مع الحديث الشريف -  وزراء التفويض
October 28, 2015

مع الحديث الشريف - وزراء التفويض

 مع الحديث الشريف -  وزراء التفويض

نحييكم جميعا أيها الأحبة المستمعون في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته


روى الترمذي في سننه قال: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا تَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ وَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ وَوَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ فَجِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ وَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ".
جاء في تحفة الأحوذي:


قَوْلُهُ: "مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَلَهُ وَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ وَوَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ" الْوَزِيرُ الْمُوَازِرُ لِأَنَّهُ يَحْمِلُ الْوِزْرَ أَيْ الثِّقَلَ عَنْ أَمِيرِهِ، وَالْمَعْنَى: أَنَّهُ إِذَا أَصَابَهُ أَمْرٌ

شَاوَرَهُمَا كَمَا أَنَّ الْمَلِكَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ مُشْكِلٌ شَاوَرَ وَزِيرَهُ، وَمِنْهُ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَاجْعَلْ لِي وَزِيرًا مِنْ أَهْلِي هَارُونَ أَخِي اُشْدُدْ بِهِ أَزْرِي} قَالَ فِي النِّهَايَةِ الْوَزِيرُ هُوَ الَّذِي يُوَازِرُهُ فَيَحْمِلُ عَنْهُ مَا حَمَلَهُ مِنْ الْأَثْقَالِ وَاَلَّذِي يَلْتَجِئُ الْأَمِيرُ إِلَى رَأْيِهِ وَتَدْبِيرِهِ فَهُوَ مَلْجَأٌ لَهُ وَمُفْزِعٌ


قَوْلُهُ: (هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ)


وَأَخْرَجَهُ الْحَاكِمُ وَصَحَّحَهُ وَأَقَرَّهُ وَالْحَكِيمُ فِي نَوَادِرِهِ عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ وَغَيْرِهِ


كلمة الوزير في اللغة تعني المعين والمساعد، وقد استعمل القرآن الكريم كلمة وزير بهذا المعنى اللغوي، قال تعالى: {وَاجْعَلْ لِي وَزِيرًا مِنْ أَهْلِي} (29) ....طه ... أي معيناً ومساعداً.


وفي هذا الحديث فإن الكلمة جاءت بمعناها اللغوي أي وزير بمعنى معاون أو مساعد، كما جاءت مطلقة تشمل أي معونة، وأي مساعدة في أي أمر من الأمور ومنها معونة الخليفة في مسؤولية الخلافة وأعمالها... ومن الحديث أخذ حزب التحرير الأحكام الآتية


للخليفة أن يعين معاونين له ليعاونوه في تحمل أعباء الخلافة والقيام بمسؤولياتها


جواز تعدد المعاونين ... فللخليفة أن يعين معاوناً له أو أكثر حسب حاجته،


 للخليفة أن يعين معاونين له في الحكم وفي غير الحكم ... إذ أن معاوني الرسول صلى الله عليه وسلم من السماء لم يكونا معاونين له في الحكم، بينما كان أبو بكر وعمر معاونين في الحكم. فدل على أن للخليفة أن يعين معاونين له في الحكم وغير الحكم....


أما المعاونون في الحكم فيطلق عليهم لقب: معاونو التفويض:


معاونو التفويض:


هم الوزراء الذين يعينهم الخليفة معه ليعاونوه في تحمل أعباء الخلافة والقيام بمسؤولياتها وبخاصة أنه كلما كبرت وتوسعت دولة الخلافة، ينوء الخليفة بحملها وحده ويحتاج إلى من يعاونه في حملها والقيام بمسؤولياتها.


لا يصح أن يطلق عليهم وزراء دون تقييد، حتى لا يلتبس مدلول الوزير في الإسلام مع مدلول الوزير في الأنظمة الوضعية الحالية التي على الأساس الديمقراطي العلماني أو غيره من الأنظمة الموجودة في عصرنا الحاضر.


