تازہ ترین پوسٹس

نمایاں مضمون

null

null

مزید پڑھیں
الرادار: ولاية سوڈان میں حزب التحریر کے ترجمان "ابراہیم عثمان ابو خلیل" کا موجودہ سیاسی صورتحال پر گرما گرم انٹرویو

الرادار: ولاية سوڈان میں حزب التحریر کے ترجمان "ابراہیم عثمان ابو خلیل" کا موجودہ سیاسی صورتحال پر گرما گرم انٹرویو

حزب التحریر، سوڈان کی ریاست، جنگ کے زمانے میں بھی سب سے زیادہ فعال سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے۔ یہ واقعات کو اچھی طرح سے فالو کرتی ہے اور اس کی ایک ایسی بصیرت ہے جسے وہ چھپاتی نہیں، لوگ اس سے متفق ہوں یا اختلاف کریں۔ جب جنگ کی وجہ سے خرطوم میں کام میں رکاوٹ آئی تو پارٹی پورٹ سوڈان، انتظامی دارالحکومت منتقل ہو گئی اور اس نے ایک دفتر کرائے پر لیا جس کے ذریعے وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ "الرادار نیوز" کی سوڈان کی ریاست میں حزب التحریر کے ترجمان پروفیسر ابراہیم عثمان ابو خلیل کے ساتھ یہ ملاقات ہوئی۔ پیش خدمت ہے گفتگو کے اقتباسات

حکمرانِ پاکستان، ٹرمپ کے کارندے، حزب التحریر کے نوجوانوں کو ارضِ مبارکہ فلسطین سے مکمل دستبرداری کو یقینی بنانے کے لیے اغوا کر رہے ہیں۔

حکمرانِ پاکستان، ٹرمپ کے کارندے، حزب التحریر کے نوجوانوں کو ارضِ مبارکہ فلسطین سے مکمل دستبرداری کو یقینی بنانے کے لیے اغوا کر رہے ہیں۔

ٹرمپ کے پسندیدہ فیلڈ کمانڈر، عاصم منیر نے، حزب التحریر کی جانب سے پاکستان کی ریاست میں فلسطین کی آزادی کے لیے پاکستانی مسلح افواج کو فوری طور پر متحرک کرنے کے مطالبے پر مبنی مضبوط مہم پر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ عاصم منیر کے بدمعاشوں نے لاہور، کراچی اور پشاور سے پانچ داعیوں کو اغوا کر لیا ہے اور ان کا ٹھکانہ ابھی تک نامعلوم ہے۔ عاصم منیر کی سرکشی متوقع تھی، کیونکہ وہ کسی بھی معاملے میں ٹرمپ کی ہدایات سے باہر نہ تو عمل کرنے اور نہ ہی سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے، چاہے وہ غزہ، کشمیر، افغانستان یا پاکستان کے وسیع معدنی وسائل سے متعلق ہو۔

آپ نے مسلمانوں کو بھوکا مارا ہے، مسعود بزیشکیان!

آپ نے مسلمانوں کو بھوکا مارا ہے، مسعود بزیشکیان!

ایران نے اپنے سب سے بڑے نجی بینک (آئندہ) کے دیوالیہ ہونے کا اعلان کیا ہے، اس بینک کی ایران میں 270 شاخیں ہیں، اس پر پانچ ارب ڈالر سے زائد کا قرضہ ہے۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ایرانی صدر مسعود بزیشکیان نے انتظامی ناکامی پر تنقید کرتے ہوئے کہا: "ہمارے پاس تیل اور گیس ہے لیکن ہم بھوکے ہیں!"

انڈونیشیا: دنیا کو یاد دلانے کے لیے بڑے پیمانے پر ریلیاں "فلسطین اب بھی زیرِ قبضہ ہے"

انڈونیشیا: دنیا کو یاد دلانے کے لیے بڑے پیمانے پر ریلیاں "فلسطین اب بھی زیرِ قبضہ ہے"

انڈونیشیا کے مختلف شہروں میں ہزاروں مسلمانوں نے 18 اور 19 اکتوبر 2025 کو فلسطین کے حامی ریلیاں منعقد کیں، جن کا نعرہ تھا "فلسطین اب بھی زیرِ قبضہ ہے۔" باندونگ میں 15 ہزار سے زائد مظاہرین گیدونگ ساتے عمارت کے سامنے جمع ہوئے، جنہوں نے توحید کے جھنڈے اور ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے جیسے "اسلامی فوجیں بھیجو، فلسطین کو آزاد کراؤ!" اور "فلسطین کا حتمی حل جہاد اور خلافت ہے" اور "خلافت اور جہاد سے فلسطین آزاد ہوگا"۔

36 / 10603