباد.

ولكننا على يقين بأن اللَه سوف ينصرنا بنصرٍعزيزٍ مؤزر من عنده, "ولينصرنَّ اللهُ مَنْ ينصرَه إن اللهَ لقويٌ عزيز".

فاللهم منزل الكتاب مجري السحاب هازم الأحزاب
اللهم اهزمهم وزلزلهم وأرنا فيهم عجائب قدرتك
اللهم مزقهم شر ممزق اللهم احصهم عددا واقتلهم بددا ولا تغادر منهم أحدا

اللهم من أرادنا وأراد عقيدتنا بسوء فأشغله بنفسه
اللهم أعز الإسلام والمسلمين وأذل الشرك والمشركين
اللهم إنا نسألك أن تنصر المسلمين المستضعفين في دينهم في كل مكان يا أرحم الراحمين.
اللهم آمين آمين يا رب العالمين.

اللهم ها هو الغرب الكافر أراك فينا قوته فأرنا فيه قوتك

اللهم ها هو بشار أراك فينا قوته فأرنا فيه قوتك

يا عزيز يا جبار يا منتقم

مستمعينا الكرام وإلى حين أن نلقاكم مع حديث نبوي آخر ، نترككم في رعاية الله وحفظه ..

والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

More from فقہ

مع الحديث الشريف - أتدرون من المفلس

حدیث شریف کے ساتھ

کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے معزز سامعین، اللہ آپ پر رحمت فرمائے، آپ کے ساتھ ہماری ملاقات اور ہمارا پروگرام "حدیث شریف کے ساتھ" تجدید ہوتا ہے، اور ہم اپنی قسط کا آغاز بہترین انداز میں اسلام کے سلام سے کرتے ہیں، تو السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

مسند احمد - بَاقِي مُسْنَدِ الْمُكْثِرِينَ میں آیا ہے - میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکوٰة لے کر آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا۔

  ہمیں عبدالرحمن نے زہیر سے، انہوں نے العلاء سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟" انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں اور نہ سامان۔ آپ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا تو اسے بٹھایا جائے گا، پس یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا اور یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا، پھر اگر اس کی نیکیاں اس پر واجب خطاؤں کو ادا کرنے سے پہلے ختم ہو گئیں تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔"

یہ حدیث دوسری اہم احادیث کی طرح ہے جس کا معنی سمجھنا اور ادراک کرنا ضروری ہے، تو لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنی نماز، روزے اور زکوٰة کے باوجود مفلس ہے، کیونکہ اس نے کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا اور کسی کو مارا۔

اور اس کا افلاس یہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں جو اس کا سرمایہ ہیں لے لی جائیں گی اور اس کو دی جائیں گی اور اس کی گالی گلوچ، تہمت اور مار پیٹ کی قیمت اس سے ادا کی جائے گی، اور جب اس کی نیکیاں اس پر واجب حقوق ادا کرنے سے پہلے ختم ہو جائیں گی تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔

اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے پوچھا کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ کیا تم جانتے ہو یعنی کیا تم امور کے باطن کا علم رکھتے ہو، کیا تم جانتے ہو کہ حقیقی مفلس کون ہے؟ یہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: "غنا اور فقر اللہ کے سامنے پیش ہونے کے بعد ہے" جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر جواب دیا کہ ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہے اور نہ سامان، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی نظر میں مفلس ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، .... آپ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا...

اور یہ سیدنا عمر کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نماز پڑھے لیکن اہم چیز استقامت ہے، کیونکہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰة یہ عبادات ہیں جنہیں انسان خلوص نیت سے بھی کر سکتا ہے اور دکھاوے کے لیے بھی، لیکن مرکز ثقل یہ ہے کہ اللہ کے حکم پر قائم رہا جائے۔

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے، اور ہمیں اپنے متقی بندوں میں سے بنائے، اور ہماری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے، اور ہمیں پیشی کے دن رسوا نہ کرے، اے اللہ آمین

معزز سامعین، اور آپ سے ایک اور نبوی حدیث کے ساتھ ملاقات ہونے تک، ہم آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ ریڈیو کے لیے لکھا گیا ہے

عفراء تراب

مع الحديث الشريف - المنافقون وأعمالهم الشريرة

مع الحديث الشريف

منافقین اور ان کے بُرے اعمال

ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں، اے پیارے لوگو ہر جگہ، آپ کے پروگرام "مع الحديث الشريف" کی ایک نئی قسط میں اور ہم بہترین سلام کے ساتھ آغاز کرتے ہیں، پس السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کو سردار نہ کہو، کیونکہ اگر وہ سردار ہوا تو تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کر دیا۔“ اسے ابو داؤد نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔

اے معزز سامعین

یقینا بہترین کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اور بہترین رہنمائی اس کے نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہے، اس کے بعد،

یہ حدیث شریف ہمیں ان منافقوں سے نمٹنے کے طریقے کی طرف رہنمائی کرتی ہے جنہیں ہم جانتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ واحد شخص تھے جو تمام منافقوں کو ان کے ناموں سے جانتے تھے، لیکن ہم ان میں سے کچھ کو ان کی صفات سے جان سکتے ہیں، جیسے وہ جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا کہ وہ فرائض کو سستی سے اور بادل ناخواستہ انجام دیتے ہیں، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کرتے ہیں، فتنوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور برائی کو پھیلانا پسند کرتے ہیں، اس کی دعوت دے کر، اس کی حفاظت کرکے اور اس کی نگہداشت کرکے، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں پر جھوٹ بولتے ہیں... اور ان کے علاوہ دیگر جنہوں نے نفاق سے اپنا تعلق جوڑا۔

لہذا ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے جسے شریعت نے اچھا قرار دیا ہے اور جسے برا قرار دیا ہے، تاکہ ہم منافق کو مخلص سے پہچان سکیں، اور اس کے مطابق اس کے خلاف مناسب کارروائی کریں۔ ہمیں اس شخص کی جانب سے محفوظ نہیں ہونا چاہیے جو شریعت کی مخالفت کرتا ہے اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی خاطر یہ سب کچھ کر رہا ہے، اور ہمیں اس کے پیچھے نہیں چلنا چاہیے اور نہ ہی اس کی تائید کرنی چاہیے، اور نہ ہی اس سے کم یہ کہ ہم اسے سردار کہیں، بصورت دیگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سے ناراض ہو جائے گا۔

ہم مسلمانوں کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ فکر مند ہونا چاہیے، اور کسی منافق کو اپنے دین اور اپنے اہل و عیال پر داخل ہونے کا موقع نہیں دینا چاہیے، کیونکہ وہ ان خطرناک چیزوں میں سے ہیں جن کا ہمیں ان دنوں ان کی کثرت اور ان کے متعدد چہروں کی وجہ سے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمیں اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کے اعمال کی پیمائش کرنے کے لیے شرعی میزان کو حاضر رکھنا چاہیے، کیونکہ اسلام ہمارے لیے ان جیسے شریروں سے حفاظت ہے۔

ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری امت کو ان جیسے مجرموں سے محفوظ رکھے، اور ہمیں سیدھے راستے اور صحیح میزان کی طرف رہنمائی فرمائے جس کے ذریعے ہم لوگوں کے رویے کی پیمائش کریں اور ان سے دور رہیں جنہیں اللہ پسند نہیں کرتا، آمین۔

اے ہمارے پیارے، اور جب تک ہم کسی اور نبوی حدیث کے ساتھ آپ سے ملتے ہیں، ہم آپ کو اللہ کی حفاظت میں چھوڑتے ہیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

اسے ریڈیو کے لیے لکھا: ڈاکٹر ماہر صالح