تازہ ترین پوسٹس

نمایاں مضمون

null

null

مزید پڑھیں
جریدۃ الرایہ: استانبول کے بیان اور سابقہ فتاوی کے درمیان فرق!

جریدۃ الرایہ: استانبول کے بیان اور سابقہ فتاوی کے درمیان فرق!

اردگان کی میزبانی میں جمع ہونے والے علماء نے اپنی کانفرنس کے اختتام پر جسے انہوں نے "غزہ ایک اسلامی اور انسانی ذمہ داری ہے" کا نام دیا اور جو استنبول میں چھ دن تک جاری رہی، ایک حتمی بیان جاری کیا جس کا آغاز انہوں نے اللہ کی راہ میں تیاری اور جہاد کی آیات سے کیا، یہاں تک کہ پڑھنے والا یہ سمجھتا تھا کہ اس کے بعد آنے والے پیراگراف اور فیصلے صرف اس بات کا عملی بیان ہوں گے کہ فوری طور پر جہاد میں کیسے شامل ہوا جائے جو نہ صرف غزہ کو بچائے گا بلکہ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کو بھی آزاد کرائے گا۔

جریدۃ الرایۃ: کافر نوآبادیاتی ممالک کی تابعداری ارادے کو چھین لیتی ہے، سمت کو بگاڑتی ہے اور توانائیوں کو ضائع کرتی ہے

جریدۃ الرایۃ: کافر نوآبادیاتی ممالک کی تابعداری ارادے کو چھین لیتی ہے، سمت کو بگاڑتی ہے اور توانائیوں کو ضائع کرتی ہے

شام میں جو کچھ امریکہ اور بین الاقوامی نظام کی مرضی کے تابع ہو کر ہو رہا ہے، اس کے زیر سایہ لوگ ارادے کے سلب ہونے، فیصلے کے فقدان اور مستقبل کے خوف کا شکار ہیں۔ شام میں کون فیصلہ کرتا ہے اور ہم نے فیصلہ کیوں کھو دیا، اس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم شامی انقلاب کے آغاز سے اس کے سفر کا جائزہ لیں۔

جریدۃ الرایہ: متفرقۃ الرایہ – العدد 564

جریدۃ الرایہ: متفرقۃ الرایہ – العدد 564

بیشک قضیہ فلسطین کی نمائندگی کوئی تنظیم نہیں کرتی اور نہ ہی کسی قبیلے کی ملکیت ہے، بلکہ یہ پوری امت کا مسئلہ ہے، اور اس میں بقیہ مسلمانوں سے زیادہ اہل فلسطین کا کوئی حق نہیں ہے، اور نہ ہی ان کے مقابلے میں ان کی طرف کوئی ذمہ داری ہے، یہ دین اور عقیدے کا مسئلہ ہے، اور ایک مبارک سرزمین کا مسئلہ ہے، جو قبضے کے شکنجے میں کمزور ریاست سے حل نہیں ہو سکتا، بلکہ امت محمد ﷺ کے سچے مومنین کے ہاتھوں آزاد ہو گا، تو یہ اسی طرح لوٹے گی جیسے شام کا پھول اور مینارہ تھی اور یہ اسلام کی اصل جگہ بن جائے گی جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے خوشخبری دی تھی۔

کیان یہود مسلم ممالک میں سب سے بڑا مسئلہ ہے اور اس کے حامی دنیا میں سب سے بڑا مسئلہ ہیں؛ اے ٹرمپ!

کیان یہود مسلم ممالک میں سب سے بڑا مسئلہ ہے اور اس کے حامی دنیا میں سب سے بڑا مسئلہ ہیں؛ اے ٹرمپ!

ذرائع ابلاغ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے بارے میں اس بیان کو نقل کیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں: "غزہ اسرائیل اور مشرق وسطی کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔" اور ہم نے مسلم ممالک کے کسی بھی رويبضہ حکمران کو ان کے کلام کا جواب دیتے ہوئے یہ کہتے ہوئے نہیں سنا: بے شک غاصب کیان یہود مسلم ممالک میں سب سے بڑا مسئلہ ہے، اور تم ہی ہو جو اسے جنگی ساز و سامان اور سیاسی و اقتصادی مدد فراہم کرتے ہو؛ تو تم پوری دنیا میں سب سے بڑا مسئلہ ہو، تمہارا سرمایہ دارانہ اصول دنیا کی بدبختی کا سبب ہے،

119 / 10603