تازہ ترین پوسٹس

نمایاں مضمون

null

null

مزید پڑھیں
مع الحديث الشريف - العبد المؤمن بين الخوف والرجاء!!

مع الحديث الشريف - العبد المؤمن بين الخوف والرجاء!!

آپ سبھی پیارے سامعین کرام کو ہر جگہ خوش آمدید کہتے ہیں۔ ہم آپ سے آپ کے پروگرام "مع الحديث النبوي الشريف" کی ایک نئی قسط میں ملتے ہیں اور بہترین سلام کے ساتھ آغاز کرتے ہیں۔ پس آپ پر سلام، اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں، اس کے بعد:

کتاب "سرعة البدیهة" کا خلاصہ - قسط نمبر 5

کتاب "سرعة البدیهة" کا خلاصہ - قسط نمبر 5

مسئلے کی حقیقت: مسئلے کی حقیقت یہ ہے کہ سوچنا فطری طور پر سست ہو گیا ہے، اور علاج اس مسئلے سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔ سست سوچ ہی اصل مسئلہ ہے، اور اس کا عادت بن جانا اور فطری ہو جانا ہی درحقیقت مسئلہ ہے۔ لوگوں میں سست سوچ ہی اصل ہے، یہاں تک کہ انہوں نے سرعت بدیہہ کو کھو دیا ہے۔ اگر یہ آتی بھی ہے تو صرف خطرے کے وقت آتی ہے، اور سرعت بدیہہ کی بنیاد پر کوئی اقدام کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ہمیں کسی اقدام کی ضرورت ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ اس لیے سرعت بدیہہ کا ہر وقت اور ہر چیز میں ہونا ضروری ہے، یہ صرف خطرے کے وقت نہیں ہونی چاہیے، بلکہ تمام حالات کا احاطہ کرنا چاہیے۔

162 / 10603