مع الحديث الشريف - ما كان لي ولبني عبد المطلب فهو لكم
آپ سبھی سامعین کرام کو ہر جگہ خوش آمدید کہتے ہیں، آپ کے پروگرام "مع الحدیث الشریف" کی نئی قسط میں اور بہترین تحیہ سے آغاز کرتے ہیں، فالسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ سبھی پیاروں کو ہر جگہ خوش آمدید کہتے ہیں، آپ کے پروگرام "مع الحدیث الشریف" کی ایک نئی قسط میں اور ہم بہترین سلام سے آغاز کرتے ہیں، تو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
مزید پڑھیں ←آپ سبھی سامعین کرام کو ہر جگہ خوش آمدید کہتے ہیں، آپ کے پروگرام "مع الحدیث الشریف" کی نئی قسط میں اور بہترین تحیہ سے آغاز کرتے ہیں، فالسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
نحییکم جمیعا ایھا الاحبة المستمعون فی کل مکان، فی حلقة جدیدة من برنامجکم "مع الحدیث الشریف" ونبدأ بخیر تحیة، فالسلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ۔
نَحُيِّيكُمْ جَمِيعًا أيها الأَحِبَّةُ المُستَمِعُونَ الكِرَامَ فِي كُلِّ مَكَانٍ, نَلتَقِي بِكُمْ فِي حَلْقَةٍ جَدِيدَةٍ مِنْ بَرنَامَجِكُم "مَعَ الحَدِيثِ النَّبوِيِّ الشَّرِيفِ" وَنَبدَأ بِخَيرِ تَحِيَّةٍ وَأزكَى سَلامٍ, فَالسَّلامُ عَلَيكُمْ وَرَحمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ وَبَعدُ:
زہری نے عمرو بن شعیب سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو جھگڑتے ہوئے سنا تو فرمایا: "تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ انہوں نے کتاب اللہ کے بعض حصے کو بعض سے ٹکرایا، حالانکہ کتاب اللہ تو اس لیے نازل ہوئی ہے کہ اس کا بعض حصہ بعض کی تصدیق کرے، لہذا تم اس کے بعض حصے کی تکذیب نہ کرو، اس میں سے جو تم جانتے ہو وہ کہو اور جو تم نہیں جانتے اسے اس کے جاننے والے کی طرف لوٹا دو۔" اسے احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
نحييكم جميعا أيها الأحبة المستمعون في كل مكان في حلقة جديدة من برنامجكم مع الحديث الشريف ونبدأ بخير تحية فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته ،
5- ہم آپ سبھی پیارے سامعین کو ہر جگہ خوش آمدید کہتے ہیں آپ کے پروگرام مع الحدیث الشریف کی ایک نئی قسط میں اور بہترین سلام سے آغاز کرتے ہیں، تو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
نحييكم جميعا أيها الأحبة المستمعون في كل مكان في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.
نُحَيِّيْكُمْ جميعاً أيُّها الأحبةُ في كُلِّ مَكَانٍ في حَلْقَةٍ جديدةٍ منْ برنامَجِكُمْ: مَعَ الْحديثِ الشريفِ، ونبدأُ بِخَيْرِ تحيةٍ فالسلامُ عليكُمْ ورحمةُ اللهِ وبركاتُهُ