مع الحديث الشریف - اے ابن آدم میری عبادت کے لئے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ غنیٰ سے بھر دوں گا
ہم آپ سبھی پیارے سامعین کو ہر جگہ پر آپ کے پروگرام "مع الحدیث الشریف" کی ایک نئی قسط میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اور بہترین سلام کے ساتھ آغاز کرتے ہیں، تو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ غنیٰ سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی دور کردوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے دونوں ہاتھ کاموں سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی دور نہیں کروں گا۔"
تحفۃ الأحوذی بشرح جامع الترمذی
قوله: (إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ يَا اِبْنَ آدَمَ تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي)
یعنی اپنی اہم ضروریات سے میرے اطاعت کے لیے فارغ ہو جا۔
(أَمْلَأْ صَدْرَك) یعنی تیرے دل کو۔
(غِنًى) اور غنیٰ تو بس دل کا غنیٰ ہے۔
(وَأَسُدَّ فَقْرَك) یعنی اپنی اہم ضروریات سے میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیری ضروریات پوری کروں گا اور تجھے اپنی مخلوق سے بے نیاز کر دوں گا، اور اگر تو ایسا نہیں کرے گا تو میں تیرے دونوں ہاتھ کاموں سے بھر دوں گا۔ اور تیری محتاجی دور نہیں کروں گا یعنی اگر تو اس کے لیے فارغ نہیں ہوگا اور میرے علاوہ کسی اور کام میں مشغول رہے گا تو میں تیری محتاجی دور نہیں کروں گا کیونکہ مخلوق مطلق طور پر محتاج ہے تو تیری محتاجی میں اور اضافہ ہو جائے گا۔
ہمارے معزز سامعین:
کتنا عجیب ہے اس شخص کا معاملہ جو رزق کی تلاش یا دنیا سے بڑا حصہ حاصل کرنے کے بہانے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عبادت کے لیے فارغ نہیں ہوتا! اور یہاں عبادت سے مراد یقیناً صرف اسلام کے پانچ ارکان نہیں ہیں، اور اس کی وضاحت کے لیے اللہ تعالیٰ کا یہ قول کافی ہے (کہہ دیجیے کہ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے)۔
کیا وہ لوگ نہیں جانتے جو رزق میں مشغول ہونے کو اللہ کی عبادت کے لیے فارغ ہونے پر ترجیح دیتے ہیں، کہ وہ اپنے اس فعل سے اللہ اور اس کے حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں معاذ اللہ! کیا غنیٰ اور فقر اللہ علیم وقدیر کا معاملہ نہیں ہے؟ کیا رزق اللہ رزاق کریم کی طرف سے کفیل نہیں ہے! تو ہم اپنے لیے کیسے راضی ہو سکتے ہیں کہ ہم اس کام میں مشغول ہوں جو اللہ سبحانہ کا معاملہ ہے، اور اس کام کو چھوڑ دیں جس میں مشغول ہونے کا ہم سے سبحانہ نے مطالبہ کیا ہے، اور وہ ہے اس کی عبادت کے لیے فارغ ہونا عزوجل، اور اس میں سرفہرست اللہ عزوجل کے دین کو قائم کرنے اور اسے تمام دینوں پر غالب کرنے کے لیے فارغ ہونا ہے!
ہمارے معزز سامعین اور ایک اور نبوی حدیث کے ساتھ آپ سے ملاقات تک ہم آپ کو اللہ کی حفظ و امان میں چھوڑتے ہیں والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