يشترط في معاون التفويض ما يشترط في الخليفة، أي أن يكون: رجلاً مسلماً حراً بالغاً عاقلاً عدلاً قادراً من أهل الكفاية فيما أوكل إليه من أعمال... وذلك أن عمل المعاون من الحكم، وأنه يمثل الخليفة في الحكم فكان اشتراط أن تتوفر فيه الشروط التي يجب أن تتوفر في الخليفة.


يقلد الخليفة معاون التفويض النيابة عنه في كل أرجاء الدولة مع عموم النظر في كل الأعمال... ومع ذلك فله أن يكلفه بعمل معين... فقد عين رسول الله صلى الله عليه وسلم أبا بكر على الحج، وعين عمر على الصدقة.... مع كونهما وزيري تفويض على الإطلاق، فكان جواز التقييد... على أن يراعى ما يلي:


من حيث التقليد: يقلد المعاون عموم النظر والنيابة في كل أرجاء الدولة


من حيث العمل: يكلف المعاون بعمل في جزء من الدولة، أي أن الولايات تقسم بين المعاونين، فيكون للخليفة مثلاً معاون في الشرق وآخر في الغرب، وآخر في الشمال، وآخر في الجنوب وهكذا...


من حيث النقل: ينقل المعاون من مكان إلى آخر ومن عمل إلى آخر دون حاجة إلى تقليد جديد، بل بتقليده الأول ... لأن أصل التقليد يشمل كل عمل.


إن المعاون له صلاحيات الخليفة في كل ما يكلف فيه من أعمال، نيابة عن الخليفة... فله أن يحكم بنفسه وأن يقلد الحكام، و ينظر في المظالم ويستنيب فيها، وأن يتولى الجهاد بنفسه وأن يقلد من يتولاه، وأن يباشر تنفيذ الأمور التي دبرها وأن يستنيب في تنفيذها...


لا يخصص معاون التفويض بأي دائرة من الجهاز الإداري كدائرة المعارف مثلاً ... لأن الذين يباشرون الأمور الإدارية هم أجراء وليسوا حكاماً، وهو حاكم وليس أجيرا، فعمله رعاية الشؤون وليس القيام بالأعمال التي يستأجر الأجراء للقيام بها ... وهو ليس ممنوعا من القيام بأي عمل إداري، لكنه لا يختص بأعمال إدارية، فهو له عموم النظر.


على معاون التفويض: أن يرفع إلى الخليفة ما اعتزمه من تدبير، ثم مطالعة الخليفة لما أمضاه من تدبير وأنفذه من ولاية وتقليد... حتى لا يصير في صلاحياته كالخليفة، فعليه أن يرفع مطالعته وأن ينفذ هذه المطالعة ما لم يوقفه الخليفة عن تنفيذها فواقع المعاون أنه نائب عن الخليفة فيما كلف به من أعمال.


على الخليفة أن يتصفح أعمال معاون التفويض وتدبيره للأمور، ليقر منها الصواب ويستدرك الخطأ وذلك:


 لأن تدبير شؤون الأمة موكول إلى الخليفة، ومحمول على اجتهاده هو، لقوله عليه الصلاة والسلام: "الإمام راع وهو مسؤول عن رعيته".


 لأن معاون التفويض قد يخطئ، فلا بد أن يستدرك الخطأ، لذا كان لا بد للخليفة من أن يتصفح جميع أعمال المعاون... على النحو التالي:


إذا دبر معاون التفويض أمراً وأقره الخليفة فله أن ينفذه كما أقره الخليفة ليس بزيادة ولا نقصان


إذا عاد الخليفة وعارض المعاون في رد ما أمضاه فينظر:


إن كان  في حكم نفذه على وجهه أو مال وضعه في حقه فرأي معاون التنفيذ هو النافذ، لأنه بالأصل رأي الخليفة، وليس للخليفة أن يستدرك ما نفذ من أحكام أو أنفق من أموال.


