مع الحديث الشريف - العقود والمعاملات والأقضية قبل قيام الخلافة
نحييكم جميعا أيها الأحبة المستمعون في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته
نحييكم جميعا أيها الأحبة المستمعون في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته
خبر:
خبر:
خبر:
أما طريقة التفكير فهي الكيفية التي يجري عليها العملية العقلية، وهي لا تتغير، أما أسلوب التفكير فهي الكيفية التي يقتضيها بحث الشيء وهي تختلف حسب واقع الشيء. إن الطريقة العقلية سميت نسبة إلى العقل، وهي تعني منهجا معينا في البحث يُسلك في الوصول إلى طبيعة الشيء عن طريق نقل الإحساس بالواقع إلى الدماغ مع وجود معلومات سابقة من أجل إصدار الحكم على الأشياء، وهي طريقة تفكير في كل شيء، سواء الفيزياء أم غيرها.
سلسلہ حلقات - کیسے خلافت کو منہدم کیا گیا - قسط 24
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مَنْ أَنْفَقَ نفقةً فاضلةً في سبيلِ اللهِ فسبعمائة، وَمَنْ أَنْفَقَ عَلَى نَفْسِهِ وَأَهْلِهِ أَوْ عَادَ مريضاً أو أماط أذى فالحسنة بعشر أمثالِها، والصومُ جُنَّةٌ مالم يَخْرُقْهَا، وَمَنِ ابْتَلَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِبَلَاءٍ في جسدِه فهو له حِطَّةٌ » رواه أحمد کا ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں عمدہ خرچ کیا تو وہ سات سو گنا ہے، اور جس نے اپنی ذات اور اپنے اہل پر خرچ کیا یا کسی بیمار کی عیادت کی یا کسی تکلیف دہ چیز کو دور کیا تو ایک نیکی دس گنا ہے، اور روزہ ڈھال ہے جب تک کہ اسے پھاڑ نہ دیا جائے، اور جسے اللہ عزوجل نے اس کے جسم میں کسی مصیبت سے آزمایا تو یہ اس کے لیے معافی ہے۔ اسے احمد نے روایت کیا ہے۔
آج بہت سے مسلمان چین کے عروج اور امریکہ کے زوال کی پیروی کرنے میں مصروف ہیں، اور بحث کر رہے ہیں: کون زیادہ طاقتور ہے؟ کون سبقت لے جائے گا؟ کیا چین ایک عظیم طاقت کے طور پر امریکہ کی جگہ لینے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ کیا امریکہ کا کوئی حریف نہیں ہے؟ لیکن اصل سوال یہ ہے: ہم مسلمان اس تنازع میں کیوں الجھے ہوئے ہیں؟ ہم یہ کیوں نہیں پوچھتے: ہم کہاں ہیں؟ ہمارا منصوبہ کیا ہے؟ اور اس دنیا میں ہمارا مقام کیا ہے؟
عَمَّارِ بن أَبِي عَمَّارٍ سے روایت ہے کہ ابْنِ عَبَّاسٍ نے یہ آیت پڑھی: ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾ اور ان کے پاس ایک یہودی تھا، اس نے کہا اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بناتے۔ تو ابن عباس نے کہا: یہ آیت دو عیدوں کے دن نازل ہوئی: جمعہ اور عرفہ کا دن۔ اسے طبرانی نے اپنی معجم الکبیر میں روایت کیا ہے۔ تو اللہ کا شکر ہے اس نعمت پر: ہدایت کی نعمت اور دین کی تکمیل کی نعمت۔ وہ دین جو سراسر ہدایت، رحمت اور نور ہے، جو اس کو مضبوطی سے تھام لے وہ صراط مستقیم کی طرف ہدایت پا جاتا ہے۔
ارضِ مبارک: مسجد کا خطاب "امت کی حالت روپیضہ حکمرانوں کو ہٹائے بغیر درست نہیں ہو سکتی!"