فقہ

نمایاں مضمون

مع الحديث الشريف - ألا فليسعنا ما وسع المرأة

   آپ سبھی پیاروں کو ہر جگہ خوش آمدید کہتے ہیں، آپ کے پروگرام "مع الحدیث الشریف" کی ایک نئی قسط میں اور ہم بہترین سلام سے آغاز کرتے ہیں، تو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

مزید پڑھیں
مع الحديث النبوي الشريف - أربعٌ إذا كُنَّ فيك فلا عليك ما فاتك من الدنيا!!

مع الحديث النبوي الشريف - أربعٌ إذا كُنَّ فيك فلا عليك ما فاتك من الدنيا!!

نَحُيِّيكُمْ جَمِيعًا أيها الأَحِبَّةُ المُستَمِعُونَ الكِرَامَ فِي كُلِّ مَكَانٍ, نَلتَقِي بِكُمْ فِي حَلْقَةٍ جَدِيدَةٍ مِنْ بَرنَامَجِكُم "مَعَ الحَدِيثِ النَّبوِيِّ الشَّرِيفِ" وَنَبدَأ بِخَيرِ تَحِيَّةٍ وَأزكَى سَلامٍ, فَالسَّلامُ عَلَيكُمْ وَرَحمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ وَبَعدُ:

مع الحديث الشريف - بغیر علم کے اللہ پر قول کرنے کا گناہ

مع الحديث الشريف - بغیر علم کے اللہ پر قول کرنے کا گناہ

زہری نے عمرو بن شعیب سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو جھگڑتے ہوئے سنا تو فرمایا: "تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ انہوں نے کتاب اللہ کے بعض حصے کو بعض سے ٹکرایا، حالانکہ کتاب اللہ تو اس لیے نازل ہوئی ہے کہ اس کا بعض حصہ بعض کی تصدیق کرے، لہذا تم اس کے بعض حصے کی تکذیب نہ کرو، اس میں سے جو تم جانتے ہو وہ کہو اور جو تم نہیں جانتے اسے اس کے جاننے والے کی طرف لوٹا دو۔" اسے احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔

8 / 399