 إن كان ما أمضاه المعاون في غير ذلك مثل تقليد والٍ، أو تجهيز جيش، فللخليفة أن يعارضه، وفي هذه الحالة ينفذ رأي الخليفة لا رأي المعاون، لأن للخليفة أن يستدرك ذلك من فعل نفسه، فله أن يستدركه من فعل معاون التفويض.


تعيين معاوني التفويض وعزلهم:


يعين المعاون ويعزل بأمر من الخليفة


 عند وفاة الخليفة تنتهي ولاية معاوني التفويض ولا يستمرون في عملهم إلا في فترة الأمير المؤقت


 لا يحتاجون إلى عزل، لأن ولايتهم في حكم المنتهية بوفاة الخليفة الذي اتخذهم معاونين له


 إذا أراد الخليفة الجديد أن يعينهم معاوني تفويض له فإنهم يحتاجون إلى تقليد جديد من الخليفة الجديد.


إن معاونو التفويض هم الجهاز الثاني من أجهزة دولة الخلافة بعد الجهاز الأول والرئيس في الدولة وهو: الخليفة...


احبتنا الكرام، وإلى حين أن نلقاكم مع حديث نبوي آخر، نترككم في رعاية الله، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

More from فقہ

مع الحديث الشريف - أتدرون من المفلس

حدیث شریف کے ساتھ

کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے معزز سامعین، اللہ آپ پر رحمت فرمائے، آپ کے ساتھ ہماری ملاقات اور ہمارا پروگرام "حدیث شریف کے ساتھ" تجدید ہوتا ہے، اور ہم اپنی قسط کا آغاز بہترین انداز میں اسلام کے سلام سے کرتے ہیں، تو السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

مسند احمد - بَاقِي مُسْنَدِ الْمُكْثِرِينَ میں آیا ہے - میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکوٰة لے کر آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا۔

  ہمیں عبدالرحمن نے زہیر سے، انہوں نے العلاء سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟" انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں اور نہ سامان۔ آپ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا تو اسے بٹھایا جائے گا، پس یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا اور یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا، پھر اگر اس کی نیکیاں اس پر واجب خطاؤں کو ادا کرنے سے پہلے ختم ہو گئیں تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔"

یہ حدیث دوسری اہم احادیث کی طرح ہے جس کا معنی سمجھنا اور ادراک کرنا ضروری ہے، تو لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنی نماز، روزے اور زکوٰة کے باوجود مفلس ہے، کیونکہ اس نے کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا اور کسی کو مارا۔

اور اس کا افلاس یہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں جو اس کا سرمایہ ہیں لے لی جائیں گی اور اس کو دی جائیں گی اور اس کی گالی گلوچ، تہمت اور مار پیٹ کی قیمت اس سے ادا کی جائے گی، اور جب اس کی نیکیاں اس پر واجب حقوق ادا کرنے سے پہلے ختم ہو جائیں گی تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔

اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے پوچھا کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ کیا تم جانتے ہو یعنی کیا تم امور کے باطن کا علم رکھتے ہو، کیا تم جانتے ہو کہ حقیقی مفلس کون ہے؟ یہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: "غنا اور فقر اللہ کے سامنے پیش ہونے کے بعد ہے" جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر جواب دیا کہ ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہے اور نہ سامان، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی نظر میں مفلس ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، .... آپ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا...

