تازہ ترین پوسٹس

نمایاں مضمون

null

null

مزید پڑھیں
جریدۃ الرایہ: ڈیجیٹل خودمختاری - یہ کیا ہے اور اس کا مالک کون ہے؟

جریدۃ الرایہ: ڈیجیٹل خودمختاری - یہ کیا ہے اور اس کا مالک کون ہے؟

جب ہم خودمختاری کی بات کرتے ہیں تو ذہن میں سرحدیں، نقشے اور فوجیں آتی ہیں۔ لیکن الیکٹرانک نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل تبدیلی کے دور میں، خودمختاری کی ایک اور قسم ابھری ہے جسے ڈیجیٹل خودمختاری کہا جاتا ہے۔ اور یہ ریاستوں کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ کسی بھی فریق کی سرپرستی کے بغیر یہ فیصلہ کریں کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کیسے تعمیر کیا جائے؟ ان کا ڈیٹا کہاں محفوظ کیا جائے؟ وہ کون سے معیارات اپنائیں؟ اور معیشت اور شہریوں کو ان حملوں سے کیسے بچایا جائے جو نظروں سے اوجھل ہیں؟ جو کوئی اس صلاحیت کا مالک ہے وہ نہ صرف اپنی سائبر اسپیس کی حفاظت کرتا ہے؛ بلکہ سیاسی اور اقتصادی اثر و رسوخ بھی حاصل کرتا ہے جو جغرافیہ سے ماورا ہے۔

جریدۃ الرایہ: متفرقۃ الرایہ - العدد 563

جریدۃ الرایہ: متفرقۃ الرایہ - العدد 563

بیشک فلسطین، اور جیسا کہ کل صلیبیوں سے امت کی آغوش میں واپس آئی، ان سپاہیوں کے ہاتھوں جو اسلامی ممالک کے مشرق و مغرب سے اسے آزاد کرانے کے لیے جمع ہوئے تھے، تو بیشک اللہ کے حکم سے اس کی ایک اور قریبی واپسی ہے، امت کے باوضو بیٹوں کے ہاتھوں، تاکہ وہ شام کا نگینہ اور مسلمانوں کا مرکز بنے۔ ﴿فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ لِيَسُوءُوا وُجُوهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِيُتَبِّرُوا مَا عَلَوْا تَتْبِيراً﴾

131 / 10603