اور یہ سیدنا عمر کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نماز پڑھے لیکن اہم چیز استقامت ہے، کیونکہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰة یہ عبادات ہیں جنہیں انسان خلوص نیت سے بھی کر سکتا ہے اور دکھاوے کے لیے بھی، لیکن مرکز ثقل یہ ہے کہ اللہ کے حکم پر قائم رہا جائے۔

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے، اور ہمیں اپنے متقی بندوں میں سے بنائے، اور ہماری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے، اور ہمیں پیشی کے دن رسوا نہ کرے، اے اللہ آمین

معزز سامعین، اور آپ سے ایک اور نبوی حدیث کے ساتھ ملاقات ہونے تک، ہم آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ ریڈیو کے لیے لکھا گیا ہے

عفراء تراب

مع الحديث الشريف - المنافقون وأعمالهم الشريرة

مع الحديث الشريف

منافقین اور ان کے بُرے اعمال

ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں، اے پیارے لوگو ہر جگہ، آپ کے پروگرام "مع الحديث الشريف" کی ایک نئی قسط میں اور ہم بہترین سلام کے ساتھ آغاز کرتے ہیں، پس السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کو سردار نہ کہو، کیونکہ اگر وہ سردار ہوا تو تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کر دیا۔“ اسے ابو داؤد نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔

اے معزز سامعین

یقینا بہترین کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اور بہترین رہنمائی اس کے نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہے، اس کے بعد،

یہ حدیث شریف ہمیں ان منافقوں سے نمٹنے کے طریقے کی طرف رہنمائی کرتی ہے جنہیں ہم جانتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ واحد شخص تھے جو تمام منافقوں کو ان کے ناموں سے جانتے تھے، لیکن ہم ان میں سے کچھ کو ان کی صفات سے جان سکتے ہیں، جیسے وہ جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا کہ وہ فرائض کو سستی سے اور بادل ناخواستہ انجام دیتے ہیں، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کرتے ہیں، فتنوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور برائی کو پھیلانا پسند کرتے ہیں، اس کی دعوت دے کر، اس کی حفاظت کرکے اور اس کی نگہداشت کرکے، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں پر جھوٹ بولتے ہیں... اور ان کے علاوہ دیگر جنہوں نے نفاق سے اپنا تعلق جوڑا۔

لہذا ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے جسے شریعت نے اچھا قرار دیا ہے اور جسے برا قرار دیا ہے، تاکہ ہم منافق کو مخلص سے پہچان سکیں، اور اس کے مطابق اس کے خلاف مناسب کارروائی کریں۔ ہمیں اس شخص کی جانب سے محفوظ نہیں ہونا چاہیے جو شریعت کی مخالفت کرتا ہے اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی خاطر یہ سب کچھ کر رہا ہے، اور ہمیں اس کے پیچھے نہیں چلنا چاہیے اور نہ ہی اس کی تائید کرنی چاہیے، اور نہ ہی اس سے کم یہ کہ ہم اسے سردار کہیں، بصورت دیگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سے ناراض ہو جائے گا۔

ہم مسلمانوں کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ فکر مند ہونا چاہیے، اور کسی منافق کو اپنے دین اور اپنے اہل و عیال پر داخل ہونے کا موقع نہیں دینا چاہیے، کیونکہ وہ ان خطرناک چیزوں میں سے ہیں جن کا ہمیں ان دنوں ان کی کثرت اور ان کے متعدد چہروں کی وجہ سے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمیں اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کے اعمال کی پیمائش کرنے کے لیے شرعی میزان کو حاضر رکھنا چاہیے، کیونکہ اسلام ہمارے لیے ان جیسے شریروں سے حفاظت ہے۔

ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری امت کو ان جیسے مجرموں سے محفوظ رکھے، اور ہمیں سیدھے راستے اور صحیح میزان کی طرف رہنمائی فرمائے جس کے ذریعے ہم لوگوں کے رویے کی پیمائش کریں اور ان سے دور رہیں جنہیں اللہ پسند نہیں کرتا، آمین۔

اے ہمارے پیارے، اور جب تک ہم کسی اور نبوی حدیث کے ساتھ آپ سے ملتے ہیں، ہم آپ کو اللہ کی حفاظت میں چھوڑتے ہیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

اسے ریڈیو کے لیے لکھا: ڈاکٹر ماہر صالح